اے آئی کے لیے ایٹمی بجلی: میٹا کے بڑے معاہدوں کی تفصیل

اے آئی کے لیے ایٹمی بجلی: میٹا کے بڑے معاہدوں کی تفصیل

مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور ڈیٹا سینٹرز کے تیزی سے پھیلاؤ کی وجہ سے امریکا میں بجلی کی طلب میں غیر معمولی اضافہ ہو رہا ہے۔ اسی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے ٹیکنالوجی کی بڑی کمپنی میٹا (فیس بک کی مالک) نے ایٹمی توانائی حاصل کرنے کے اہم معاہدے کر لیے ہیں۔ میٹا نے امریکا کی توانائی فراہم کرنے والی کمپنی فیسٹرا کے ساتھ 20 سالہ معاہدے کیے ہیں، جن کے تحت تین ایٹمی بجلی گھروں سے بجلی خریدی جائے گی۔ ان میں اوہائیو کے پیری اور ڈیوس-بیس ایٹمی پلانٹس، جبکہ پنسلوینیا کا بیور ویلی ایٹمی پلانٹ شامل ہیں۔ کمپنی کے مطابق اوہائیو میں موجود دونوں پلانٹس کی توسیع اور ان کی مدتِ کار بڑھانے کے لیے مالی مدد بھی فراہم کی جائے گی۔ یہ پلانٹس کم از کم 2036 تک کام کرتے رہیں گے، جبکہ بیور ویلی پلانٹ کے ایک ری ایکٹر کو 2047 تک چلانے کا لائسنس حاصل ہے۔ میٹا نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ وہ مستقبل کی توانائی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے چھوٹے ماڈیولر ایٹمی ری ایکٹرز میں سرمایہ کاری کرے گی۔ یہ جدید ری ایکٹرز ارب پتی بل گیٹس کی حمایت یافتہ کمپنیوں ٹیرا پاور اور اوکلو تیار کر رہی ہیں۔ یہ چھوٹے ری ایکٹرز سائز میں کم ہوتے ہیں اور ضرورت کے مطابق نصب کیے جا سکتے ہیں۔ حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ مستقبل میں سستے ہوں گے، جبکہ ناقدین کے مطابق ان کی لاگت اب بھی ایک چیلنج ہے۔ اس وقت امریکا میں کوئی بھی چھوٹا ایٹمی ری ایکٹر تجارتی بنیادوں پر فعال نہیں، اور ان منصوبوں کے لیے سرکاری منظوری ضروری ہوگی۔ میٹا کے عالمی امور کے سربراہ جوئیل کپلن کے مطابق، ان معاہدوں کے بعد میٹا امریکا کی تاریخ میں ایٹمی توانائی خریدنے والی نمایاں کمپنیوں میں شامل ہو جائے گی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ ان منصوبوں کے نتیجے میں 2035 تک میٹا کو مجموعی طور پر 6.6 گیگا واٹ ایٹمی بجلی دستیاب ہوگی، جبکہ ایک عام ایٹمی ری ایکٹر تقریباً ایک گیگا واٹ بجلی پیدا کرتا ہے۔ میٹا ٹیرا پاور کے دو ایٹمی ری ایکٹرز کی تیاری میں بھی مالی مدد دے گی، جو 2032 تک 690 میگا واٹ بجلی پیدا کریں گے۔ اس کے علاوہ، اوکلو کے ساتھ شراکت داری کے تحت امید کی جا رہی ہے کہ 2030 تک اوہائیو میں 1.2 گیگا واٹ بجلی پیدا کی جا سکے گی۔ ماہرین کے مطابق امریکا میں گزشتہ 20 سالوں بعد پہلی بار بجلی کی طلب میں واضح اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کی بڑی وجہ مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا سینٹرز کا بڑھتا ہوا استعمال ہے۔ اسی لیے میٹا سمیت دیگر بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں طویل المدت اور قابلِ اعتماد توانائی ذرائع کی تلاش میں ہیں۔

اے آئی کے لیے ایٹمی بجلی: میٹا کے بڑے معاہدوں کی تفصیل

رپورٹ: اقصی بلوچ

مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور ڈیٹا سینٹرز کے تیزی سے پھیلاؤ کی وجہ سے امریکا میں بجلی کی طلب میں غیر معمولی اضافہ ہو رہا ہے۔ اسی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے ٹیکنالوجی کی بڑی کمپنی میٹا (فیس بک کی مالک) نے ایٹمی توانائی حاصل کرنے کے اہم معاہدے کر لیے ہیں۔

