نئی نسل کی خاموش بیماری: اسکرین ایڈکشن

نئی نسل کی خاموش بیماری: اسکرین ایڈکشن

اگر ہم 1990 کی دہائی کا ایک عام مڈل کلاس گھر دیکھیں تو ایک خوبصورت منظر سامنے آتا ہے۔ شام کا وقت ہے، پاپا صوفے پر بیٹھے اخبار پڑھ رہے ہیں، امی اُن کے ساتھ دنیا بھر کی خبریں شیئر کر رہی ہیں۔ دس سال کی بیٹی ہوم ورک کرتے ہوئے میتھ کے سوالات والدین سے پوچھ رہی ہے، جبکہ تین سال کا بیٹا فرش پر بیٹھ کر اپنے کھلونوں سے کھیل رہا ہے۔ ہنسی مذاق، بات چیت، اور ایک مضبوط خاندانی رشتہ اس ماحول کو مکمل کر رہا ہے۔ سب ایک ہی جگہ، ایک دوسرے کے ساتھ ذہنی و جذباتی طور پر جڑے ہوئے ہیں۔ لیکن اب ذرا 2025 کی شام دیکھیے ، وہی گھر، وہی افراد، مگر منظر بالکل بدل چکا ہے۔ پاپا موبائل میں نیوز اسکرول کر رہے ہیں، امی کسی او ٹی ٹی پلیٹ فارم پر سیریز دیکھنے میں مصروف ہیں، بیٹی انسٹاگرام کی اسٹوریز چیک کر رہی ہے، اور تین سال کا بیٹا یوٹیوب کے شورٹس میں گم ہے۔ چاروں ایک ہی جگہ موجود ہیں مگر ذہنی طور پر چار الگ دنیاؤں میں کھوئے ہوئے کوئی گفتگو نہیں، کوئی مسکراہٹ نہیں ،صرف موبائل اسکرین کی نیلی روشنی جو ان کے چہروں پر پڑتی ہے اور ان کے بیچ بڑھتی دوریوں کو واضح کرتی ہے۔ یہ منظر بظاہر عام لگتا ہے مگر درحقیقت یہ موبائل ایڈکشن کے بڑھتے اثرات کی ایک خاموش مگر تلخ تصویر ہے۔ ٹیکنالوجی نے جہاں دنیا کو ایک کلک پر سمیٹ لیا ہے۔ وہی موبائل فون کا زیادہ استعمال ہمارے بچوں کی صحت پر منفی اثر ڈال رہا ہے۔ اس اسکرین کے پیچھے چھپے رنگ برنگے کارٹونز اور گیمز ہمارے بچوں کے دماغ کو بیمار کر رہے ہیں۔ آج کے جدید دور میں موبائل فون زندگی کا حصہ بن چکا ہے۔ اب بچے بھی ہر وقت اسکرین کے سامنے نظر آتے ہیں۔ کبھی گیمز کھیلتے ہیں، کبھی ویڈیوز دیکھتے ہیں یا سوشل میڈیا استعمال کرتے ہیں۔ لیکن کیا ہم نے کبھی سوچا ہے کہ موبائل فون کا یہ زیادہ استعمال بچوں کے دماغ پر کیا اثر ڈال رہا ہے؟ ٹیکنالوجی اور بچپن -ترقی اور تنہائی کا سفر ٹیکنالوجی نے بچوں کے بچپن کی معصوم دنیا کو جدت کے رنگوں میں بدل کر رکھ دیا ہے۔ پہلےزمانے میں بچے گلیوں میں کھلی فضا میں کھیلتے ، دوستوں سے میل جول رکھتے اور ہنسی مذاق میں وقت گزارتے تھے، وہیں اب ان کا زیادہ وقت موبائل، ٹیبلٹ اور کمپیوٹر اسکرین کے سامنے گزرنے لگا ہے۔ کھیل کے میدانوں کی جگہ آن لائن گیمز نے لے لی ہے، اور حقیقی میل جول کی جگہ ورچوئل چیٹ نے۔جس سے ان کی معاشرتی صلاحیتیں کمزور پڑ رہی ہیں۔ اس تبدیلی نے بچوں کے سیکھنے اور سوچنے کے انداز کو بدل دیا ہے۔ اگرچہ ٹیکنالوجی سیکھنے کے نئے دروازے کھولتی ہے، مگر ضرورت اس بات کی ہے کہ اس کے استعمال میں توازن رکھا جائے تاکہ بچپن کی معصومیت اور تخلیقی صلاحیتیں برقرار رہ سکیں۔۔ زہنی نشوونما میں کمی اسکرین کا زیادہ استعمال سے بچے کی ذہنی نشوونما متاثر ہوتی ہے۔ جب بچہ کھیلنے، سیکھنے اور دوسروں سے بات کرنے کے بجائے صرف اسکرین دیکھتا ہے تو اس کے دماغ کی بڑھوتری سست ہو جاتی ہے۔ شہری علاقوں میں رہنے والے 70 ہزار سے زائد والدین پر کی گئی تحقیق کے مطابق 66 فیصد سے زیادہ والدین کا کہنا ہے کہ ان کے بچے او ٹی ٹی پلیٹ فارمز، آن لائن گیمز اور سوشل میڈیا کے عادی ہو چکے ہیں۔ 58 فیصد والدین نے یہ بتایا کہ اس عادات کی وجہ سے بچوں میں غصہ اور چڑچڑاپن بڑھ گیا ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ عالمی ادارۂ صحت (World Health Organization) کی تفشش کے مطابق دو سال سے کم عمر بچوں کو بالکل بھی اسکرین کا استعمال نہیں کرنا چاہیے، جبکہ دو سے چار سال کے بچوں کے لیے اسکرین ٹائم دن میں زیادہ سے زیادہ ایک گھنٹہ ہونا چاہیے۔ 2. مجازی یا ورچوئل آٹزم (Virtual Autism) اسکرین پر زیادہ وقت گزارنے والے بچوں میں "ورچوئل آٹزم" جیسی علامات ظاہر ہونے لگتی ہیں۔ یہ بچے دوسروں سے نظری رابطہ نہیں رکھتے، آوازوں پر کم ردِعمل دیتے ہیں، اور اکیلے رہنا پسند کرتے ہیں۔ چونکہ وہ اصل دنیا کے لوگوں کے بجائے صرف کارٹونز اور ویڈیوز سے بات چیت کرتے ہیں، اس لیے ان کی سماجی اور جذباتی صلاحیتیں کمزور ہو جاتی ہیں۔ جب بچے ہر وقت موبائل پر ویڈیوز دیکھتے ہیں تو وہ صرف سننے کے عادی ہو جاتے ہیں، بولنے یا دوسروں سے بات کرنے کی مشق نہیں کرتے۔ والدین کے ساتھ گفتگو کم ہونے سے ان کا ذخیرہ الفاظ (vocabulary) نہیں بڑھتا۔ اسی وجہ سے بہت سے بچے دیر سے بولتے ہیں یا الفاظ ٹھیک طرح ادا نہیں کر پاتے۔ موٹاپا (Obesity) زیادہ اسکرین استعمال کرنے والے بچوں میں موٹاپے کا خطرہ بھی تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ بچے باہر جا کر کھیلنے یا کسی جسمانی سرگرمی (ایکٹیویٹی) میں حصہ نہیں لیتے۔ وہ زیادہ تر وقت گھر میں بیٹھ کر موبائل، ٹی وی یا کمپیوٹر کی اسکرین دیکھتے رہتے ہیں۔ اسی طرح برطانیہ (یو کے) میں ایک ہزار بچوں پر کیے گئے سروے میں جب پوچھا گیا کہ وہ کھیل کود کے بارے میں کیا سوچتے ہیں، تو 23 فیصد بچوں نے کہا کہ کمپیوٹر پر گیم کھیلنا بھی ایک ورزش (ایکسسرسائز) ہے۔ کھانا کھاتے وقت بھی والدین اکثر بچوں کو موبائل دکھاتے ہیں تاکہ وہ آرام سے کھانا کھا لیں۔ مگر تحقیق کے مطابق جو بچے کھانے کے دوران اسکرین دیکھتے ہیں، وہ زیادہ کیلوریز (Calories) کھاتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ کھانے پر توجہ نہیں دیتے اور انہیں احساس نہیں ہوتا کہ وہ کتنا کھا چکے ہیں، جس سے وزن بڑھنے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ، اسکرین دیکھتے ہوئے بچے کھانا اچھی طرح چباتے نہیں، جس کی وجہ سے دانتوں میں کیویٹی (cavity) ہونے کا امکان بھی بڑھ جاتا ہے۔ یعنی زیادہ اسکرین ٹائم نہ صرف جسمانی سرگرمی کو کم کرتا ہے بلکہ بچوں میں موٹاپے، غیر صحت مند کھانے کی عادت اور دانتوں کی بیماریوں کا سبب بھی بنتا ہے۔ . نظر کی کمزوری (Myopia) بچوں کی آنکھیں ابھی نازک ہوتی ہیں۔جب اسکرین پر زیادہ وقت گزارنے کے باعث بچے باہر کھیلنے یا قدرتی روشنی میں وقت گزارنے سے محروم رہ جاتے ہیں۔ جب وہ موبائل کی اسکرین کو قریب سے اور زیادہ دیر تک دیکھتے ہیں تو آنکھوں پر دباؤ بڑھ جاتا ہے۔دن کی دھوپ اور رات کی قدرتی روشنی سے کم واسطہ ہونے کی وجہ سے ان میں مایوپیا (یعنی دور کی نظر کا کمزور ہونا) کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ مایوپیا تیزی سے ایک عالمی مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ تحقیق کے مطابق ڈیجیٹل اسکرینز کے زیادہ استعمال سے دنیا میں مایوپیا کے کیسز میں تقریباً دو فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اگر یہی رجحان جاری رہا تو 2050 تک دنیا کے 50 فیصد بچوں کو مایوپیا لاحق ہونے کا خطرہ ہے، اور اکثر بچوں کو چشمہ لگانا پڑے گا۔ یہ مسئلہ اب بہت عام ہو چکا ہے، خاص طور پر اسکول جانے والے بچوں میں۔ نیند اور جسمانی صحت آج کے بچے نیند سے زیادہ موبائل کے عادی ہوتے جا رہے ہیں۔رات کو سونے کے بجائے وہ دیر تک اسکرین کے سامنے لگے رہتے ہیں۔ گیمز، ویڈیوز اور سوشل میڈیا کے چمکتے رنگ ان کی آنکھوں اور دماغ کو جاگتا رکھتے ہیں۔ ریسرچ کے مطابق پانچ سے سترہ سال کی عمر کے بچوں پر کی گئی 67 مختلف اسٹڈیز سے پتا چلا کہ زیادہ اسکرین ٹائم بچوں کی نیند کے دورانیے کو کم کر دیتا ہے۔ فن لینڈ میں کی گئی ایک تحقیق میں تین سے چھ سال کے 736 بچوں کو شامل کیا گیا۔ اس ریسرچ سے معلوم ہوا کہ جب بچوں کا اسکرین ٹائم ایک گھنٹہ بڑھتا ہے تو ان کی نیند کا دورانیہ تقریباً دس منٹ کم ہو جاتا ہے۔ اسی طرح چین میں کی گئی ایک اور تحقیق میں بھی یہی نتیجہ سامنے آیا کہ جن بچوں کا اسکرین ٹائم زیادہ ہوتا ہے، ان میں نیند کی خرابی (Sleep Disorder) کا خطرہ تقریباً 12 فیصد بڑھ جاتا ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ میلٹونن (Melatonin) نامی ہارمون ہے، جو نیند لانے میں مدد دیتا ہے۔ یہ ہارمون تب بنتا ہے جب ہمارے آس پاس روشنی کم ہو، یعنی جب رات ہوتی ہے اور لائٹس بند کی جاتی ہیں تو جسم خود کو سونے کے لیے تیار کرتا ہے۔ لیکن موبائل اور دوسری الیکٹرانک ڈیوائسز سے نکلنے والی نیلی روشنی اس ہارمون کی پیداوار کو روک دیتی ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بچوں کو نیند آنے میں دیر لگتی ہے اور ان کی نیند کا نظام بگڑ جاتا ہے۔

