چین نے چاند کے وقت کے تعین کے لیے دنیا کی پہلی گھڑی تیار کر لی
چین نے چاند پر وقت معلوم کرنے کے لیے دنیا کا پہلا جدید ٹائم کیپنگ سافٹ ویئر تیار کر لیا ہے، جو مستقبل میں چاند پر لینڈنگ، نیویگیشن اور خلائی مشنز کے لیے اہم کردار ادا کرے گا۔ ماہرین کے مطابق چاند پر کششِ ثقل زمین کے مقابلے میں کم ہے، جس کی وجہ سے وہاں گھڑیاں زمین کی گھڑیوں سے قدرے تیز چلتی ہیں۔ یہ فرق روزانہ تقریباً 56 مائیکرو سیکنڈ کا ہوتا ہے۔ اگرچہ یہ فرق بہت معمولی ہے، لیکن وقت کے ساتھ بڑھ کر نیویگیشن اور لینڈنگ جیسے حساس کاموں میں مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔ چینی محققین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں جب چاند پر مشنز کی تعداد بڑھے گی اور وہاں مستقل سرگرمیاں ہوں گی، تو زمینی وقت پر انحصار کرنا قابلِ عمل نہیں رہے گا۔ اسی ضرورت کے پیشِ نظر یہ نیا سافٹ ویئر تیار کیا گیا ہے۔ اس سافٹ ویئر کو لونر ٹائم ایفیمیرس کہا جاتا ہے، جو زمین اور چاند کے وقت کے درمیان فرق کو آسان طریقے سے ظاہر کرتا ہے۔ اس کی مدد سے صارفین بغیر کسی پیچیدہ حساب کتاب کے دونوں مقامات کے وقت کا درست موازنہ کر سکتے ہیں۔ یہ منصوبہ نانجنگ میں واقع پرپل ماؤنٹین آبزرویٹری کے سائنس دانوں نے تیار کیا ہے۔ محققین کے مطابق یہ ماڈل انتہائی درست ہے اور ایک ہزار سال کے عرصے میں بھی اس میں صرف چند نینو سیکنڈ کا فرق آ سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ماضی میں چاند کے مشنز کم ہونے کی وجہ سے زمینی وقت ہی استعمال کیا جاتا تھا، لیکن اب یہ طریقہ مؤثر نہیں رہا۔ جیسے جیسے چاند پر خلائی جہازوں اور انسانوں کی موجودگی بڑھے گی، ایک الگ اور درست وقت کے نظام کی ضرورت مزید بڑھتی جائے گی۔ چینی سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ سافٹ ویئر ایک ابتدائی قدم ہے اور مستقبل میں چاند پر گھڑیوں کے مکمل نیٹ ورک اور ریئل ٹائم نیویگیشن کے لیے اس میں مزید بہتری لائی جائے گی۔
چین نے چاند کے وقت کے تعین کے لیے دنیا کی پہلی گھڑی تیار کر لی
رپورٹ: اقصی بلوچ
چین نے چاند پر وقت معلوم کرنے کے لیے دنیا کا پہلا جدید ٹائم کیپنگ سافٹ ویئر تیار کر لیا ہے، جو مستقبل میں چاند پر لینڈنگ، نیویگیشن اور خلائی مشنز کے لیے اہم کردار ادا کرے گا۔
ماہرین کے مطابق چاند پر کششِ ثقل زمین کے مقابلے میں کم ہے، جس کی وجہ سے وہاں گھڑیاں زمین کی گھڑیوں سے قدرے تیز چلتی ہیں۔ یہ فرق روزانہ تقریباً 56 مائیکرو سیکنڈ کا ہوتا ہے۔ اگرچہ یہ فرق بہت معمولی ہے، لیکن وقت کے ساتھ بڑھ کر نیویگیشن اور لینڈنگ جیسے حساس کاموں میں مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔
چینی محققین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں جب چاند پر مشنز کی تعداد بڑھے گی اور وہاں مستقل سرگرمیاں ہوں گی، تو زمینی وقت پر انحصار کرنا قابلِ عمل نہیں رہے گا۔ اسی ضرورت کے پیشِ نظر یہ نیا سافٹ ویئر تیار کیا گیا ہے۔
اس سافٹ ویئر کو لونر ٹائم ایفیمیرس کہا جاتا ہے، جو زمین اور چاند کے وقت کے درمیان فرق کو آسان طریقے سے ظاہر کرتا ہے۔ اس کی مدد سے صارفین بغیر کسی پیچیدہ حساب کتاب کے دونوں مقامات کے وقت کا درست موازنہ کر سکتے ہیں۔
یہ منصوبہ نانجنگ میں واقع پرپل ماؤنٹین آبزرویٹری کے سائنس دانوں نے تیار کیا ہے۔ محققین کے مطابق یہ ماڈل انتہائی درست ہے اور ایک ہزار سال کے عرصے میں بھی اس میں صرف چند نینو سیکنڈ کا فرق آ سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق ماضی میں چاند کے مشنز کم ہونے کی وجہ سے زمینی وقت ہی استعمال کیا جاتا تھا، لیکن اب یہ طریقہ مؤثر نہیں رہا۔ جیسے جیسے چاند پر خلائی جہازوں اور انسانوں کی موجودگی بڑھے گی، ایک الگ اور درست وقت کے نظام کی ضرورت مزید بڑھتی جائے گی۔
چینی سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ سافٹ ویئر ایک ابتدائی قدم ہے اور مستقبل میں چاند پر گھڑیوں کے مکمل نیٹ ورک اور ریئل ٹائم نیویگیشن کے لیے اس میں مزید بہتری لائی جائے گی۔