ڈنمارک بھی کم عمر بچوں پر سوشل میڈیا پابندی لگانے کے قریب
آسٹریلیا کے بعد اب ڈنمارک بھی کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی لگانے کی تیاری کر رہا ہے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق ڈنمارک کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ 15 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی لگانے کی تجویز زیرِ غور ہے۔ یہ اقدام یورپی یونین میں نوعمروں کے سوشل میڈیا استعمال کو محدود کرنے کی ایک بڑی پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق یہ تجویز حکومتی اور اپوزیشن جماعتوں کی حمایت حاصل کر چکی ہے، اور منظوری کی صورت میں یہ قانون 2026 تک نافذ کیا جا سکتا ہے۔ مجوزہ قانون کے تحت والدین 13 سال یا اس سے زیادہ عمر کے بچوں کو سوشل میڈیا استعمال کی اجازت دے سکیں گے، تاہم 13 سال سے کم عمر بچوں کو خود سے سوشل میڈیا اکاؤنٹ بنانے کی اجازت نہیں ہوگی۔ حکام کے مطابق ڈنمارک میں 13 سال سے کم عمر تقریباً 98 فیصد بچے پہلے ہی سوشل میڈیا اکاؤنٹس استعمال کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے قوانین پر عمل درآمد ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ ڈنمارک کی وزیر برائے ڈیجیٹل امور، کیرولین اسٹیج کا کہنا ہے کہ جس طرح حقیقی دنیا میں عمر کے حساب سے پابندیاں ہوتی ہیں، اسی طرح ڈیجیٹل دنیا میں بھی نگرانی ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آن لائن دنیا میں بچوں کی حفاظت کے لیے کوئی باڈی گارڈ موجود نہیں، اس لیے حکومتی اقدامات ناگزیر ہیں۔ رپورٹس میں یہ خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ پابندی کے باعث نوجوان اپنے آن لائن دوستوں سے رابطہ برقرار نہ رکھ سکیں گے، تاہم کئی والدین نے اس فیصلے کی حمایت کی ہے۔ عمر کی تصدیق کے لیے ڈنمارک حکومت ایک ڈیجیٹل شناختی ایپ متعارف کرانے کا ارادہ رکھتی ہے، جس کے ذریعے صارفین کی عمر کی تصدیق کر کے پابندی پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے گا۔
ڈنمارک بھی کم عمر بچوں پر سوشل میڈیا پابندی لگانے کے قریب
رپورٹ : اقصی بلوچ
آسٹریلیا کے بعد اب ڈنمارک بھی کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی لگانے کی تیاری کر رہا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق ڈنمارک کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ 15 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی لگانے کی تجویز زیرِ غور ہے۔ یہ اقدام یورپی یونین میں نوعمروں کے سوشل میڈیا استعمال کو محدود کرنے کی ایک بڑی پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق یہ تجویز حکومتی اور اپوزیشن جماعتوں کی حمایت حاصل کر چکی ہے، اور منظوری کی صورت میں یہ قانون 2026 تک نافذ کیا جا سکتا ہے۔
مجوزہ قانون کے تحت والدین 13 سال یا اس سے زیادہ عمر کے بچوں کو سوشل میڈیا استعمال کی اجازت دے سکیں گے، تاہم 13 سال سے کم عمر بچوں کو خود سے سوشل میڈیا اکاؤنٹ بنانے کی اجازت نہیں ہوگی۔
حکام کے مطابق ڈنمارک میں 13 سال سے کم عمر تقریباً 98 فیصد بچے پہلے ہی سوشل میڈیا اکاؤنٹس استعمال کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے قوانین پر عمل درآمد ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔
ڈنمارک کی وزیر برائے ڈیجیٹل امور، کیرولین اسٹیج کا کہنا ہے کہ جس طرح حقیقی دنیا میں عمر کے حساب سے پابندیاں ہوتی ہیں، اسی طرح ڈیجیٹل دنیا میں بھی نگرانی ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آن لائن دنیا میں بچوں کی حفاظت کے لیے کوئی باڈی گارڈ موجود نہیں، اس لیے حکومتی اقدامات ناگزیر ہیں۔
رپورٹس میں یہ خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ پابندی کے باعث نوجوان اپنے آن لائن دوستوں سے رابطہ برقرار نہ رکھ سکیں گے، تاہم کئی والدین نے اس فیصلے کی حمایت کی ہے۔
عمر کی تصدیق کے لیے ڈنمارک حکومت ایک ڈیجیٹل شناختی ایپ متعارف کرانے کا ارادہ رکھتی ہے، جس کے ذریعے صارفین کی عمر کی تصدیق کر کے پابندی پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے گا۔

