بلوچستان میں ایچ آئی وی کیسز میں تشویشناک اضافہ، عالمی اداروں کا ہنگامی اقدامات پر زور
عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) اور یو این اے ایڈز نے بلوچستان میں ایچ آئی وی کیسز میں بڑھتی ہوئی شرح پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق صوبے میں گزشتہ برسوں کے دوران ایچ آئی وی انفیکشنز میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، جو پورے خطے کے لیے ایک سنگین خطرے کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق بلوچستان میں ایچ آئی وی کا پھیلاؤ صرف ہائی رسک گروپس تک محدود نہیں رہا بلکہ عام آبادی، بچوں اور خاندانوں تک بھی تیزی سے پہنچ رہا ہے۔ صوبے کے کئی علاقوں میں خون کی مناسب اسکریننگ، معیاری طبی سہولیات، تربیت یافتہ عملے کی کمی اور انجیکشنز کے غیر محفوظ استعمال نے اس صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ ڈبلیو ایچ او اور یو این اے ایڈز کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں ایچ آئی وی ٹیسٹنگ مراکز بڑھانے، تشخیص کے نظام کو مضبوط بنانے اور ادویات کی مسلسل فراہمی یقینی بنانے کی فوری ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایسے علاقوں میں آگاہی مہمات کا آغاز بھی ناگزیر ہے جہاں صحت کی معلومات تک رسائی محدود ہے اور لوگ بیماری کے خطرات سے لاعلم ہیں۔ عالمی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر بلوچستان میں ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ہنگامی اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے برسوں میں صورتحال مزید سنگین ہوسکتی ہے، جو صوبے کے لیے ایک بڑا صحت عامہ کا بحران بن سکتی ہے۔
بلوچستان میں ایچ آئی وی کیسز میں تشویشناک اضافہ، عالمی اداروں کا ہنگامی اقدامات پر زور
اقصی بلوچ
عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) اور یو این اے ایڈز نے بلوچستان میں ایچ آئی وی کیسز میں بڑھتی ہوئی شرح پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق صوبے میں گزشتہ برسوں کے دوران ایچ آئی وی انفیکشنز میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، جو پورے خطے کے لیے سنگین خطرے کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق بلوچستان میں ایچ آئی وی کا پھیلاؤ صرف ہائی رسک گروپس تک محدود نہیں رہا بلکہ عام آبادی، بچوں اور خاندانوں تک بھی تیزی سے پہنچ رہا ہے۔ صوبے کے کئی علاقوں میں خون کی مناسب اسکریننگ، معیاری طبی سہولیات، تربیت یافتہ عملے کی کمی اور انجیکشنز کے غیر محفوظ استعمال نے اس صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔
ڈبلیو ایچ او اور یو این اے ایڈز کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں ایچ آئی وی ٹیسٹنگ مراکز بڑھانے، تشخیص کے نظام کو مضبوط بنانے اور ادویات کی مسلسل فراہمی یقینی بنانے کی فوری ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایسے علاقوں میں آگاہی مہمات کا آغاز بھی ناگزیر ہے جہاں صحت کی معلومات تک رسائی محدود ہے اور لوگ بیماری کے خطرات سے لاعلم ہیں۔
عالمی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر بلوچستان میں ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ہنگامی اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے برسوں میں صورتحال سنگین ہوسکتی ہے، جو صوبے کے لیے بڑا صحت عامہ کا بحران بن سکتی ہے۔