پولیو کے خلاف آخری معرکہ: امید، حوصلے اور انسانی عزم کی داستان

پولیو کے خلاف آخری معرکہ: امید، حوصلے اور انسانی عزم کی داستان

یہ تحریر پولیو کے خلاف عالمی جدوجہد کی جامع اور متاثر کن تصویر پیش کرتی ہے۔ اس میں پولیو کی تباہ کاریوں، ویکسین کی ایجاد، اور عالمی سطح پر کی گئی کوششوں کا ذکر ہے جن کے باعث دنیا بھر میں پولیو کے کیسز میں 99.9 فیصد سے زائد کمی آئی۔ آج پولیو صرف پاکستان اور افغانستان تک محدود ہے، جہاں سیکیورٹی اور رسائی جیسے چیلنجز کے باوجود پولیو ورکرز انتھک محنت کر رہے ہیں۔ تحریر اس امید پر ختم ہوتی ہے کہ اجتماعی عزم، ویکسینیشن اور عوامی تعاون سے پولیو کا مکمل خاتمہ ممکن ہے اور آنے والی نسلوں کو ایک صحت مند، پولیو فری مستقبل دیا جا سکتا ہے۔

تحریر: سیدہ نتاشا
پولیو کے خلاف آخری معرکہ: امید، حوصلے اور انسانی عزم کی شاندار داستان

ذرا تصور کیجیے ایک ایسی دنیا کا جہاں ایک ننھا سا وائرس والدین کے دلوں میں خوف بٹھا دیتا تھا۔  چھٹیاں خوشی نہیں بلکہ ڈر لے کر آتی تھیں ،کھیل کے میدان ویران، سوئمنگ پول بند، اور بچے ایک ان دیکھے خطرے سے بچنے کے لیے گھروں تک محدود۔ یہ خطرہ پولیومیالائٹس (پولیو) تھا،ایک ایسا مرض جو ہر سال لاکھوں بچوں کو مفلوج کر دیتا، کئی کو آہنی پھیپھڑوں، بیساکھیوں اور وہیل چیئرز کا محتاج بنا دیتا، اور بے رحم انداز میں جانیں لے لیتا۔مگر آج، انسانی ذہانت، سائنسی ترقی اور اجتماعی عزم کی بدولت،  پولیو وائرس تقریباً پوری دنیا سے مٹ چکا ہے۔
پولیو ایک نہایت متعدی وائرس سے پھیلتا ہے جو اعصابی نظام پر حملہ کرتا ہے۔ یہ زیادہ تر پانچ سال سے کم عمر بچوں کو متاثر کرتا ہے اور آلودہ پانی یا خوراک کے ذریعے پھیلتا ہے۔ شدید صورتوں میں یہ سانس لینے کے عمل کو بھی روک سکتا ہے۔ بیسویں صدی کے اوائل میں پولیو کی وباؤں نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔ صرف 1952 میں امریکہ میں 57 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے، ہزاروں بچے مفلوج یا جان سے گئے۔ 1980 کی دہائی تک دنیا بھر میں ہر سال ساڑھے تین لاکھ سے زائد بچے پولیو کے باعث مفلوج ہو رہے تھے


