سرکاری ملازمین کے کنڈکٹ رولز میں اہم ترامیم، نوٹیفکیشن جاری
کوئٹہ میں چیف سیکرٹری بلوچستان کی جانب سے گورنر کی منظوری کے بعد سرکاری ملازمین کے کنڈکٹ رولز میں اہم ترامیم کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے تحت ہڑتال، دھرنا، نجی اداروں میں شمولیت اور سوشل میڈیا کے استعمال پر سخت پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔
رپورٹ: سیدہ نتاشا
گورنر بلوچستان کی منظوری سے چیف سیکرٹری بلوچستان نے سرکاری ملازمین کے کنڈکٹ رولز میں اہم ترامیم کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ نئے قوانین کے تحت سرکاری ملازمین پر ہڑتال، دھرنے، یا دفاتر کے گھیراؤ میں شرکت پر مکمل پابندی ہوگی اور ایسی کارروائی کو بدعنوانی اور مس کنڈکٹ قرار دیا گیا ہے۔
نوٹیفکیشن میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ سرکاری ملازمین ایک ساتھ دو سرکاری نوکریاں نہیں رکھ سکتے، ورنہ ملازمت سے برطرفی اور مقدمہ دائر کیا جا سکتا ہے۔ ملازمین کو نجی اداروں، ٹرسٹس اور این جی اوز سے وابستگی کی اجازت نہیں ہوگی۔
یونین یا ایسوسی ایشن کی تشکیل اور رکنیت کے لیے چیف سیکرٹری کی منظوری لازمی ہوگی اور غیر منظور شدہ ایسوسی ایشن کی رکنیت پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ سرکاری دفاتر کی دیواروں پر پوسٹرز اور نوٹس لگانے پر بھی پابندی عائد ہے۔
مزید برآں، سرکاری ملازمین کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال کے نئے قواعد نافذ کیے گئے ہیں، جن کے مطابق حکومتی امور پر بحث یا معلومات شیئر کرنا ممنوع ہے۔ دفتر کی تالہ بندی یا دفتری گھیراؤ کی صورت میں فوجداری کارروائی کی جائے گی اور ہڑتال کے باعث غیر حاضری کو بریک ان سروس تصور کیا جائے گا۔
چیف سیکرٹری کو ایسوسی ایشنز کی منظوری اور منسوخی کا مکمل اختیار حاصل ہوگا، جبکہ خلاف ورزی کرنے والی ایسوسی ایشن کی رجسٹریشن منسوخ کی جا سکتی ہے۔