خوشبو والی اگربتیاں صحت کے لیے خطرناک
پاکستان میں اکثر مذہبی تقریبات یا کسی کی وفات کے موقع پر اگربتیاں جلائی جاتی ہیں۔ لوگ انہیں ایئر فریشنر کی طرح بھی استعمال کرتے ہیں۔ لیکن ماہرین کہتے ہیں کہ اگربتی کا دھواں صرف خوشبو نہیں دیتا، یہ صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔ خاص طور پر بچے، بوڑھے اور کمزور پھیپھڑوں والے لوگ اس سے متاثر ہو سکتے ہیں۔ تحقیقات کے مطابق اگربتی کے دھوئیں سے سانس کی بیماریاں، الرجی، سر درد اور جلد کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ پلمونولوجسٹس کے مطابق اگربتی کا دھواں تمباکو نوشی کے دھوئیں کے برابر نقصان دہ ہے۔ ایک گرام اگربتی سے تقریباً 45 ملی گرام باریک ذرات نکلتے ہیں، جبکہ سگریٹ سے صرف 10 ملی گرام ذرات خارج ہوتے ہیں۔ یعنی اگربتی سگریٹ کے مقابلے میں چار گنا زیادہ نقصان دہ ہے۔ اگربتی میں کون سے خطرناک اجزاء ہیں؟ باریک ذرات (PM 2.5): پھیپھڑوں اور دل کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ کاربن مونو آکسائیڈ: خون میں آکسیجن کم کر دیتا ہے اور سر درد، تھکن یا متلی پیدا کر سکتا ہے۔ سلفر ڈائی آکسائیڈ اور نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ: دل اور پھیپھڑوں کی بیماریوں کو بڑھا سکتے ہیں۔ غیر مستحکم نامیاتی مرکبات اور ایلڈیہائڈز: آنکھوں، ناک اور گلے میں جلن اور طویل مدتی خطرات پیدا کرتے ہیں۔ پولی سائکلک آرومیٹک ہائیڈرو کاربن: خون کی نالیوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ سب سے زیادہ خطرہ کس کو ہے؟ بچے، بوڑھے، دمہ اور کمزور پھیپھڑوں والے لوگ اگربتی کے دھوئیں سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ لمبے عرصے تک دھواں سانس میں لینے سے COPD، پھیپھڑوں کے کینسر اور دل کی بیماریاں ہو سکتی ہیں۔ احتیاطی تدابیر ماہرین کے مطابق اگربتی کا دھواں صحت کے لیے خطرناک ہے، خاص طور پر بچوں، بوڑھوں اور سانس کی بیماریوں جیسے دمہ یا کمزور پھیپھڑوں والے افراد کے لیے۔ اگر احتیاط نہ کی جائے تو طویل عرصے تک دھواں سانس میں لینے سے COPD، پھیپھڑوں کے کینسر اور دل کی بیماریاں ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اسی لیے اگربتیاں جلاتے وقت کمرے میں ہوا کی مناسب آمدورفت رکھنی چاہیے، بچوں اور بوڑھوں کو دھویں والے کمرے میں نہ رکھیں اور زیادہ دھواں دینے والی اگربتیاں صرف کم مقدار میں استعمال کریں۔
خوشبو والی اگربتیاں صحت کے لیے خطرناک
رپورٹ: اقصی بلوچ
پاکستان میں اکثر مذہبی تقریبات یا کسی کی وفات کے موقع پر اگربتیاں جلائی جاتی ہیں۔ لوگ انہیں ایئر فریشنر کی طرح بھی استعمال کرتے ہیں۔

لیکن ماہرین کہتے ہیں کہ اگربتی کا دھواں صرف خوشبو نہیں دیتا، یہ صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔ خاص طور پر بچے، بوڑھے اور کمزور پھیپھڑوں والے لوگ اس سے متاثر ہو سکتے ہیں۔
تحقیقات کے مطابق اگربتی کے دھوئیں سے سانس کی بیماریاں، الرجی، سر درد اور جلد کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ پلمونولوجسٹس کے مطابق اگربتی کا دھواں تمباکو نوشی کے دھوئیں کے برابر نقصان دہ ہے۔
ایک گرام اگربتی سے تقریباً 45 ملی گرام باریک ذرات نکلتے ہیں، جبکہ سگریٹ سے صرف 10 ملی گرام ذرات خارج ہوتے ہیں۔ یعنی اگربتی سگریٹ کے مقابلے میں چار گنا زیادہ نقصان دہ ہے۔
اگربتی میں کون سے خطرناک اجزاء ہیں؟
-
باریک ذرات (PM 2.5): پھیپھڑوں اور دل کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
-
کاربن مونو آکسائیڈ: خون میں آکسیجن کم کر دیتا ہے اور سر درد، تھکن یا متلی پیدا کر سکتا ہے۔
-
سلفر ڈائی آکسائیڈ اور نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ: دل اور پھیپھڑوں کی بیماریوں کو بڑھا سکتے ہیں۔
-
غیر مستحکم نامیاتی مرکبات اور ایلڈیہائڈز: آنکھوں، ناک اور گلے میں جلن اور طویل مدتی خطرات پیدا کرتے ہیں۔
-
پولی سائکلک آرومیٹک ہائیڈرو کاربن: خون کی نالیوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

سب سے زیادہ خطرہ کس کو ہے؟
بچے، بوڑھے، دمہ اور کمزور پھیپھڑوں والے لوگ اگربتی کے دھوئیں سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ لمبے عرصے تک دھواں سانس میں لینے سے COPD، پھیپھڑوں کے کینسر اور دل کی بیماریاں ہو سکتی ہیں۔
احتیاطی تدابیر
- ماہرین کے مطابق اگربتی کا دھواں صحت کے لیے خطرناک ہے، خاص طور پر بچوں، بوڑھوں اور سانس کی بیماریوں جیسے دمہ یا کمزور پھیپھڑوں والے افراد کے لیے۔ اگر احتیاط نہ کی جائے تو طویل عرصے تک دھواں سانس میں لینے سے COPD، پھیپھڑوں کے کینسر اور دل کی بیماریاں ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اسی لیے اگربتیاں جلاتے وقت کمرے میں ہوا کی مناسب آمدورفت رکھنی چاہیے، بچوں اور بوڑھوں کو دھویں والے کمرے میں نہ رکھیں اور زیادہ دھواں دینے والی اگربتیاں صرف کم مقدار میں استعمال کریں۔