دماغ تک خون کے بہاؤ کی پیمائش کرنے والی اسمارٹ بالیاں متعارف
بوسٹن کی انجینئرنگ کمپنی لومیا نے ایسی جدید اسمارٹ بالیاں تیار کی ہیں جو دماغ تک خون کے بہاؤ کی درست پیمائش کر سکتی ہیں۔ زیورات اب صرف زیبائش کے لیے نہیں رہے، بلکہ صحت کی نگرانی کا ذریعہ بھی بنتے جا رہے ہیں، اور لومیا ٹو اسی رجحان کی تازہ مثال ہے۔ کمپنی کے مطابق یہ دنیا کا سب سے چھوٹا ویئریبل ٹریکر ہے جس کی تیاری میں چھ سال لگے۔ عام اسمارٹ واچز اور ٹریکرز کلائی کی سطحی شریانوں کا ڈیٹا لیتے ہیں جس سے معلومات اتنی درست نہیں ہوتیں۔ لیکن لومیا ٹو بالیاں سر کے قریب موجود چھوٹی شریان میں خون کے بہاؤ کو مانیٹر کرتی ہیں، جس سے زیادہ قابل بھروسہ ڈیٹا حاصل ہوتا ہے۔ ان میں نصب انفراریڈ لائٹ سینسر بائیں کان کے قریب شریانی خون کی پیمائش کرتے ہیں، جو اسے دوسرے آلات سے منفرد بناتا ہے۔ دماغ میں خون کی کمی سے چکر آنا، تھکن، توجہ کی کمی اور توانائی میں کمی جیسے مسائل سامنے آ سکتے ہیں۔ خون کا بہاؤ کھانے، پانی، کافی، نیند اور ورزش جیسے عوامل سے بدلتا رہتا ہے۔ لومیا ٹو ان تبدیلیوں کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے تاکہ صارف اپنی صحت اور روزمرہ روٹین کو بہتر بنا سکے۔ یہ اسمارٹ بالیاں صرف خون کے بہاؤ کو نہیں دیکھتیں، بلکہ دل کی دھڑکن، نیند کا دورانیہ، جسمانی درجہ حرارت اور روزمرہ توانائی جیسے اہم اعداد و شمار بھی نوٹ کرتی ہیں۔ اس وجہ سے یہ ایک مکمل ہیلتھ مانیٹر بھی ہے۔ بالیاں پلاٹینم اور ٹائٹینیم سے بنی ہیں جس کی وجہ سے یہ جلد پر الرجی نہیں کرتیں، اور مستقبل میں انہیں مختلف خوبصورت ڈیزائنز میں پیش کیا جائے گا۔ ان کے پیچھے ایک اسمارٹ کور نصب ہے جس میں بیٹری، سینسر اور پروسیسر شامل ہیں، اور اسے کسی بھی بالی کے ساتھ لگایا جا سکتا ہے۔ مرد حضرات کے لیے ایئر کف کا آپشن بھی موجود ہے، تاکہ کان چھدوانے کی ضرورت نہ پڑے۔ یہ بالیاں اتنی ہلکی ہیں کہ وزن صرف ایک گرام ہے، جو ایئرپوڈ کے سائز کا پانچواں حصہ بنتا ہے۔ انہیں دن رات پہنا جا سکتا ہے، چاہے صارف سو رہا ہو، ورزش کر رہا ہو یا نہا رہا ہو۔ ان میں سوئیپ ایبل بیٹری استعمال کی گئی ہے جو آسانی سے نکالی اور بدلی جا سکتی ہے، جبکہ ایک بیٹری پانچ سے آٹھ دن تک کام کرتی ہے، جو عام ویئریبلز کے مقابلے میں کہیں بہتر ہے۔
دماغ تک خون کے بہاؤ کی پیمائش کرنے والی اسمارٹ بالیاں متعارف
رپورٹ : اقصی بلوچ
بوسٹن کی انجینئرنگ کمپنی لومیا نے ایسی جدید اسمارٹ بالیاں تیار کی ہیں جو دماغ تک خون کے بہاؤ کی درست پیمائش کر سکتی ہیں۔ زیورات اب صرف زیبائش کے لیے نہیں رہے، بلکہ صحت کی نگرانی کا ذریعہ بھی بنتے جا رہے ہیں۔ لومیا ٹو اسی رجحان کی تازہ مثال ہے۔ کمپنی کے مطابق یہ دنیا کا سب سے چھوٹا ویئریبل ٹریکر ہے جس کی تیاری میں چھ سال لگے۔
عام اسمارٹ واچز اور ٹریکرز کلائی کی سطحی شریانوں کا ڈیٹا لیتے ہیں جس سے معلومات اتنی درست نہیں ہوتیں۔ لیکن لومیا ٹو بالیاں سر کے قریب موجود چھوٹی شریان میں خون کے بہاؤ کو مانیٹر کرتی ہیں، جس سے زیادہ قابل بھروسہ ڈیٹا حاصل ہوتا ہے۔ ان میں نصب انفراریڈ لائٹ سینسر بائیں کان کے قریب شریانی خون کی پیمائش کرتے ہیں، جو اسے دوسرے آلات سے منفرد بناتا ہے

خون کا بہاؤ کھانے، پانی، کافی، نیند اور ورزش جیسے عوامل سے بدلتا رہتا ہے۔ لومیا ٹو ان تبدیلیوں کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے تاکہ صارف اپنی صحت اور روزمرہ روٹین کو بہتر بنا سکے۔
یہ اسمارٹ بالیاں صرف خون کے بہاؤ کو نہیں دیکھتیں، بلکہ دل کی دھڑکن، نیند کا دورانیہ، جسمانی درجہ حرارت اور روزمرہ توانائی جیسے اہم اعداد و شمار بھی نوٹ کرتی ہیں۔ اس وجہ سے یہ ایک مکمل ہیلتھ مانیٹر بھی ہے۔
بالیاں پلاٹینم اور ٹائٹینیم سے بنی ہیں جس کی وجہ سے یہ جلد پر الرجی نہیں کرتیں، اور مستقبل میں انہیں مختلف خوبصورت ڈیزائنز میں پیش کیا جائے گا۔ ان کے پیچھے ایک اسمارٹ کور نصب ہے جس میں بیٹری، سینسر اور پروسیسر شامل ہیں۔ اسے کسی بھی بالی کے ساتھ لگایا جا سکتا ہے۔ مرد حضرات کے لیے ایئر کف کا آپشن بھی موجود ہے، تاکہ کان چھدوانے کی ضرورت نہ پڑے۔


یہ بالیاں اتنی ہلکی ہیں کہ وزن صرف ایک گرام ہے، جو ایئرپوڈ کے سائز کا پانچواں حصہ بنتا ہے۔ انہیں دن رات پہنا جا سکتا ہے، چاہے صارف سو رہا ہو، ورزش کر رہا ہو یا نہا رہا ہو۔ ان میں سوئیپ ایبل بیٹری استعمال کی گئی ہے جو آسانی سے نکالی اور بدلی جا سکتی ہے، جبکہ ایک بیٹری پانچ سے آٹھ دن تک کام کرتی ہے، جو عام ویئریبلز کے مقابلے میں کہیں بہتر ہے۔