“ماحول کے لیے آج کی کوششیں، کل کی پائیدار زندگی: دنیا اور پاکستان کا تقابلی جائزہ”
ماحولیاتی آگاہی موجودہ دور کی ایک اہم ضرورت بن چکی ہے، کیونکہ صنعتی ترقی، آبادی میں اضافہ اور قدرتی وسائل کے بے جا استعمال نے دنیا بھر میں ماحولیاتی توازن کو متاثر کیا ہے۔ پاکستان پانی کی قلت، جنگلات کی کمی، موسمیاتی تبدیلی، پلاسٹک آلودگی اور ناقص ویسٹ مینجمنٹ جیسے سنگین مسائل کا سامنا کر رہا ہے۔ عالمی سطح پر ماحول کے تحفظ کے لیے مؤثر پالیسیاں اپنائی جا رہی ہیں، جبکہ پاکستان ابھی اس دوڑ میں پیچھے ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو مستقبل میں حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔ شجرکاری، وسائل کا محتاط استعمال، ری سائیکلنگ، ماحولیاتی تعلیم اور عوامی شعور کی بیداری ہی ایک صاف، محفوظ اور پائیدار مستقبل کی ضمانت بن سکتی ہے۔
"ماحول کے لیے آج کی کوششیں، کل کی بہترین زندگی"
تحریر: مجیب الرحمان
حقائق، اعداد و شمار اور دنیا بمقابلہ پاکستان
ماحولیاتی آگاہی سے مراد ماحول کی اہمیت، اس کو لاحق خطرات اور اس کے تحفظ کے بارے میں شعور ہے۔ زمین پر انسانی زندگی کا دار و مدار ایک متوازن ماحول پر ہے، لیکن صنعتی ترقی، آبادی میں تیز رفتار اضافہ اور قدرتی وسائل کے بے جا استعمال نے اس توازن کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ آج دنیا کے ساتھ ساتھ پاکستان بھی ماحولیاتی بحران کا سامنا کر رہا ہے۔
زمین عالمی اور پاکستانی تناظر
زمین کا 71٪ حصہ پانی اور 29٪ حصہ خشکی پر مشتمل ہے,دنیا میں دستیاب میٹھا پانی صرف 3٪ ہے-پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جو پانی کی شدید قلت کا سامنا کر رہے ہیں
دنیا بمقابلہ پاکستان فی کس دستیاب پانی1,000 مکعب میٹر سے کم پانی کی قلت کا شکار ملک اور باقی دنیاکے ممالک میں تقریباً 5,000 مکعب میٹر پانی کی صورتحال قابلِ برداشت ہیں
ماہرین کے مطابق اگر موجودہ حالات برقرار رہے تو پاکستان مستقبل قریب میں شدید آبی بحران کا شکار ہو سکتا ہے۔
زمین کی فضا میں٪ 78نائٹروجن ،٪ 21آکسیجناور٪ 1دیگر گیسس موجود ہیں ،اور درخت آکسیجن پیدا کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ
ہیں-ایک درخت سالانہ 100–120 کلوگرام آکسیجن پیدا کرتا ہےاورایک درخت 2–4 افراد کی آکسیجن کی ضرورت پوری کر سکتا ہے
جنگلات دنیا اور پاکستان کا موازنہ
زمینی حیاتیات کا80٪ مسکن ہیں جو کے عالمی کاربن ڈائی آکسائیڈ کو جذب کر کے گلوبل وارمنگ کم کرتے ہیں دنیا کی زمینی سطح کا تقریباً 31٪ حصہ جنگلات پر مشتمل ہےجبکہ پاکستان میں جنگلات کا رقبہ صرف 4–5٪ ہے ماہرین کے مطابق کسی بھی ملک کے لیے کم از کم 25٪ جنگلات ہونا ضروری ہیں
اگر ہم دنیا کو دیکھں تو یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان جنگلات کے معاملے میں دنیا سے بہت پیچھے ہے۔برازیل٪ 59،کینیڈا٪38،جرمنی٪32،بھارت24٪،اور پاکستان٪ 5پر موجودہے
