تعلیم کی نئی راہیں: بک وین اور سائنس رائیڈز سے بلوچستان میں علم کا فروغ
بلوچستان کے دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں علم کی روشنی پھیلانے کے لیے ایک منفرد اور مؤثر اقدام کے تحت "بک وین" اور "سائنس رائیڈ" منصوبے کامیابی کے ساتھ جاری ہیں، جو دیہات میں بچوں تک گھر گھر تعلیم پہنچا رہے ہیں۔
بلوچستان کے دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں علم کی روشنی پھیلانے کے لیے ایک منفرد اور مؤثر اقدام کے تحت "بک وین" اور "سائنس رائیڈ" منصوبے کامیابی کے ساتھ جاری ہیں، جو دیہات میں بچوں تک گھر گھر تعلیم پہنچا رہے ہیں۔

یونیسف کے تعاون سے محکمۂ تعلیم بلوچستان نے یہ منصوبے صوبے کے 14 اضلاع میں شروع کیے ہیں، تاکہ دور افتادہ علاقوں کے طلبہ کو کتابوں اور جدید سیکھنے کے مواقع فراہم کیے جا سکیں۔حکام کے مطابق یہ جدید موبائل یونٹس ابتدا میں بطور موبائل اسکول شروع کیے گئے تھے، تاہم اب یہ چلتی پھرتی لائبریریوں، تدریسی مراکز اور جدید "سائنس رائیڈز" کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ خاص طور پر موبائل سائنس لیب ان علاقوں میں نہایت اہم کردار ادا کر رہی ہے جہاں تعلیمی سہولیات محدود ہیں، اور طلبہ میں سائنسی سوچ، تجسس اور سیکھنے کا جذبہ فروغ پا رہا ہے۔"بک وین" منصوبہ اس وقت ژوب، قلعہ سیف اللہ، لورالائی، پشین، چمن، کوئٹہ، لسبیلہ، حب، گوادر، جعفرآباد، کچھی، کیچ، جھل مگسی اور نوشکی سمیت 14 اضلاع میں فعال ہے، جبکہ "سائنس رائیڈ" ضلع جعفرآباد میں کامیابی سے جاری ہے۔طلبہ نے اس اقدام کو بھرپور سراہا ہے۔طالبات کا کہنا تھا کہ کتابیں علم حاصل کرنے کا بنیادی ذریعہ ہیں اور انہی کے ذریعے انسان اعلیٰ مقام حاصل کر سکتا ہے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے بھی اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کی تخلیقی اور جرات مندانہ کاوشیں صوبے کے روشن اور تعلیم یافتہ مستقبل کی ضمانت ہیں۔
keywords: book van,science ride, Balochistan news, Quetta news