مگر انسان نے ہار نہیں مانی۔
1955 میں جوناس سالک نے پہلا مؤثر پولیو ویکسین تیار کیا، اور پھر 1960 کی دہائی میں البرٹ سبین کی زبانی ویکسین آئی ،زبان پر چند قطرے، جنہوں نے دنیا بھر میں حفاظتی ٹیکہ کاری کو انقلاب بنا دیا۔ یہ محض سائنسی کامیابیاں نہیں تھیں، بلکہ انسانیت کی جیت تھیں۔
1988 میں گلوبل پولیو ایراڈیکیشن انیشی ایٹو (GPEI) کا آغاز ہوا، جس کی قیادت عالمی ادارۂ صحت، یونیسف، روٹری انٹرنیشنل، سی ڈی سی اور دیگر شراکت داروں نے کی۔ جیسے اس سے پہلے چیچک (Smallpox) کو دنیا سے ختم کیا گیا تھا، ویسے ہی پولیو کو بھی ختم کرنے کا عزم کیا گیا۔ اگرچہ پولیو ایک مشکل چیلنج تھا کیونکہ اس کے بیشتر مریضوں میں علامات ظاہر نہیں ہوتیں لیکن ویکسین نے خاموش پھیلاؤ کی زنجیر توڑ دی۔
نتائج حیران کن تھے۔
پولیو کے کیسز میں 99.9 فیصد سے زائد کمی آئی۔
امریکہ (1994)، مغربی بحرالکاہل (2000)، یورپ (2002) اور افریقہ (2020) کو پولیو فری قرار دیا گیا۔ پولیو وائرس کی تین اقسام میں سے دو مکمل طور پر دنیا سے ختم ہو چکی ہیں۔
آج، 2025 کے اختتام تک، دنیا میں پولیو صرف پاکستان اور افغانستان تک محدود ہے۔ یہاں بھی مشکلات کم نہیں۔ سیکیورٹی مسائل، دور دراز علاقوں تک رسائی، آبادی کی نقل و حرکت ،لیکن اس کے باوجود حکومتوں کے مضبوط عزم اور ہیلتھ ورکرز کی انتھک محنت سے ویکسینیشن مہمات جاری ہیں، جو لاکھوں بچوں تک پہنچ رہی ہیں۔
یہ وہ بہادر پولیو ورکرز ہیں۔ اکثر خواتین جو گھر گھر جا کر بچوں کو حفاظتی قطرے پلاتی ہیں۔ بعض اوقات خطرات کے باوجود، تنازعات والے علاقوں میں بھی، یہ لوگ امید کا پیغام لے کر نکلتے ہیں۔ ان کی پشت پر عالمی برادری کی معاونت اور انسانیت کی دعائیں ہوتی ہیں۔
کہانیاں دل کو چھو لیتی ہیں۔
پاکستان میں ایک شخص، جو بچپن میں پولیو کے باعث ایک ٹانگ سے معذور ہو گیا، آج ویکسینیشن ٹیموں کی نگرانی کر رہا ہے۔ وہ کہتا ہے:
“میں نہیں چاہتا کہ کوئی بچہ وہ تکلیف سہے جو میں نے سہی۔”
ایک اور پولیو سے متاثرہ شخص، جسے معذوری کے باعث شادی کے رشتوں میں انکار کا سامنا کرنا پڑا، اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ اس کے اپنے بچے مکمل طور پر ویکسین شدہ ہوں۔
یہ کہانیاں ہمیں پولیو کے دردناک اثرات بھی یاد دلاتی ہیں.عمر بھر کی معذوری، سماجی رکاوٹیں,اور انسانی حوصلے کی طاقت بھی۔
آج ہم تاریخ کے دہانے پر کھڑے ہیں۔
پولیو کا خاتمہ انسانیت کی دوسری عظیم فتح ہوگا، چیچک کے بعد,جس سے نہ صرف لاکھوں زندگیاں محفوظ ہوں گی بلکہ صحت کے دیگر مسائل کے لیے وسائل بھی آزاد ہوں گے۔ یہ ثابت کرے گا کہ جب سائنس، حکومتیں، صحت کے کارکن اور عام لوگ ایک مقصد پر متحد ہوں، تو ناممکن بھی ممکن بن جاتا ہے۔
آئیے ماضی کی قربانیوں کا احترام کرتے ہوئے اس جدوجہد کو مکمل کریں۔
ہر بچے کو ویکسین دلائیں۔
پاکستان اور افغانستان میں ہر قطرہ قیمتی ہے۔
مل کر، ہم پولیو کو تاریخ کا حصہ بنا سکتے ہیں ,ایک ایسی دنیا کے لیے جہاں کوئی بچہ اس قدیم دشمن سے خوفزدہ نہ ہو۔
اختتام قریب ہے۔ امید زندہ ہے۔ مستقبل پولیو فری ہے۔


Related News

Battle of Truth — A Glorious Symbol of Unity, Sacrifice, and National Resolve
Battle of Truth — A Glorious Symbol of Unity, Sacrifice, and National Resolve
Nature’s Speed Master: How the Peregrine Falcon Inspired Modern Aviation
Nature’s Speed Master: How the Peregrine Falcon Inspired Modern Aviation
Viking Civilization: Between Myth, Reality, and Historical Narrati
Viking Civilization: Between Myth, Reality, and Historical Narrati
More Trees on Earth Than Stars in the Milky Way: A Surprising Scientific Discovery
More Trees on Earth Than Stars in the Milky Way: A Surprising Scientific Discovery
Stevia: A Natural Sweetness for Better Health
Stevia: A Natural Sweetness for Better Health
Ching Shih – The Most Powerful Female Pirate in History
Ching Shih – The Most Powerful Female Pirate in History