دنیا میں ہر سال تقریباً 1 کروڑ ہیکٹر جنگلات ختم ہو رہے ہیں ،پاکستان میں غیر قانونی جنگلات کی کٹائی،ایندھن کے لیے لکڑی کا استعمال،شہری توسیع،جنگلات کی کمی کی بڑی وجوہات ہیں جس کی وجہ سےدرجہ حرارت میں اضافہ ،بارشوں کے نظام میں خرابی ،سیلاب اور خشک سالی میں اضافہ کی وجہات کا سبب بنتی ہیں
سے بڑھ چکا ہے°C 1.1 گزشتہ 100 سال میں زمین کا اوسط درجہ حرارت
پاکستان دنیا کے ان 10 ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہیں جس سے گلیشیئرز کا تیزی سے پگھلنا ،شدید گرمی کی لہریں غیر متوقع بارشیں اور تباہ کن سیلاب جیسے معملات سامنے آئے ہیں
پاکستان دنیا کے ان 10 ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہیں جس سے گلیشیئرز کا تیزی سے پگھلنا ،شدید گرمی کی لہریں (Heat Waves)غیر متوقع بارشیں اور تباہ کن سیلاب جیسے معملات سامنے آئے ہیں-
ایک بین الاقوامی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق حالیہ دنوں میں پاکستان کے مختلف حصوں، خاص طور پر بلوچستان میں موسم اچانک خراب ہونے کی بنیادی وجہ ایک مضبوط مغربی موسمی کا نظام (مغربی ہواؤں والا موسمی سسٹم) ملک میں داخل ہوا ہے۔ یہ سسٹم ایران اور افغانستان کے راستے پاکستان میں داخل ہوا، جس نے بالائی اور مغربی علاقوں میں شدید سردی، بارش اور برفباری کو جنم دیا۔
رپورٹ کے مطابق اس موسمی نظام کے ساتھ درجہ حرارت میں اچانک نمایاں کمی ہوئی ،بعض علاقوں میں درجہ حرارت منفی سطح تک گر گیا،سرد ہوائیں تیز ہو گئیں جس سے سردی کی شدت میں اضافہ ہوا-محکمہ موسمیات کے حوالے سے بین الاقوامی خبر رساں ادارے نے بتایا کہ یہ سسٹم عام طور پر سردیوں میں آتا ہے، لیکن اس بار اس کی شدت معمول سے زیادہ رہی- رپورٹ میں ماہرینِ موسمیات کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ اگرچہ ہر موسمی نظام قدرتی ہوتا ہے لیکن عالمی موسمیاتی تبدیلی کے باعث ایسے واقعات کی شدت اور غیر متوقع پن بڑھ رہا ہےکبھی شدید بارش، کبھی طویل خشک سالی، اور کبھی غیر معمولی سردی یہ سب بدلتے موسمی رجحانات کی علامات ہیں
پلاسٹک سے آلودگی عالمی و مقامی صورتحال دنیا میں سالانہ 40 کروڑ ٹن پلاسٹک تیار ہوتا ہے جس میں سے صرف 19٪ ری سائیکل ہوتا ہےاور پاکستان میں سرکاری رپورٹ کے مطابق ہر سال تقریباً 3.9 ملین ٹن (تقریباً 39 لاکھ ٹن) پلاسٹک ویسٹ پیدا ہوتا ہے، جس میں سے صرف تقریباً 4% تا 9% پلاسٹک ری سائیکل ہوتا ہے۔ یعنی 100 میں سے صرف 4 سے 9 ٹن کو ری سائیکل کیا جاتا ہے جبکہ باقی کہاں جاتا ہے وہ اکثر لینڈ فل سائٹس، نالوں یا کھلے مقامات میں پھینک دیا جاتا ہے پلاسٹک ایک ایسا مواد ہے جو زمین میں 400–500 سال تک موجود رہتا ہے جو کہ جانوروں اور آبی حیات کے لیے جان لیوا ہے