نئی نسل کی خاموش بیماری: اسکرین ایڈکشن

اگر ہم 1990 کی دہائی کا ایک عام مڈل کلاس گھر دیکھیں تو ایک خوبصورت منظر سامنے آتا ہے۔ شام کا وقت ہے، پاپا صوفے پر بیٹھے اخبار پڑھ رہے ہیں، امی اُن کے ساتھ دنیا بھر کی خبریں شیئر کر رہی ہیں۔ دس سال کی بیٹی ہوم ورک کرتے ہوئے میتھ کے سوالات والدین سے پوچھ رہی ہے، جبکہ تین سال کا بیٹا فرش پر بیٹھ کر اپنے کھلونوں سے کھیل رہا ہے۔ ہنسی مذاق، بات چیت، اور ایک مضبوط خاندانی رشتہ اس ماحول کو مکمل کر رہا ہے۔ سب ایک ہی جگہ، ایک دوسرے کے ساتھ  ذہنی و جذباتی طور پر جڑے ہوئے ہیں۔


لیکن اب ذرا 2025 کی شام دیکھیے ،  وہی گھر، وہی افراد، مگر منظر بالکل بدل چکا ہے۔ پاپا موبائل میں نیوز اسکرول کر رہے ہیں، امی کسی او ٹی ٹی پلیٹ فارم پر سیریز دیکھنے میں مصروف ہیں، بیٹی انسٹاگرام کی اسٹوریز چیک کر رہی ہے، اور تین سال کا بیٹا یوٹیوب کے شورٹس میں گم ہے۔ چاروں ایک ہی جگہ موجود ہیں مگر ذہنی طور پر  چار الگ دنیاؤں میں کھوئے ہوئے  کوئی گفتگو نہیں، کوئی مسکراہٹ نہیں ،صرف موبائل اسکرین کی نیلی روشنی جو ان کے چہروں پر پڑتی ہے اور ان کے بیچ بڑھتی دوریوں کو واضح کرتی ہے۔
یہ منظر بظاہر عام لگتا ہے مگر درحقیقت یہ موبائل ایڈکشن کے بڑھتے اثرات  کی ایک خاموش مگر تلخ تصویر ہے۔
ٹیکنالوجی نے  جہاں دنیا کو ایک کلک پر سمیٹ لیا ہے۔ وہی موبائل فون کا زیادہ استعمال ہمارے بچوں کی صحت پر منفی اثر ڈال رہا ہے۔  اس اسکرین کے پیچھے چھپے  رنگ برنگے کارٹونز اور گیمز ہمارے بچوں کے  دماغ کو  بیمار کر رہے ہیں۔ آج کے جدید دور میں موبائل فون زندگی کا حصہ بن چکا ہے۔ اب بچے بھی ہر وقت اسکرین کے سامنے نظر آتے ہیں۔ کبھی گیمز کھیلتے ہیں، کبھی ویڈیوز دیکھتے ہیں یا سوشل میڈیا استعمال کرتے ہیں۔ لیکن کیا ہم نے کبھی سوچا ہے کہ موبائل فون کا یہ زیادہ استعمال بچوں کے دماغ پر کیا اثر ڈال رہا ہے؟

ٹیکنالوجی اور بچپن -ترقی اور تنہائی کا سفر 
 ٹیکنالوجی نے بچوں کے بچپن کی معصوم دنیا کو جدت کے رنگوں میں  بدل کر رکھ دیا ہے۔ پہلےزمانے میں بچے گلیوں میں کھلی فضا میں کھیلتے ، دوستوں سے میل جول رکھتے  اور ہنسی مذاق میں وقت گزارتے تھے، وہیں اب ان کا زیادہ وقت موبائل، ٹیبلٹ اور کمپیوٹر اسکرین کے سامنے گزرنے لگا ہے۔ کھیل کے میدانوں کی جگہ آن لائن گیمز نے لے لی ہے، اور حقیقی میل جول کی جگہ ورچوئل چیٹ نے۔جس سے ان کی معاشرتی صلاحیتیں کمزور پڑ رہی ہیں۔ 
 اس تبدیلی نے بچوں کے سیکھنے اور سوچنے کے انداز کو بدل دیا ہے۔ اگرچہ ٹیکنالوجی سیکھنے کے نئے دروازے کھولتی ہے، مگر ضرورت اس بات کی ہے کہ اس کے استعمال میں توازن رکھا جائے تاکہ بچپن کی معصومیت اور تخلیقی صلاحیتیں برقرار رہ سکیں۔۔

زہنی  نشوونما میں کمی 
اسکرین کا  زیادہ استعمال سے بچے کی ذہنی نشوونما متاثر ہوتی ہے۔ جب بچہ کھیلنے، سیکھنے اور دوسروں سے بات کرنے کے بجائے صرف اسکرین دیکھتا ہے تو اس کے دماغ کی بڑھوتری سست ہو جاتی ہے۔ 
شہری علاقوں میں رہنے والے 70 ہزار سے زائد والدین پر کی گئی تحقیق کے مطابق   66 فیصد سے زیادہ والدین کا کہنا ہے کہ ان کے بچے او ٹی ٹی پلیٹ فارمز، آن لائن گیمز اور سوشل میڈیا کے عادی ہو چکے ہیں۔ 58 فیصد والدین نے یہ  بتایا کہ اس عادات کی وجہ سے بچوں میں غصہ اور چڑچڑاپن بڑھ گیا ہے۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ عالمی ادارۂ صحت (World Health Organization) کی تفشش کے  مطابق  دو سال سے کم عمر بچوں کو بالکل بھی اسکرین کا استعمال نہیں کرنا چاہیے، جبکہ دو سے چار سال کے بچوں کے لیے اسکرین ٹائم دن میں زیادہ سے زیادہ ایک گھنٹہ ہونا چاہیے۔
 
