امریکہ کی سب سے خطرناک قبر: وہ شخص جو ایٹمی تابوت میں دفن ہے
1961 میں آئیڈا ہو کے صحرا میں ایک امریکی فوجی نیوکلیئر ری ایکٹر کے ہولناک حادثے میں تین افراد جان سے گئے۔ ان میں سے ایک رچرڈ لیروئے مککنلی تھا، جس کی لاش اس قدر تابکار ہو چکی تھی کہ اسے عام طریقوں سے دفن کرنا ناممکن تھا۔ آرلنگٹن نیشنل قبرستان میں اس کے لیے ایک خصوصی “ایٹمی تابوت” تیار کیا گیا، جو آج بھی انسان اور ایٹمی طاقت کے خطرناک تعلق کی خاموش علامت سمجھا جاتا ہے۔
تحریر: سیدہ نتاشا
1961 کا سال امریکی تاریخ کے ان خوفناک لمحات میں شمار ہوتا ہے جب سائنس، طاقت اور انسانی جان کے درمیان توازن بری طرح بگڑ گیا۔ آئیڈا ہو کے صحرا میں واقع ایک امریکی فوجی نیوکلیئر ری ایکٹر میں اچانک ایک شدید دھماکہ ہوا۔ یہ حادثہ اتنا خطرناک تھا کہ موقع پر موجود تین افراد جان کی بازی ہار گئے۔
ان تین افراد کے جسم شدید تابکاری کی زد میں آ چکے تھے۔ ان میں سے ایک رچرڈ لیروئے مککنلی تھا، جس کی باقیات عام انسانی لاشوں سے بالکل مختلف بن چکی تھیں۔ اس کا جسم اس حد تک تابکار ہو گیا تھا کہ سائنس دان نہ تو اسے جلا سکتے تھے، نہ دھو سکتے تھے، اور نہ ہی براہِ راست چھونے کی اجازت تھی۔ یہ سب کچھ اس لیے تھا کہ اس کے جسم سے خارج ہونے والی تابکاری زندہ انسان کے لیے جان لیوا ثابت ہو سکتی تھی۔
جب تدفین کا مرحلہ آیا تو ایک غیر معمولی فیصلہ کیا گیا۔ رچرڈ مککنلی کے لیے ایک ایسا تابوت تیار کیا گیا جو اس سے پہلے شاید ہی کبھی بنایا گیا ہو۔ یہ تابوت سیسے سے تیار کیا گیا، مکمل طور پر ویکیوم سیل کیا گیا، پھر اسے فولاد اور دیگر حفاظتی تہوں میں بند کر کے زمین کی گہرائی میں دفن کیا گیا۔ اس تابوت کا مقصد لاش کو محفوظ رکھنا نہیں بلکہ اس میں موجود خطرناک تابکاری کو قابو میں رکھنا تھا۔
یہ قبر آرلنگٹن نیشنل قبرستان میں موجود ہے، مگر دیگر قبروں کے برعکس اس پر نہ پھول رکھے جاتے ہیں اور نہ ہی لوگ وہاں رک کر دعا کرتے نظر آتے ہیں۔ یہ قبر خاموش ہے، تنہا ہے، اور ایک خوفناک حقیقت کی نمائندہ ہے۔
ساٹھ برس سے زائد کا عرصہ گزر جانے کے باوجود یہ کہا جاتا ہے کہ رچرڈ مککنلی کا جسم آج بھی ہلکی سی تابکاری خارج کرتا ہے۔ یہ قبر انسان اور ایٹمی طاقت کے اس خطرناک رشتے کی علامت ہے جس نے ترقی تو دی، مگر ساتھ ہی تباہی کا امکان بھی ہمیشہ زندہ رکھا۔
یہ کہانی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ سائنس اور طاقت اگر احتیاط، اخلاق اور ذمہ داری کے بغیر استعمال ہوں تو وہ انسان کے لیے نعمت کے بجائے خاموش خطرہ بن سکتی ہیں۔