فرسٹ ایڈ نہ ملے تو چوٹ کے لیے یہ آسان گھریلو ٹوٹکا مددگار ثابت ہو سکتا ہے
جسم کے کسی بھی حصے پر کسی بھی وقت چوٹ یا زخم لگ سکتا ہے، چاہے انسان کھیل کے دوران ہو یا روزمرہ کے کام انجام دے رہا ہو۔ ایسے مواقع پر بعض اوقات فوری طور پر فرسٹ ایڈ یا مرہم دستیاب نہیں ہوتا، جس کی وجہ سے تکلیف بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے۔ ماہرین صحت کے مطابق چوٹ لگنے کی صورت میں سب سے پہلا قدم یہ ہونا چاہیے کہ صاف کپڑے کی مدد سے خون کو روکا جائے، پھر زخم کو صاف پانی سے اچھی طرح دھو کر اس میں موجود مٹی یا گندگی کو نکالا جائے، اور اگر ممکن ہو تو جراثیم کش دوا استعمال کی جائے اور بعد ازاں ڈاکٹر سے رجوع کیا جائے۔ تاہم بعض حالات میں جب فوری طور پر کوئی دوا یا کریم دستیاب نہ ہو تو گھریلو سطح پر ایک سادہ سا روایتی نسخہ عارضی طور پر مدد فراہم کر سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق زخم کو صاف پانی سے دھونے کے بعد اس پر چند قطرے خالص شہد لگائے جائیں اور اس کے بعد تھوڑی سی مقدار میں دیسی گھی لگاکر چھوڑ دیا جائے۔ روایتی طور پر شہد کو قدرتی جراثیم کش خصوصیات کا حامل سمجھا جاتا ہے جبکہ دیسی گھی جلد کو نرم رکھنے میں مدد دے سکتا ہے، جس سے وقتی طور پر جلن اور تکلیف میں کمی محسوس ہو سکتی ہے۔ ماہرین واضح کرتے ہیں کہ یہ گھریلو ٹوٹکا صرف ہلکی نوعیت کی چوٹ یا زخم کے لیے عارضی مدد کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے، جبکہ گہرے، زیادہ خون بہنے والے یا انفیکشن کے خطرے والے زخم کی صورت میں فوری طور پر ڈاکٹر یا قریبی طبی مرکز سے رجوع کرنا نہایت ضروری ہے۔ صحت کے مسائل میں احتیاط اور بروقت طبی مشورہ ہی بہترین حل ہے۔
فرسٹ ایڈ نہ ملے تو چوٹ کے لیے یہ آسان گھریلو ٹوٹکا مددگار ثابت ہو سکتا ہے
رپورٹ: اقصی بلوچ
جسم کے کسی بھی حصے پر کسی بھی وقت چوٹ یا زخم لگ سکتا ہے، چاہے انسان کھیل کے دوران ہو یا روزمرہ کے کام انجام دے رہا ہو۔ ایسے مواقع پر بعض اوقات فوری طور پر فرسٹ ایڈ یا مرہم دستیاب نہیں ہوتا، جس کی وجہ سے تکلیف بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے۔ ماہرین صحت کے مطابق چوٹ لگنے کی صورت میں سب سے پہلا قدم یہ ہونا چاہیے کہ صاف کپڑے کی مدد سے خون کو روکا جائے، پھر زخم کو صاف پانی سے اچھی طرح دھو کر اس میں موجود مٹی یا گندگی کو نکالا جائے، اور اگر ممکن ہو تو جراثیم کش دوا استعمال کی جائے اور بعد ازاں ڈاکٹر سے رجوع کیا جائے۔

تاہم بعض حالات میں جب فوری طور پر کوئی دوا یا کریم دستیاب نہ ہو تو گھریلو سطح پر ایک سادہ سا روایتی نسخہ عارضی طور پر مدد فراہم کر سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق زخم کو صاف پانی سے دھونے کے بعد اس پر چند قطرے خالص شہد لگائے جائیں اور اس کے بعد تھوڑی سی مقدار میں دیسی گھی لگاکر چھوڑ دیا جائے۔ روایتی طور پر شہد کو قدرتی جراثیم کش خصوصیات کا حامل سمجھا جاتا ہے جبکہ دیسی گھی جلد کو نرم رکھنے میں مدد دے سکتا ہے، جس سے وقتی طور پر جلن اور تکلیف میں کمی محسوس ہو سکتی ہے۔
ماہرین واضح کرتے ہیں کہ یہ گھریلو ٹوٹکا صرف ہلکی نوعیت کی چوٹ یا زخم کے لیے عارضی مدد کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے، جبکہ گہرے، زیادہ خون بہنے والے یا انفیکشن کے خطرے والے زخم کی صورت میں فوری طور پر ڈاکٹر یا قریبی طبی مرکز سے رجوع کرنا نہایت ضروری ہے۔ صحت کے مسائل میں احتیاط اور بروقت طبی مشورہ ہی بہترین حل ہے۔