یونیسیف اور ای پی آئی بلوچستان کے اشتراک سے صحافیوں کیلئے “مس انفارمیشن مینجمنٹ اور روٹین ایمونائزیشن” پر تربیتی ورکشاپ
ای پی آئی ہیڈکوارٹر کوئٹہ میں یونیسیف اور ای پی آئی بلوچستان کے تعاون سے بلوچستان کے 37 اضلاع سے تعلق رکھنے والے صحافیوں کیلئے “مس انفارمیشن مینجمنٹ اور روٹین ایمونائزیشن” کے موضوع پر ایک روزہ تربیتی ورکشاپ منعقد کی گئی۔ ورکشاپ کا مقصد صحافیوں کو حفاظتی ٹیکہ جات، صحتِ عامہ، فیکٹ چیکنگ اور سوشل میڈیا پر پھیلنے والی غلط معلومات کے اثرات سے آگاہ کرنا تھا۔ مقررین نے ذمہ دار صحافت اور مستند معلومات کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ میڈیا عوامی شعور بیدار کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ تقریب کے اختتام پر شرکاء میں تعریفی اسناد بھی تقسیم کی گئیں۔
ای پی آئی ہیڈکوارٹر کوئٹہ میں یونیسیف اور ای پی آئی بلوچستان کے اشتراک سے بلوچستان بھر سے تعلق رکھنے والے صحافیوں کے لیے “مس انفارمیشن مینجمنٹ اور روٹین ایمونائزیشن” کے موضوع پر ایک روزہ تربیتی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا۔
اس اہم اور معلوماتی ورکشاپ میں بلوچستان کے 37 اضلاع سے تعلق رکھنے والے سینئر صحافیوں نے شرکت کی، جہاں صحتِ عامہ اور ذمہ دار صحافت کے باہمی تعلق پر گفتگو کی گئی اس تربیتی نشست کا بنیادی مقصد صحافیوں کو حفاظتی ٹیکہ جات، روٹین ایمونائزیشن، صحت سے متعلق عوامی آگاہی اور سوشل میڈیا پر پھیلنے والی غلط معلومات و افواہوں کے اثرات سے آگاہ کرنا تھا۔ورکشاپ سے ای پی آئی بلوچستان کے صوبائی کوآرڈینیٹر ڈاکٹر آفتاب حسین کاکڑ، ضیاء الرحمن سمالانی، ڈاکٹر نور گچکی اور مس زویا نے خطاب کیا۔ مقررین نے اپنے لیکچرز میں مس انفارمیشن، ڈس انفارمیشن اور افواہوں کے معاشرتی اثرات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ غیر مصدقہ خبریں نہ صرف عوام میں خوف و ہراس پیدا کرتی ہیں بلکہ صحتِ عامہ کے اہم پروگراموں کو بھی متاثر کرتی ہیں۔مقررین کا کہنا تھا کہ میڈیا معاشرے کی فکری رہنمائی کا اہم ذریعہ ہے، اس لیے صحافیوں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ تحقیق، تصدیق اور حقائق کی بنیاد پر رپورٹنگ کو فروغ دیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ روٹین ایمونائزیشن پروگرام بچوں کو مختلف خطرناک بیماریوں سے محفوظ رکھنے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے، جبکہ ویکسین سے متعلق پھیلائی جانے والی بے بنیاد باتیں عوام میں شکوک و شبہات کو جنم دیتی ہیں۔ورکشاپ کے دوران شرکاء کو فیکٹ چیکنگ، ذمہ دارانہ صحافت، صحت سے متعلق خبروں کی تصدیق اور عوام میں شعور بیدار کرنے کے جدید طریقہ کار سے بھی آگاہ کیا گیا۔ مقررین نے اس امر پر زور دیا کہ صحافی سوشل میڈیا، الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا کے ذریعے مثبت اور مستند معلومات کو فروغ دے کر معاشرے میں مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔تقریب کے اختتام پر ورکشاپ میں شریک صحافیوں میں تعریفی اسناد تقسیم کی گئیں۔ شرکاء سے اپیل کی گئی کہ وہ صحتِ عامہ، حفاظتی ٹیکہ جات اور مس انفارمیشن کے خلاف آگاہی مہم میں بھرپور کردار ادا کریں، تاکہ عوام میں شعور بیدار ہو اور افواہوں و غلط معلومات کے پھیلاؤ کا مؤثر سدباب ممکن بنایا جا سکے۔

Keywords: UNICEF, EPI Balochistan, Routine Immunization, Balochistan news