اسٹرابزم (بھینگا پن): ایک نظر انداز کی جانے والی آنکھوں کی بیماری

اسٹرابزم (بھینگا پن): ایک نظر انداز کی جانے والی آنکھوں کی بیماری

اسٹرابزم جسے عام طور پر بھینگا پن کہا جاتا ہے، آنکھوں کی ایک اہم مگر اکثر نظر انداز کی جانے والی بیماری ہے جس میں دونوں آنکھیں ایک ہی سمت میں نہیں دیکھتیں۔ یہ مسئلہ زیادہ تر بچوں میں ہوتا ہے اور بروقت علاج نہ ہونے کی صورت میں کمزور نظر اور نفسیاتی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ اسٹرابزم قابلِ علاج ہے اور عینک، ورزشوں یا سرجری کے ذریعے اس کا مؤثر علاج ممکن ہے۔ تربت سے تعلق رکھنے والے بی ایم سی کے ڈاکٹر محبوب داد نے کامیاب اسٹرابزم سرجری کر کے اس شعبے میں ایک اہم مثال قائم کی ہے، جو اس بیماری کے بروقت اور محفوظ علاج کی امید کو اجاگر کرتی ہے۔

اسٹرابزم (بھینگا پن): ایک نظر انداز کی جانے والی آنکھوں کی بیماری

 تحریر : عروبہ شہزاد 

 اکثر لوگ آنکھوں کے ظاہری مسائل کو صرف خوبصورتی سے جوڑ کر دیکھتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ آنکھوں کی کچھ بیماریاں نہ صرف نظر بلکہ انسان کی ذہنی اور سماجی زندگی پر بھی گہرا اثر ڈالتی ہیں۔ اسٹرابزم جسے عام زبان میں بھینگا پن کہا جاتا ہے، ایسی ہی ایک اہم مگر نظر انداز کی جانے والی بیماری ہے۔اسٹرابزم کی حالت میں دونوں آنکھیں ایک ہی سمت میں نہیں دیکھتیں۔ ایک آنکھ سیدھی دیکھ رہی ہوتی ہے جبکہ دوسری آنکھ اوپر، نیچے یا کسی اور طرف مڑ جاتی ہے۔

\یہ مسئلہ زیادہ تر بچپن میں ظاہر ہوتا ہے، مگر بعض اوقات بڑوں میں بھی لاحق ہو سکتا ہے۔طبی ماہرین کے مطابق اسٹرابزم کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ ان میں آنکھوں کے پٹھوں کا کمزور ہونا، اعصابی مسائل، پیدائشی نقائص، شدید بخار، سر پر چوٹ یا بعض اوقات جینیاتی عوامل شامل ہیں۔ بچوں میں اگر اس کا بروقت علاج نہ کیا جائے تو دماغ ایک آنکھ کی تصویر کو نظر انداز کرنا شروع کر دیتا ہے، جس کے نتیجے میں کمزور نظر (Lazy Eye) پیدا ہو سکتی ہے۔
اس بیماری کے اثرات صرف جسمانی نہیں بلکہ نفسیاتی بھی ہوتے ہیں۔ بچے اکثر اسکول میں مذاق، اعتماد کی کمی اور احساسِ کمتری کا شکار ہو جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین بچوں کی ابتدائی عمر میں آنکھوں کے باقاعدہ معائنے پر زور دیتے ہیں۔خوش آئند بات یہ ہے کہ اسٹرابزم قابلِ علاج ہے۔ علاج کا انحصار مریض کی عمر اور مسئلے کی نوعیت پر ہوتا ہے۔ عینک، آنکھوں کی ورزشیں، پٹی (Eye Patch)، ادویات اور بعض صورتوں میں سرجری کے ذریعے اس کا کامیاب علاج ممکن ہے۔ جتنا جلد علاج شروع کیا جائے، اتنے ہی بہتر نتائج سامنے آتے ہیں۔ تربت سے تعلق رکھنے والے  بی۔ ایم۔سی کے ڈاکٹر  محبوب داد نے پہلی کامیاب اسٹرابزم سرجری کی۔ ڈاکٹر محبوب داد نے بتایا کہ اسٹرابزم سرجری ایک نہایت حساس اور مہارت طلب آپریشن ہوتا ہے، جس کا مقصد آنکھوں کی سیدھ درست کر کے مریض کی نظر اور ظاہری شکل دونوں کو بہتر بنانا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مریض کی حالت تسلی بخش ہے اور سرجری کے بعد مثبت نتائج بھی  سامنے آئے۔ عوامی نے بھی ڈاکٹر محبوب داد کی اس کامیاب سرجری کو سراہتے ہوئے انہیں نوجوان نسل کے لیے ایک مثالی آئی اسپیشلسٹ قرار دیا ہے۔ کیوںکہ اسٹرابزم کی سرجری نہایت رسکی ہوسکتی ہے ۔ اور سرجری کے بعد بھی  متاثرہ شخص کو بہت سی دوسری بیماریوں سے گزرنا پڑ سکتا ہے۔ جیسے آنکھوں میں سرخی یا سوجن، ہلکا درد یا جلن، پانی آنا یا خشکی محسوس ہونا، کچھ دن دھندلا نظر آنا، آنکھوں میں تھکن یا کھنچاؤ لیکن اس سب کے باوجود مجموعی طور پر، اسٹرابزم سرجری محفوظ اور مؤثر سمجھی جاتی ہے، خاص طور پر اگر تجربہ کار سرجن سے کروائی جائے اور بعد کی ہدایات پر عمل کیا جائے۔


Related News

Battle of Truth — A Glorious Symbol of Unity, Sacrifice, and National Resolve
Battle of Truth — A Glorious Symbol of Unity, Sacrifice, and National Resolve
Nature’s Speed Master: How the Peregrine Falcon Inspired Modern Aviation
Nature’s Speed Master: How the Peregrine Falcon Inspired Modern Aviation
Viking Civilization: Between Myth, Reality, and Historical Narrati
Viking Civilization: Between Myth, Reality, and Historical Narrati
More Trees on Earth Than Stars in the Milky Way: A Surprising Scientific Discovery
More Trees on Earth Than Stars in the Milky Way: A Surprising Scientific Discovery
Stevia: A Natural Sweetness for Better Health
Stevia: A Natural Sweetness for Better Health
Ching Shih – The Most Powerful Female Pirate in History
Ching Shih – The Most Powerful Female Pirate in History