میٹا نے امریکا کی توانائی فراہم کرنے والی کمپنی فیسٹرا کے ساتھ 20 سالہ معاہدے کیے ہیں، جن کے تحت تین ایٹمی بجلی گھروں سے بجلی خریدی جائے گی۔ ان میں اوہائیو کے پیری اور ڈیوس-بیس ایٹمی پلانٹس، جبکہ پنسلوینیا کا بیور ویلی ایٹمی پلانٹ شامل ہیں۔

کمپنی کے مطابق اوہائیو میں موجود دونوں پلانٹس کی توسیع اور ان کی مدتِ کار بڑھانے کے لیے مالی مدد بھی فراہم کی جائے گی۔ یہ پلانٹس کم از کم 2036 تک کام کرتے رہیں گے، جبکہ بیور ویلی پلانٹ کے ایک ری ایکٹر کو 2047 تک چلانے کا لائسنس حاصل ہے۔

میٹا نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ وہ مستقبل کی توانائی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے چھوٹے ماڈیولر ایٹمی ری ایکٹرز میں سرمایہ کاری کرے گی۔ یہ جدید ری ایکٹرز ارب پتی بل گیٹس کی حمایت یافتہ کمپنیوں ٹیرا پاور اور اوکلو تیار کر رہی ہیں۔

یہ چھوٹے ری ایکٹرز سائز میں کم ہوتے ہیں اور ضرورت کے مطابق نصب کیے جا سکتے ہیں۔ حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ مستقبل میں سستے ہوں گے، جبکہ ناقدین کے مطابق ان کی لاگت اب بھی ایک چیلنج ہے۔ اس وقت امریکا میں کوئی بھی چھوٹا ایٹمی ری ایکٹر تجارتی بنیادوں پر فعال نہیں، اور ان منصوبوں کے لیے سرکاری منظوری ضروری ہوگی۔

میٹا کے عالمی امور کے سربراہ جوئیل کپلن کے مطابق، ان معاہدوں کے بعد میٹا امریکا کی تاریخ میں ایٹمی توانائی خریدنے والی نمایاں کمپنیوں میں شامل ہو جائے گی۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ ان منصوبوں کے نتیجے میں 2035 تک میٹا کو مجموعی طور پر 6.6 گیگا واٹ ایٹمی بجلی دستیاب ہوگی، جبکہ ایک عام ایٹمی ری ایکٹر تقریباً ایک گیگا واٹ بجلی پیدا کرتا ہے۔

میٹا ٹیرا پاور کے دو ایٹمی ری ایکٹرز کی تیاری میں بھی مالی مدد دے گی، جو 2032 تک 690 میگا واٹ بجلی پیدا کریں گے۔ اس کے علاوہ، اوکلو کے ساتھ شراکت داری کے تحت امید کی جا رہی ہے کہ 2030 تک اوہائیو میں 1.2 گیگا واٹ بجلی پیدا کی جا سکے گی۔

ماہرین کے مطابق امریکا میں گزشتہ 20 سالوں بعد پہلی بار بجلی کی طلب میں واضح اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کی بڑی وجہ مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا سینٹرز کا بڑھتا ہوا استعمال ہے۔ اسی لیے میٹا سمیت دیگر بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں طویل المدت اور قابلِ اعتماد توانائی ذرائع کی تلاش میں ہیں۔

 


Related News

A Unique Highlight of Artemis II Mission: “Rise” the Small Plush Toy Heads to Space
A Unique Highlight of Artemis II Mission: “Rise” the Small Plush Toy Heads to Space
aroba article
aroba article
China Develops Microwave Weapon to Destroy Drones from 3 km Away
China Develops Microwave Weapon to Destroy Drones from 3 km Away
Cold shower blood pressure
Cold shower blood pressure
Google Rolls Out Biggest Update to Gemini AI with ‘Personal Intelligence’ Feature
Google Rolls Out Biggest Update to Gemini AI with ‘Personal Intelligence’ Feature
Pakistan Launches Its First Government AI Avatar ‘Leila
Pakistan Launches Its First Government AI Avatar ‘Leila