جنگِ میراتھن: ایک تاریخی دوڑ جس نے دنیا کی مشہور ترین ریس کو جنم دیا
میراتھن ریس کا 42 کلومیٹر فاصلہ محض ایک کھیل نہیں بلکہ ایک عظیم تاریخی واقعے کی یادگار ہے۔ 490 قبل مسیح میں ہونے والی جنگِ میراتھن میں ایتھنز کی چھوٹی سی جمہوریت نے طاقتور فارسی سلطنت کو شکست دے کر نہ صرف اپنی آزادی بچائی بلکہ انسانی عزم، قربانی اور حکمتِ عملی کی ایک لازوال مثال قائم کی۔ اسی جنگ کے بعد ایک قاصد کی تاریخی دوڑ نے جدید میراتھن ریس کی بنیاد رکھی۔
تحریر: سیدہ نتاشا
دنیا بھر میں آج جب بھی میراتھن ریس دوڑی جاتی ہے تو اس کا مقررہ فاصلہ 42 کلومیٹر (26.2 میل) محض اتفاق نہیں ہوتا۔ اس فاصلے کے پیچھے ایک ایسی داستان چھپی ہے جو انسانی تاریخ، قربانی اور آزادی کی جدوجہد سے جڑی ہوئی ہے۔ یہ کہانی ہے 490 قبل مسیح کی جنگِ میراتھن کی، جس نے نہ صرف یونان بلکہ پوری مغربی تہذیب کا رخ موڑ دیا۔
اس دور میں سلطنتِ فارس دنیا کی سب سے بڑی اور طاقتور سلطنت تھی، جس کے فرمانروا دارا اعظم تھے۔ اس کی سلطنت ہندوستان کی سرحدوں سے لے کر مصر اور اناطولیہ تک پھیلی ہوئی تھی۔ دارا کی خواہش تھی کہ وہ یونان کی چھوٹی چھوٹی شہری ریاستوں کو بھی اپنے زیرِ نگیں لے آئے۔ دوسری طرف یونان متحد ملک نہیں تھا بلکہ مختلف ریاستوں پر مشتمل تھا، جن میں ایتھنز اور اسپارٹا نمایاں تھیں۔
یونان اور فارس کے درمیان کشیدگی کا آغاز ایونی بغاوت سے ہوا، جب ایشیا مائنر میں یونانی کالونیوں نے فارسی تسلط کے خلاف علمِ بغاوت بلند کیا۔ ایتھنز نے ان کی مدد کی، جس پر دارا اعظم سخت برہم ہوا۔ اس نے یونانی ریاستوں سے اطاعت کی علامت کے طور پر “مٹی اور پانی” کا مطالبہ کیا۔ ایتھنز اور اسپارٹا نے یہ مطالبہ مسترد کر کے فارس کو کھلا چیلنج دے دیا۔
490 قبل مسیح میں فارسی جرنیلوں داطیس اور ارتا فرنہ کی قیادت میں ایک بڑی فوج یونان پہنچی اور ایتھنز کے قریب میراتھن کے میدان میں خیمہ زن ہو گئی۔ فارسی فوج تعداد، گھڑسواروں اور تیر اندازوں میں برتری رکھتی تھی، جبکہ یونانی فوج تعداد میں کم مگر نظم و ضبط اور بھاری اسلحے سے لیس تھی۔
ایتھنز نے مدد کے لیے اپنے تیز رفتار قاصد فیڈی پیڈس کو اسپارٹا روانہ کیا، جس نے تقریباً 246 کلومیٹر کا فاصلہ صرف دو دن میں طے کیا۔ تاہم مذہبی وجوہات کی بنا پر اسپارٹا فوری مدد نہ کر سکا۔ یوں ایتھنز کو محدود وسائل کے ساتھ فیصلہ کن جنگ لڑنا پڑی۔
ایتھنز کے جرنیل ملٹی ڈیس نے ایک غیر معمولی حکمتِ عملی اپنائی۔ اس نے فوج کے مرکز کو کمزور اور بازوؤں کو مضبوط رکھا۔ جب جنگ شروع ہوئی تو یونانی فوج دوڑتی ہوئی فارسیوں پر ٹوٹ پڑی تاکہ تیر اندازوں کا اثر کم ہو۔ نتیجتاً فارسی فوج گھیرے میں آ گئی اور زبردست شکست سے دوچار ہوئی۔
ہیروڈوٹس کے مطابق اس جنگ میں صرف 192 یونانی سپاہی مارے گئے، جبکہ فارسیوں کے 6,000 سے زائد فوجی ہلاک ہوئے۔ یہ فتح صرف ایک جنگی کامیابی نہیں تھی بلکہ اس نے یونانیوں کو یہ اعتماد دیا کہ وہ ایک عظیم سلطنت کو بھی شکست دے سکتے ہیں۔
فتح کے بعد روایت ہے کہ ایک قاصد میراتھن سے ایتھنز تک دوڑا تاکہ خوشخبری سنائے۔ شہر پہنچ کر اس نے کہا: “ہم جیت گئے!” اور تھکن سے گر کر جان دے دی۔ یہی دوڑ بعد میں میراتھن ریس کی بنیاد بنی، جسے جدید اولمپکس میں شامل کیا گیا اور 1908 میں اس کا فاصلہ 42.195 کلومیٹر مقرر ہوا۔
جنگِ میراتھن تاریخ کا وہ موڑ تھی جس نے جمہوریت، آزادی اور انسانی عزم کو نئی طاقت دی۔ آج بھی جب کوئی ایتھلیٹ میراتھن دوڑتا ہے تو وہ دراصل اسی قربانی، حوصلے اور جدوجہد کی یاد تازہ کرتا ہے جو ڈھائی ہزار سال پہلے یونان کے میدانِ میراتھن میں رقم ہوئی تھی۔