شریانوں کی صفائی کے لیے ننھا منّا روبوٹ ایجاد
سوئٹزرلینڈ کی ای ٹی ایچ زیورخ یونیورسٹی کے ماہرین نے ایسا نایاب مائیکرو روبوٹ تیار کر لیا ہے جو انسانی جسم کی باریک شریانوں کے اندر آسانی سے سفر کر سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ہماری شریانوں اور رگوں میں اگرچکنائی یا چربی جم جائے تو خون کا بہاؤ متاثر ہوتا ہے، جس سے ہارٹ اٹیک یا فالج کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ آج کل اس چکنائی کو صاف کرنے کے لیے مہنگے اور حساس آپریشن کیے جاتے ہیں۔ نیا مائیکرو روبوٹ صرف 2 ملی میٹر سے بھی چھوٹا ہے۔ اس میں دوا بھر کر اسے شریانوں کے اندر اسی جگہ پہنچایا جا سکتا ہے جہاں چکنائی جمع ہو۔ روبوٹ وہاں جاکر دوا چھوڑ دے گا جس سے چکنائی فوری طور پر گھل کر ختم ہو جائے گی۔ اس روبوٹ کا ڈھانچا فولادی نینو ذرّات سے بنایا گیا ہے تاکہ ڈاکٹر باہر بیٹھ کر مقناطیسی آلے سے اسے کنٹرول کر سکیں اور اسے جسم کے اندر مطلوبہ مقام تک پہنچا سکیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کی بدولت آئندہ سالوں میں مریضوں کو مہنگے اور پیچیدہ آپریشنوں سے نجات مل سکتی ہے۔
اقصی بلوچ
1دسمبر 2025
شریانوں کی صفائی کے لیے ننھا منّا روبوٹ ایجاد
رپورٹ : اقصی بلوچ
دسمبر 1,2025
سوئٹزرلینڈ کی ای ٹی ایچ زیورخ یونیورسٹی کے ماہرین نے ایسا نایاب مائیکرو روبوٹ تیار کر لیا ہے جو انسانی جسم کی باریک شریانوں کے اندر آسانی سے سفر کر سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق ہماری شریانوں اور رگوں میں اگرچکنائی یا چربی جم جائے تو خون کا بہاؤ متاثر ہوتا ہے،
جس سے ہارٹ اٹیک یا فالج کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ آج کل اس چکنائی کو صاف کرنے کے لیے مہنگے اور حساس آپریشن کیے جاتے ہیں۔
نیا مائیکرو روبوٹ صرف 2 ملی میٹر سے بھی چھوٹا ہے۔ اس میں دوا بھر کر اسے شریانوں کے اندر اسی جگہ پہنچایا جا سکتا ہے جہاں چکنائی جمع ہو۔ روبوٹ وہاں جاکر دوا چھوڑ دے گا جس سے چکنائی فوری طور پر گھل کر ختم ہو جائے گی۔
اس روبوٹ کا ڈھانچا فولادی نینو ذرّات سے بنایا گیا ہے تاکہ ڈاکٹر باہر بیٹھ کر مقناطیسی آلے سے اسے کنٹرول کر سکیں اور اسے جسم کے اندر مطلوبہ مقام تک پہنچا سکیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کی بدولت آئندہ سالوں میں مریضوں کو مہنگے اور پیچیدہ آپریشنوں سے نجات مل سکتی ہے۔