بلوچیتھیریم , زمین پر چلنے والا سب سے بڑا ممالیہ

بلوچیتھیریم , زمین پر چلنے والا سب سے بڑا ممالیہ

پیراسیریتھیرئم، جسے تاریخی طور پر Baluchitherium بھی کہا جاتا ہے، اب تک دریافت ہونے والا سب سے بڑا زمینی ممالیہ تھا۔ یہ بے سنگ گینڈے کی نسل سے تعلق رکھنے والا دیوہیکل جانور تقریباً 34 سے 23 ملین سال قبل ایشیا کے وسیع علاقوں میں پایا جاتا تھا۔ بلوچستان کے بگٹی ہلز سے ملنے والی اس کی باقیات نے دنیا بھر میں اسے ایک تاریخی اہمیت دی۔ 7.5 سے 8 میٹر اونچا اور تقریباً 20 ٹن وزنی یہ جانور اونچے درختوں کے پتے کھا کر زندہ رہتا تھا اور اپنی منفرد جسمانی ساخت کے باعث ڈائنوسارز کے بعد زمین کا سب سے بڑا چرندہ سمجھا جاتا ہے۔ اس کا سائنسی نام آج Paraceratherium تسلیم کیا جاتا ہے۔

دنیا کا سب سے بڑا زمینی جانور  پیراسیریتھیرئم (Baluchitherium)

تحریر : سیدہ نتاشا

قدیم دنیا کے دیو قامت جانوروں کی تاریخ میں ایک نام سب سے نمایاں ہے پیراسیریتھیرئم۔ یہ وہی عظیم الجثہ ممالیہ ہے جسے برسوں تک Baluchitherium کے نام سے جانا جاتا رہا، خاص طور پر جنوبی ایشیا اور بلوچستان میں۔ جدید تحقیق نے اب واضح کر دیا ہے کہ صحیح سائنسی نام Paraceratherium ہے، لیکن اس کے باوجود “بلوچیتھیرئم” عوامی یادداشت میں آج بھی زندہ ہے۔
یہ حیران کن جانور اب تک دریافت ہونے والا زمین کا سب سے بڑا ممالیہ سمجھا جاتا ہے . ایک ایسا بے سنگ گینڈا، جو ڈائنوسارز کے بعد زمین پر گھومنے والی سب سے بڑی مخلوق تھا۔


تاریخی طور پر اس جانور کا پہلی بار نام Baluchitherium grangeri رکھا گیا۔ 1913 میں بلوچستان کے بگٹی ہلز سے ملنے والی ہڈیوں نے دنیا بھر کے محققین کی توجہ کھینچ لی۔ بعد میں وسطی ایشیا اور چین سے ملنے والی دریافتوں سے معلوم ہوا کہ Indricotherium، Baluchitherium اور Paraceratherium سب ایک ہی جینس کے مختلف نام ہیں۔
آج حیاتیات کی دنیا اس دیو ہیکل جانور کو Paraceratherium کے نام سے تسلیم کرتی ہے۔
اگر پیراسیریتھیرئم آج زندہ ہوتا، تو کسی بھی ہاتھی یا  زرافے  کے سامنے دیو کی طرح دکھائی دیتا۔ اس کا جسم اتنا بڑا تھا کہ عام درختوں کی چھال اور بلندی تک کے پتے اس کی خوراک بنتے تھے۔
 اسکی اونچائی کندھوں تک  تقریباً 5 میٹر اور سر کی اونچائی 7.5 سے 8 میٹرجبکہ 
جسمانی لمبائی تقریباً 8 میٹر تھی۔ 
اور وزن 15 سے 20 ٹن ، بعض اندازے 22 ٹن بتایا جاتا ہے۔
یہ ایک ایسا ممالیہ تھا جس کی جسامت کئی ڈائنوسارز کے برابر تو تھی، مگر وزن نسبتاً کم تھا، کیونکہ وہ جسمانی ساخت میں قدرے باریک اور لمبا تھا۔
اس جانور کی ساخت بالکل منفرد تھی کھوپڑی لمبی اور بغیر سنگ والی ناک کے حصے میں ابھار، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ شاید اس کے پاس ٹپیئر جیسا نرم، لچک دار اوپری ہونٹ تھا، لمبی مضبوط گردن جس سے اونچائی پر موجود پتے آسانی سے توڑ لیتا تھا۔ ستون نما مگر لمبی ٹانگیں، 
دانت نرم پتوں کو چبانے کے لیے موزوں، لیکن گھاس کے لیے نہیں یہ بڑا مگر نرم مزاج چرندہ گھنے جنگلات اور جھاڑیوں میں رہتا ہوگا، جہاں اونچے درخت اس کی بنیادی خوراک تھے۔
پیراسیریتھیرئم بھاری جسم کے باعث تیز رفتار جانور نہیں تھا۔ یہ زیادہ تر آہستہ چلتا اور غالباً چھوٹے گروہوں میں رہتا تھا، تاہم بعض شواہد اسے تنہا رہنے والا جانور بھی قرار دیتے ہیں۔
ماہرین کا خیال ہے کہ یہ ہاتھی کی طرح ایک ہی بڑا بچہ پیدا کرتا تھا اور اس کی افزائش کا دورانیہ بھی بہت طویل ہوتا تھا۔ 
یہ جانور اواخر اولیگوسین سے ابتدائی میوسین (تقریباً 34 سے 23 ملین سال قبل) تک زمین پر موجود رہا۔
اس کی باقیات بلوچستان (پاکستان)،چین، منگولیا، قازقستان، ترکی اور مشرقی یورپ جیسے وسیع علاقوں سے دریافت ہو چکی ہیں، جو اس کی وسیع تر قدرتی سلطنت کا ثبوت ہے۔

