ڈولفن اور کلر وہیل دشمن نہیں؟ نئی سائنسی تحقیق نے حیران کر دیا

 ڈولفن اور کلر وہیل دشمن نہیں؟ نئی سائنسی تحقیق نے حیران کر دیا

ایک نئی سائنسی تحقیق نے سمندری دنیا کے بارے میں ہماری سوچ بدل کر رکھ دی ہے۔ تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ ڈولفن اور کلر وہیل، جنہیں عام طور پر ایک دوسرے کا جانی دشمن سمجھا جاتا ہے، حقیقت میں بعض علاقوں میں مل کر شکار کرتی ہیں۔ یہ حیران کن تحقیق عالمی شہرت یافتہ سائنسی جریدے Scientific Reports میں شائع ہوئی ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ کینیڈا کے ساحلی علاقے میں ڈولفن اور کلر وہیل کو ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے دیکھا گیا۔ تحقیق کے دوران سائنس دانوں نے ڈرون کیمروں اور خصوصی آلات کی مدد سے مناظر ریکارڈ کیے۔ ان مناظر میں دیکھا گیا کہ ڈولفن اور کلر وہیل ایک ساتھ سمندر کی گہرائی میں جا کر سالمن مچھلی کا شکار کرتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق ڈولفن شکار کے دوران کلر وہیل کی مدد کرتی ہیں کیونکہ دونوں جانور ایکو لوکیشن کے ذریعے مچھلی کا سراغ لگاتے ہیں۔ اس تعاون سے کلر وہیل کی توانائی بچتی ہے اور شکار آسان ہو جاتا ہے۔ دوسری جانب ڈولفن کو بھی اس دوستی کا فائدہ ملتا ہے۔ شکار کے بعد وہ مچھلی کے بچے ہوئے ٹکڑے کھا لیتی ہیں اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ انہیں ان خطرناک کلر وہیل سے تحفظ مل جاتا ہے جو عام طور پر ڈولفن کا شکار کرتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دو طاقتور شکاری ممالیہ جانوروں کا اس طرح مل کر شکار کرنا قدرت میں بہت کم دیکھا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس تحقیق کو سمندری حیات کے بارے میں ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ دریافت اس بات کا ثبوت ہے کہ فطرت میں دشمن سمجھے جانے والے جانور بھی حالات کے مطابق ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کر سکتے ہیں۔

 ڈولفن اور کلر وہیل دشمن نہیں؟ نئی سائنسی تحقیق نے حیران کر دیا

رپورٹ : اقصی بلوچ

ایک نئی سائنسی تحقیق نے سمندری دنیا کے بارے میں ہماری سوچ بدل کر رکھ دی ہے۔ تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ ڈولفن اور کلر وہیل، جنہیں عام طور پر ایک دوسرے کا جانی دشمن سمجھا جاتا ہے، حقیقت میں بعض علاقوں میں مل کر شکار کرتی ہیں۔


یہ حیران کن تحقیق عالمی شہرت یافتہ سائنسی جریدے Scientific Reports میں شائع ہوئی ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ کینیڈا کے ساحلی علاقے میں ڈولفن اور کلر وہیل کو ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے دیکھا گیا۔
تحقیق کے دوران سائنس دانوں نے ڈرون کیمروں اور خصوصی آلات کی مدد سے مناظر ریکارڈ کیے۔ ان مناظر میں دیکھا گیا کہ ڈولفن اور کلر وہیل ایک ساتھ سمندر کی گہرائی میں جا کر سالمن مچھلی کا شکار کرتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق ڈولفن شکار کے دوران کلر وہیل کی مدد کرتی ہیں کیونکہ دونوں جانور ایکو لوکیشن کے ذریعے مچھلی کا سراغ لگاتے ہیں۔ اس تعاون سے کلر وہیل کی توانائی بچتی ہے اور شکار آسان ہو جاتا ہے۔
دوسری جانب ڈولفن کو بھی اس دوستی کا فائدہ ملتا ہے۔ شکار کے بعد وہ مچھلی کے بچے ہوئے ٹکڑے کھا لیتی ہیں اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ انہیں ان خطرناک کلر وہیل سے تحفظ مل جاتا ہے جو عام طور پر ڈولفن کا شکار کرتی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ دو طاقتور شکاری ممالیہ جانوروں کا اس طرح مل کر شکار کرنا بہت کم دیکھا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس تحقیق کو سمندری حیات کے بارے میں ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ دریافت اس بات کا ثبوت ہے کہ دشمن سمجھے جانے والے جانور بھی حالات کے مطابق ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کر سکتے ہیں۔


Related News

A Unique Highlight of Artemis II Mission: “Rise” the Small Plush Toy Heads to Space
A Unique Highlight of Artemis II Mission: “Rise” the Small Plush Toy Heads to Space
aroba article
aroba article
China Develops Microwave Weapon to Destroy Drones from 3 km Away
China Develops Microwave Weapon to Destroy Drones from 3 km Away
Cold shower blood pressure
Cold shower blood pressure
Google Rolls Out Biggest Update to Gemini AI with ‘Personal Intelligence’ Feature
Google Rolls Out Biggest Update to Gemini AI with ‘Personal Intelligence’ Feature
Pakistan Launches Its First Government AI Avatar ‘Leila
Pakistan Launches Its First Government AI Avatar ‘Leila