 مجازی یا ورچوئل آٹزم (Virtual Autism)
اسکرین  پر زیادہ وقت گزارنے والے بچوں میں ورچوئل آٹزم جیسی علامات ظاہر ہونے لگتی ہیں۔ یہ بچے دوسروں سے نظری رابطہ نہیں رکھتے، آوازوں پر کم ردِعمل دیتے ہیں، اور اکیلے رہنا پسند کرتے ہیں۔ چونکہ وہ اصل دنیا کے لوگوں کے بجائے صرف کارٹونز اور ویڈیوز سے بات چیت کرتے ہیں، اس لیے ان کی سماجی اور جذباتی صلاحیتیں کمزور ہو جاتی ہیں۔
جب بچے ہر وقت موبائل پر ویڈیوز دیکھتے ہیں تو وہ صرف سننے کے عادی ہو جاتے ہیں، بولنے یا دوسروں سے بات کرنے کی مشق نہیں کرتے۔ والدین کے ساتھ گفتگو کم ہونے سے ان کا ذخیرہ الفاظ (vocabulary) نہیں بڑھتا۔ اسی وجہ سے بہت سے بچے دیر سے بولتے ہیں یا الفاظ ٹھیک طرح ادا نہیں کر پاتے۔

 موٹاپا (Obesity)
زیادہ اسکرین استعمال کرنے والے بچوں میں موٹاپے کا خطرہ بھی تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ بچے باہر جا کر کھیلنے یا کسی جسمانی سرگرمی (ایکٹیویٹی) میں حصہ نہیں لیتے۔ وہ زیادہ تر وقت گھر میں بیٹھ کر موبائل، ٹی وی یا کمپیوٹر کی اسکرین دیکھتے رہتے ہیں۔
اسی طرح  برطانیہ (یو کے)  میں ایک ہزار بچوں پر کیے گئے سروے میں جب پوچھا گیا کہ وہ کھیل کود کے بارے میں کیا سوچتے ہیں، تو 23 فیصد بچوں نے کہا کہ کمپیوٹر پر گیم کھیلنا بھی ایک ورزش (ایکسسرسائز) ہے۔
کھانا کھاتے وقت بھی والدین اکثر بچوں کو موبائل دکھاتے ہیں تاکہ وہ آرام سے کھانا کھا لیں۔ مگر تحقیق کے مطابق جو بچے کھانے کے دوران اسکرین دیکھتے ہیں، وہ زیادہ کیلوریز (Calories) کھاتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ کھانے پر توجہ نہیں دیتے اور انہیں احساس نہیں ہوتا کہ وہ کتنا کھا چکے ہیں، جس سے وزن بڑھنے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔
اس کے علاوہ، اسکرین دیکھتے ہوئے بچے کھانا اچھی طرح چباتے نہیں، جس کی وجہ سے دانتوں میں کیویٹی (cavity) ہونے کا امکان بھی بڑھ جاتا ہے۔
یعنی زیادہ اسکرین ٹائم نہ صرف جسمانی سرگرمی کو کم کرتا ہے بلکہ بچوں میں موٹاپے، غیر صحت مند کھانے کی عادت اور دانتوں کی بیماریوں کا سبب بھی بنتا ہے۔

نظر کی کمزوری (Myopia)
بچوں کی آنکھیں ابھی نازک ہوتی ہیں۔جب اسکرین پر زیادہ وقت گزارنے کے باعث بچے باہر کھیلنے یا قدرتی روشنی میں وقت گزارنے سے محروم رہ جاتے ہیں۔  جب وہ موبائل کی اسکرین کو قریب سے اور زیادہ دیر تک دیکھتے ہیں تو آنکھوں پر دباؤ بڑھ جاتا ہے۔دن کی دھوپ اور رات کی قدرتی روشنی سے کم واسطہ ہونے کی وجہ سے ان میں  مایوپیا (یعنی دور کی نظر کا کمزور ہونا) کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ مایوپیا تیزی سے ایک عالمی مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ تحقیق کے مطابق ڈیجیٹل اسکرینز کے زیادہ استعمال سے دنیا میں مایوپیا کے کیسز میں تقریباً دو فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اگر یہی رجحان جاری رہا تو  2050 تک دنیا کے 50 فیصد بچوں کو مایوپیا  لاحق ہونے کا خطرہ ہے، اور اکثر بچوں کو چشمہ لگانا پڑے گا۔
  یہ مسئلہ اب بہت عام ہو چکا ہے، خاص طور پر اسکول جانے والے بچوں میں۔

