گوگل نے شرمندگی سے بچانے کے لیے ای میل بدلنے کا نیا فیچر جاری کر دیا
گوگل نے اپنے صارفین کے لیے ایک ایسا فیچر متعارف کرا دیا ہے جس کا مطالبہ طویل عرصے سے کیا جا رہا تھا۔ اس نئے فیچر کے ذریعے اب جی میل صارفین اپنا موجودہ ای میل ایڈریس تبدیل کر سکیں گے، جبکہ ان کا پرانا ڈیٹا، ای میلز اور دیگر معلومات محفوظ رہیں گی۔ بہت سے افراد نے کم عمری میں جذبات یا مذاق میں ایسے ای میل ایڈریس بنا لیے تھے جو بعد میں پیشہ ورانہ زندگی میں شرمندگی کا سبب بنتے ہیں۔ گوگل کا یہ نیا فیچر ایسے صارفین کے لیے بڑی سہولت ثابت ہوگا، جو اپنا ای میل ایڈریس تبدیل کرنا چاہتے تھے مگر ڈیٹا ضائع ہونے کے خوف سے ایسا نہیں کر پا رہے تھے۔ گوگل کے اکاؤنٹ ہیلپ پیج کے مطابق اس اپ ڈیٹ کے بعد صارفین کو اپنا ای میل ایڈریس بدلنے کی سہولت دی جا رہی ہے اور اس دوران ان کا تمام ڈیٹا محفوظ رہے گا۔ تاہم اس فیچر سے متعلق مکمل ہدایات فی الحال گوگل کے سپورٹ پیج کے صرف ہندی ورژن پر موجود ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس فیچر کا آغاز ابتدائی طور پر بھارت میں کیا گیا ہے۔ امکان ہے کہ گوگل جلد ہی اس فیچر کو دیگر ممالک کے صارفین کے لیے بھی متعارف کرا دے گا۔ ٹیکنالوجی ماہرین کے مطابق یہ فیچر خاص طور پر طلبہ، نوکری پیشہ افراد اور کاروباری صارفین کے لیے نہایت مفید ثابت ہو سکتا ہے۔
گوگل نے شرمندگی سے بچانے کے لیے ای میل بدلنے کا نیا فیچر جاری کر دی
رپورٹ: اقصی بلوچ
گوگل نے اپنے صارفین کے لیے ایک ایسا فیچر متعارف کرا دیا ہے جس کا مطالبہ طویل عرصے سے کیا جا رہا تھا۔ اس نئے فیچر کے ذریعے اب جی میل صارفین اپنا موجودہ ای میل ایڈریس تبدیل کر سکیں گے، جبکہ ان کا پرانا ڈیٹا، ای میلز اور دیگر معلومات محفوظ رہیں گی۔

بہت سے افراد نے کم عمری میں جذبات یا مذاق میں ایسے ای میل ایڈریس بنا لیے تھے جو بعد میں پیشہ ورانہ زندگی میں شرمندگی کا سبب بنتے ہیں۔ گوگل کا یہ نیا فیچر ایسے صارفین کے لیے بڑی سہولت ثابت ہوگا، جو اپنا ای میل ایڈریس تبدیل کرنا چاہتے تھے مگر ڈیٹا ضائع ہونے کے خوف سے ایسا نہیں کر پا رہے تھے۔
گوگل کے اکاؤنٹ ہیلپ پیج کے مطابق اس اپ ڈیٹ کے بعد صارفین کو اپنا ای میل ایڈریس بدلنے کی سہولت دی جا رہی ہے اور اس دوران ان کا تمام ڈیٹا محفوظ رہے گا۔ تاہم اس فیچر سے متعلق مکمل ہدایات فی الحال گوگل کے سپورٹ پیج کے صرف ہندی ورژن پر موجود ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس فیچر کا آغاز ابتدائی طور پر بھارت میں کیا گیا ہے۔
امکان ہے کہ گوگل جلد ہی اس فیچر کو دیگر ممالک کے صارفین کے لیے بھی متعارف کرا دے گا۔ ٹیکنالوجی ماہرین کے مطابق یہ فیچر خاص طور پر طلبہ، نوکری پیشہ افراد اور کاروباری صارفین کے لیے نہایت مفید ثابت ہو سکتا ہے۔