انسٹاگرام پر 17.5 ملین صارفین کا ڈیٹا لیک ہونے کا خدشہ، پاس ورڈ تبدیلی کی ہدایات جاری
سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام کے تقریباً ایک کروڑ 75 لاکھ اکاؤنٹس کے متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ صارفین کو اپنے پاس ورڈز تبدیل کرنے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق انسٹاگرام صارفین کی ذاتی معلومات کے لیک ہونے کے خدشات سامنے آئے ہیں۔ اس واقعے نے ایک مرتبہ پھر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اکاؤنٹس کی سیکیورٹی پر تشویش پیدا کر دی ہے۔ سائبر سیکیورٹی کمپنی میلویئربائٹس کی رپورٹ کے مطابق لیک ہونے والے ڈیٹا میں صارفین کے یوزرنیم، ای میل ایڈریسز، فون نمبرز، رہائشی پتے اور دیگر حساس معلومات شامل ہیں۔ کمپنی نے بتایا کہ یہ معلومات ڈارک ویب مانیٹرنگ کے دوران سامنے آئیں اور صارفین کو ممکنہ غلط استعمال سے بچانے کے لیے پاس ورڈ ری سیٹ کرنے کی ہدایت دی گئی۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ ہفتے کئی صارفین نے غیر متوقع طور پر اپنے اکاؤنٹس کے پاس ورڈ ری سیٹ ہونے اور ای میلز موصول ہونے کی شکایات کی تھیں، جس سے ڈیٹا لیک کے خدشات پیدا ہوئے۔ سائبر سیکیورٹی کمپنی نے کہا ہے کہ اس سرگرمی کے نتیجے میں دنیا بھر میں ایک کروڑ 75 لاکھ انسٹاگرام اکاؤنٹس کا ڈیٹا چوری ہوا ہے اور یہ معلومات ڈارک ویب پر فروخت کے لیے دستیاب ہو سکتی ہیں۔
انسٹاگرام پر 17.5 ملین صارفین کا ڈیٹا لیک ہونے کا خدشہ، پاس ورڈ تبدیلی کی ہدایات جاری
رپورٹ: اقصی بلوچ
سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام کے تقریباً ایک کروڑ 75 لاکھ اکاؤنٹس کے متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ صارفین کو اپنے پاس ورڈز تبدیل کرنے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق انسٹاگرام صارفین کی ذاتی معلومات کے لیک ہونے کے خدشات سامنے آئے ہیں۔ اس واقعے نے ایک مرتبہ پھر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اکاؤنٹس کی سیکیورٹی پر تشویش پیدا کر دی ہے۔
سائبر سیکیورٹی کمپنی میلویئربائٹس کی رپورٹ کے مطابق لیک ہونے والے ڈیٹا میں صارفین کے یوزرنیم، ای میل ایڈریسز، فون نمبرز، رہائشی پتے اور دیگر حساس معلومات شامل ہیں۔
کمپنی نے بتایا کہ یہ معلومات ڈارک ویب مانیٹرنگ کے دوران سامنے آئیں اور صارفین کو ممکنہ غلط استعمال سے بچانے کے لیے پاس ورڈ ری سیٹ کرنے کی ہدایت دی گئی۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ ہفتے کئی صارفین نے غیر متوقع طور پر اپنے اکاؤنٹس کے پاس ورڈ ری سیٹ ہونے اور ای میلز موصول ہونے کی شکایات کی تھیں، جس سے ڈیٹا لیک کے خدشات پیدا ہوئے۔
سائبر سیکیورٹی کمپنی نے کہا ہے کہ اس سرگرمی کے نتیجے میں دنیا بھر میں ایک کروڑ 75 لاکھ انسٹاگرام اکاؤنٹس کا ڈیٹا چوری ہوا ہے اور یہ معلومات ڈارک ویب پر فروخت کے لیے دستیاب ہو سکتی ہیں۔