فضلہ مینجمنٹ اور آلودگی کنٹرول سےپلاسٹک اور فوسل فیول کا کم استعمال، صاف توانائی کا فروغ،فضلہ کو ری سائیکل کرنانظام کو صاف بنا سکتا ہے
ماحولیاتی آگاہی کی اہمیت
(خصوصاً پاکستان میں)جیسا کہ پاکستان کی آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے، جس کے نتیجے میں پانی، خوراک، توانائی اور زمین جیسے قدرتی وسائل پر دباؤ مسلسل بڑھتا جا رہا ہے۔ دوسری جانب یہ وسائل پہلے ہی محدود ہیں، جبکہ صنعتی سرگرمیوں، ٹریفک، پلاسٹک ویسٹ اور ناقص ویسٹ مینجمنٹ کے باعث ماحولیاتی آلودگی میں خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے۔اس صورتحال میں اگر ماحولیاتی آگاہی کو فروغ نہ دیا گیا تو پائیدار ترقی کا حصول ممکن نہیں۔ عوام میں یہ شعور ہونا ضروری ہے کہ قدرتی وسائل کا غیر ذمہ دارانہ استعمال نہ صرف موجودہ نسل بلکہ آنے والی نسلوں کے مستقبل کو بھی خطرے میں ڈال رہا ہے۔
اس کے لیے پاکستان اقدامات میں جو کرنے چاہیے اْن میں ،بڑے پیمانے پر شجرکاری مہمات ،پانی کے ضیاع پر قابو، پلاسٹک بیگز پر پابندی،ماحولیاتی تعلیم کو نصاب میں شامل کرنا،پانی، بجلی اور گیس کا محتاط استعمال،کچرا سڑکوں اور نالوں میں نہ پھینکنا،گھریلو کچرا ممکن ہو تو الگ رکھنا،درخت لگانا اور ان کی حفاظت کرنا،کچرا جلانے سے پرہیز،گاڑیوں کا غیر ضروری استعمال کم کرنا،بچوں میں ماحولیاتی شعور پیدا کرنا شامل ہیں-
ماحولیاتی آگاہی آج وقت کی سب سے اہم ضرورت بن چکی ہے، کیونکہ دنیا کے ماحولیاتی نظام میں تیزی سے تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں اور انسانی سرگرمیاں اس پر براہِ راست اثر ڈال رہی ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک نے ماحول کے تحفظ کو اپنی ترقی کی بنیاد بنایا اور اس کے لیے مضبوط قوانین، ٹیکنالوجی اور عوامی شعور کو بروئے کار لایا، جس کے نتیجے میں انہوں نے صاف ہوا، پانی اور قدرتی وسائل کے تحفظ کے ساتھ معاشی ترقی بھی حاصل کی۔ اس کے برعکس، پاکستان ابھی اس میدان میں پیچھے ہے اور یہاں ماحولیاتی قوانین کی نفاذ میں کمزوری، ری سائیکلنگ اور وسائل کے محتاط استعمال کی کمی، اور عوامی شعور کی کمی واضح طور پر نظر آتی ہے۔ اگر ہم نے فوری اور سنجیدہ اقدامات نہ کیے تو آنے والی نسلیں نہ صرف ہمیں معاف نہیں کریں گی بلکہ ان کے لیے صاف ہوا، پانی اور صحت مند ماحول کی فراہمی بھی مشکل ہو جائے گی۔ جنگلات کا تحفظ، فضائی اور آبی آلودگی میں کمی، پانی کے محفوظ ذرائع، اور عوام میں ماحولیاتی شعور پیدا کرنا وہ بنیادی اقدامات ہیں جو نہ صرف موجودہ بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی ایک بہتر، محفوظ اور پائیدار مستقبل کی ضمانت دے سکتے ہیں۔ اس لیے یہ وقت کی ضرورت ہے کہ ہم اپنے طرزِ زندگی، حکومتی پالیسیوں اور صنعتی سرگرمیوں میں ماحول دوست اقدامات کو ترجیح دیں تاکہ پاکستان ایک صاف، صحت مند اور ترقی یافتہ ملک بن سکے۔