بلوچستان اسمبلی کی پی اے سی کا اجلاس، سیف سٹی منصوبے اور محکموں میں مالی بے ضابطگیوں پر سخت نوٹس
کوئٹہ : بلوچستان اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کا اجلاس چیئرمین اصغر علی ترین کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں کوئٹہ سیف سٹی پراجیکٹ، محکمہ جیل خانہ جات اور محکمہ اطلاعات کے آڈٹ پیراز پر غور کیا گیا۔ اجلاس میں سیف سٹی پراجیکٹ کے غیر قانونی ٹھیکوں، قواعد کی خلاف ورزی اور 9 ارب روپے کے اخراجات پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔ چیئرمین پی اے سی نے بتایا کہ 800 میں سے 600 کیمرے غیر فعال ہیں، جس سے منصوبہ ناکام ہوا۔ کمیٹی نے ایک ماہ میں انکوائری کا حکم دیا اور خبردار کیا کہ غیر تسلی بخش جواب کی صورت میں کیس نیب کو بھیجا جائے گا۔ محکمہ جیل خانہ جات کے 11.3 ملین روپے کے ٹیکس نقصان پر کمیٹی نے برہمی کا اظہار کیا اور ایک ہفتے میں رپورٹ طلب کی، جبکہ جیلوں میں سہولیات اور عملے کی تنخواہوں میں بہتری کی سفارش کی گئی۔ محکمہ اطلاعات کی جانب سے 424.7 ملین روپے اشتہارات پر خرچ کیے گئے، مگر 56.5 ملین روپے کا ٹیکس نہیں کاٹا گیا، جس پر کمیٹی نے سخت نوٹس لیا اور 15 دن کے اندر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔ چیئرمین اصغر علی ترین نے کہا کہ پی اے سی شفافیت اور مالی نظم و ضبط کے فروغ کے لیے پرعزم ہے اور کسی بھی بے ضابطگی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
بلوچستان اسمبلی کی پی اے سی کا اجلاس، سیف سٹی منصوبے اور محکموں میں مالی بے ضابطگیوں پر سخت نوٹس
کوئٹہ : بلوچستان اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کا اجلاس چیئرمین اصغر علی ترین کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں کوئٹہ سیف سٹی پراجیکٹ، محکمہ جیل خانہ جات اور محکمہ اطلاعات کے آڈٹ پیراز پر غور کیا گیا۔
اجلاس میں سیف سٹی پراجیکٹ کے غیر قانونی ٹھیکوں، قواعد کی خلاف ورزی اور 9 ارب روپے کے اخراجات پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔ چیئرمین پی اے سی نے بتایا کہ 800 میں سے 600 کیمرے غیر فعال ہیں، جس سے منصوبہ ناکام ہوا۔ کمیٹی نے ایک ماہ میں انکوائری کا حکم دیا اور خبردار کیا کہ غیر تسلی بخش جواب کی صورت میں کیس نیب کو بھیجا جائے گا۔
محکمہ جیل خانہ جات کے 11.3 ملین روپے کے ٹیکس نقصان پر کمیٹی نے برہمی کا اظہار کیا اور ایک ہفتے میں رپورٹ طلب کی، جبکہ جیلوں میں سہولیات اور عملے کی تنخواہوں میں بہتری کی سفارش کی گئی۔
محکمہ اطلاعات کی جانب سے 424.7 ملین روپے اشتہارات پر خرچ کیے گئے، مگر 56.5 ملین روپے کا ٹیکس نہیں کاٹا گیا، جس پر کمیٹی نے سخت نوٹس لیا اور 15 دن کے اندر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔
چیئرمین اصغر علی ترین نے کہا کہ پی اے سی شفافیت اور مالی نظم و ضبط کے فروغ کے لیے پرعزم ہے اور کسی بھی بے ضابطگی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