 نیند اور جسمانی صحت 
آج کے بچے نیند سے زیادہ موبائل کے عادی ہوتے جا رہے ہیں۔رات کو سونے کے بجائے وہ دیر تک اسکرین کے سامنے لگے رہتے ہیں۔ گیمز، ویڈیوز اور سوشل میڈیا کے چمکتے رنگ ان کی آنکھوں اور دماغ کو جاگتا رکھتے ہیں۔
ریسرچ کے مطابق پانچ سے سترہ سال کی عمر کے بچوں پر کی گئی 67 مختلف اسٹڈیز  سے پتا چلا کہ زیادہ اسکرین ٹائم بچوں کی نیند کے دورانیے کو کم کر دیتا ہے۔
فن لینڈ میں کی گئی ایک تحقیق میں تین سے چھ سال کے 736 بچوں  کو شامل کیا گیا۔ اس ریسرچ سے معلوم ہوا کہ جب بچوں کا اسکرین ٹائم ایک گھنٹہ بڑھتا ہے تو ان کی نیند کا دورانیہ تقریباً  دس منٹ کم ہو جاتا ہے۔
اسی طرح چین میں کی گئی ایک اور تحقیق میں بھی یہی نتیجہ سامنے آیا کہ جن بچوں کا اسکرین ٹائم زیادہ ہوتا ہے، ان میں نیند کی خرابی (Sleep Disorder)  کا خطرہ تقریباً  12 فیصد بڑھ جاتا ہے۔
اس کی ایک بڑی وجہ میلٹونن (Melatonin) نامی ہارمون ہے، جو نیند لانے میں مدد دیتا ہے۔ یہ ہارمون تب بنتا ہے جب ہمارے آس پاس روشنی کم ہو، یعنی جب رات ہوتی ہے اور لائٹس بند کی جاتی ہیں تو جسم خود کو سونے کے لیے تیار کرتا ہے۔ لیکن موبائل اور دوسری الیکٹرانک ڈیوائسز سے نکلنے والی نیلی روشنی  اس ہارمون کی پیداوار کو روک دیتی ہے۔
نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بچوں کو نیند آنے میں دیر لگتی ہے اور ان کی نیند کا نظام بگڑ جاتا ہے۔

یہ دور سہولتوں کا ہے، مگر انہی سہولتوں نے ہمارے بچوں سے ان کا سکون اور بچپن چھین لیا ہے۔ کبھی جو وقت کھیل، کہانیوں اور ہنسی میں گزرتا تھا، اب وہ خاموشی اور تنہائی میں بدل گیا ہے۔ بچوں کی آنکھوں میں روشنی تو ہے، مگر یہ وہ چمک نہیں جو خوشی سے آتی ہے، بلکہ وہ تھکن ہے جو حد سے زیادہ مصروف دماغ پر چھا جاتی ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے گھروں میں دوبارہ زندگی کی گہما گہمی لوٹائیں، بچوں کو فطرت، کھیل اور گفتگو سے جوڑیں۔ کیونکہ اگر آج ہم نے ان کے احساسات کو بے جان کر دیا تو آنے والا وقت صرف خاموش نسلوں کی گواہی دے گا۔


Related News

Battle of Truth — A Glorious Symbol of Unity, Sacrifice, and National Resolve
Battle of Truth — A Glorious Symbol of Unity, Sacrifice, and National Resolve
Nature’s Speed Master: How the Peregrine Falcon Inspired Modern Aviation
Nature’s Speed Master: How the Peregrine Falcon Inspired Modern Aviation
Viking Civilization: Between Myth, Reality, and Historical Narrati
Viking Civilization: Between Myth, Reality, and Historical Narrati
More Trees on Earth Than Stars in the Milky Way: A Surprising Scientific Discovery
More Trees on Earth Than Stars in the Milky Way: A Surprising Scientific Discovery
Stevia: A Natural Sweetness for Better Health
Stevia: A Natural Sweetness for Better Health
Ching Shih – The Most Powerful Female Pirate in History
Ching Shih – The Most Powerful Female Pirate in History