چین نے اے آئی شعبے کا حجم 10 کھرب یوآن تک بڑھانے کا ہدف مقرر کر لیا
چین نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے شعبے میں بڑی پیش رفت کے لیے نیا منصوبہ متعارف کرا دیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت چین نے اگلے دو سال میں اپنے اے آئی شعبے کے مالیاتی حجم کو 10 کھرب یوآن سے زیادہ کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ خبر ایجنسی کے مطابق چین کا مقصد 2027 تک بنیادی اے آئی ٹیکنالوجیز میں عالمی سطح پر برتری حاصل کرنا ہے۔ اس کے لیے حکومت کی جانب سے ایک جامع عملی منصوبہ تیار کیا گیا ہے، جس میں اے آئی صنعت کے مختلف شعبوں پر توجہ دی جائے گی۔ منصوبے کے تحت تکنیکی جدت کو خاص اہمیت دی گئی ہے، جبکہ تحقیق، معیاری ڈیٹا کی دستیابی اور مختلف شعبوں میں اے آئی کے استعمال کو فروغ دینے پر بھی زور دیا جائے گا۔ اس کے علاوہ باصلاحیت افراد کو متوجہ کرنے، طویل مدتی سرمایہ کاری بڑھانے اور اوپن سورس اے آئی نظام کی حمایت کے اقدامات بھی شامل کیے گئے ہیں۔ بیجنگ میونسپل کمیشن آف ڈویلپمنٹ اینڈ ریفارم کے ڈائریکٹر یانگ شیولنگ کے مطابق منصوبے میں مقامی سطح پر تیار کردہ اے آئی کمپیوٹنگ کلسٹر کی تعمیر بھی شامل ہے، جس میں ایک لاکھ سے زائد چپس استعمال کی جائیں گی۔ اس کے ساتھ ساتھ 10 سے زائد نئی اے آئی کمپنیوں کو اسٹاک مارکیٹ میں لانے اور 20 سے زائد یونیکورن کمپنیوں کو فروغ دینے کا ہدف بھی رکھا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق چین میں اے آئی شعبہ تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔ چین اکیڈمی آف انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی کا کہنا ہے کہ ستمبر 2025 تک چین میں اے آئی سے وابستہ کمپنیوں کی تعداد 5300 سے تجاوز کر چکی ہے، جو دنیا بھر میں موجود ایسی کمپنیوں کا تقریباً 15 فیصد بنتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ اقدامات چین کو مستقبل میں مصنوعی ذہانت کے میدان میں ایک مضبوط عالمی طاقت بنانے میں مدد دے سکتے ہیں۔
چین نے اے آئی شعبے کا حجم 10 کھرب یوآن تک بڑھانے کا ہدف مقرر کر لیا
رپورٹ: اقصی بلوچ
چین نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے شعبے میں بڑی پیش رفت کے لیے نیا منصوبہ متعارف کرا دیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت چین نے اگلے دو سال میں اپنے اے آئی شعبے کے مالیاتی حجم کو 10 کھرب یوآن سے زیادہ کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔

خبر ایجنسی کے مطابق چین کا مقصد 2027 تک بنیادی اے آئی ٹیکنالوجیز میں عالمی سطح پر برتری حاصل کرنا ہے۔ اس کے لیے حکومت کی جانب سے ایک جامع عملی منصوبہ تیار کیا گیا ہے، جس میں اے آئی صنعت کے مختلف شعبوں پر توجہ دی جائے گی۔
منصوبے کے تحت تکنیکی جدت کو خاص اہمیت دی گئی ہے، جبکہ تحقیق، معیاری ڈیٹا کی دستیابی اور مختلف شعبوں میں اے آئی کے استعمال کو فروغ دینے پر بھی زور دیا جائے گا۔
اس کے علاوہ باصلاحیت افراد کو متوجہ کرنے، طویل مدتی سرمایہ کاری بڑھانے اور اوپن سورس اے آئی نظام کی حمایت کے اقدامات بھی شامل کیے گئے ہیں۔
بیجنگ میونسپل کمیشن آف ڈویلپمنٹ اینڈ ریفارم کے ڈائریکٹر یانگ شیولنگ کے مطابق منصوبے میں مقامی سطح پر تیار کردہ اے آئی کمپیوٹنگ کلسٹر کی تعمیر بھی شامل ہے، جس میں ایک لاکھ سے زائد چپس استعمال کی جائیں گی۔ اس کے ساتھ ساتھ 10 سے زائد نئی اے آئی کمپنیوں کو اسٹاک مارکیٹ میں لانے اور 20 سے زائد یونیکورن کمپنیوں کو فروغ دینے کا ہدف بھی رکھا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق چین میں اے آئی شعبہ تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔ چین اکیڈمی آف انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی کا کہنا ہے کہ ستمبر 2025 تک چین میں اے آئی سے وابستہ کمپنیوں کی تعداد 5300 سے تجاوز کر چکی ہے، جو دنیا بھر میں موجود ایسی کمپنیوں کا تقریباً 15 فیصد بنتا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ اقدامات چین کو مستقبل میں مصنوعی ذہانت کے میدان میں ایک مضبوط عالمی طاقت بنانے میں مدد دے سکتے ہیں۔