Paraceratherium transouralicum سب سے بڑی قسم، چین و قازقستان

Paraceratherium bugtiense  بلوچستان کی مشہور قسم، تاریخی Baluchitherium

Paraceratherium orgosensis  منگولیا و چین
Paraceratherium linxiaense 2021 میں چین سے دریافت ہونے والی ایک شاندار نئی شناخت

1907–08 میں  بگٹی ہلز سے  اسکی پہلی ہڈیاں دریافت ہوئیں۔ 
1913 میں اسکا نام Baluchitherium تجویز کیا گیا۔
1920–50 میں  منگولیا سے دریافتوں کو Indricotherium کہا گیا۔ 
بعدازاں تحقیق نے ثابت کیا کہ تینوں نام ایک ہی دیو قامت جینس کے ہیں ۔ 
دنیا کے کئی بڑے میوزیم اس دیو جانور کے کنکالوں کو فخر سے پیش کرتے ہیں۔
ماسکو کا Indricotherium ڈھانچہ  دنیا کے سب سے زیادہ فوٹوگراف کیے جانے والے فوسلز میں شمار ہوتا ہے۔ 
تقریباً 23 سے 20 ملین سال قبل یہ جانور زمین سے غائب ہو گیا۔  جسکی ممکنہ وجوہات
موسمی تبدیلی ،جنگلات کی کمی اور گھاس کے میدانوں کا پھیلاؤ،خوراک میں کمی اور دیگر بڑے چرندوں سے مقابلہ تھا۔ 
اگرچہ سائنسی دنیا آج اسے Paraceratherium کہتی ہے، مگر “Baluchitherium” کا نام آج بھی مقبول ہے۔
بلوچستان کی سرزمین سے وابستگی نے اسے ایک خاص تاریخی و جذباتی اہمیت دی ہے۔
پیراسیریتھیرئم ہماری زمین کے قدیم ترین اور طاقتور ترین ممالیہ میں سے ایک تھا ۔ ایک ایسا بے ضرر دیو، جو کبھی زمین کے وسیع جنگلات میں خاموشی سے پتے چرتا تھا۔
آج اس کے باقیات ہمیں یہ احساس دلاتے ہیں کہ زمین کی تاریخ میں کیسے عظیم جانور ابھرے، پھلے اور پھر ہمیشہ کے لیے معدوم ہو گئے۔
یہ بلوچستان اور پوری انسانیت کی طبعی تاریخ کا ایک سنہرا اور حیرت انگیز باب ہے۔


Related News

Battle of Truth — A Glorious Symbol of Unity, Sacrifice, and National Resolve
Battle of Truth — A Glorious Symbol of Unity, Sacrifice, and National Resolve
Nature’s Speed Master: How the Peregrine Falcon Inspired Modern Aviation
Nature’s Speed Master: How the Peregrine Falcon Inspired Modern Aviation
Viking Civilization: Between Myth, Reality, and Historical Narrati
Viking Civilization: Between Myth, Reality, and Historical Narrati
More Trees on Earth Than Stars in the Milky Way: A Surprising Scientific Discovery
More Trees on Earth Than Stars in the Milky Way: A Surprising Scientific Discovery
Stevia: A Natural Sweetness for Better Health
Stevia: A Natural Sweetness for Better Health
Ching Shih – The Most Powerful Female Pirate in History
Ching Shih – The Most Powerful Female Pirate in History