ویکٹوریہ رائٹ: چہرے نہیں، سوچ بدلنے کی کہانی
ویکٹوریہ رائٹ کی زندگی نایاب جینیاتی بیماری چیروبزم کے ساتھ جینے، سماجی بُلینگ سہنے، اور پھر اسی جدوجہد کو سماجی شعور اور face equality کی تحریک میں بدلنے کی طاقتور مثال ہے۔ انہوں نے cosmetic سرجری کے دباؤ کو رد کرتے ہوئے خود قبولیت، شناخت اور انسانی وقار کا پیغام دیا، اور ہزاروں لوگوں کے لیے امید کی آواز بنیں.
تحریر: سیدہ نتاشا
کچھ کہانیاں محض ذاتی نہیں ہوتیں، وہ سماج کے آئینے کی طرح ہوتی ہیں۔ ویکٹوریہ رائٹ کی کہانی بھی ایسی ہی ایک داستان ہے جو ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ ہم ظاہری شکل کو انسان کی قدر کا پیمانہ کیوں بنا لیتے ہیں۔
ویکٹوریہ رائٹ برطانیہ کے شہر لندن میں پیدا ہوئیں۔ چار برس کی عمر میں ان کے والدین نے محسوس کیا کہ ان کے دانت اور جبڑے عام بچوں سے مختلف انداز میں بڑھ رہے ہیں۔ تشخیص ہوئی چیروبزم ایک نایاب جینیاتی بیماری جو چہرے کی ہڈیوں میں غیر معمولی بڑھوتری کا باعث بنتی ہے۔ طبی کتابیں اسے اکثر “بے درد” قرار دیتی ہیں، مگر ویکٹوریہ کے لیے یہ بیماری مسلسل درد، سائنَس، آنکھوں پر دباؤ اور شدید سر درد کی صورت میں ظاہر ہوئی۔
بچپن کا سب سے کٹھن پہلو بیماری نہیں بلکہ سماج تھا۔ سکول میں انہیں “fat chin” اور “Desperate Dan” جیسے القابات دیے گئے۔ بچے کارٹون بناتے، ہنستے، اور اجنبی بالغ افراد تک گھورنے یا طنز کرنے سے باز نہ آتے۔ ویکٹوریہ نے بعد میں لکھا کہ پہلی بار جب کسی نے انہیں “fat chin” کہا تو جو شرمندگی اور تکلیف محسوس ہوئی، وہ دہائیوں بعد بھی یاد ہے۔ یہ ایک جملہ نہیں تھا، بلکہ ایک پورا رویہ تھا جو انہیں روز جھیلنا پڑا۔
نوعمری میں بیماری کی شدت بڑھنے لگی اور آنکھوں پر دباؤ کے باعث بینائی خطرے میں پڑ گئی۔ اس مرحلے پر سرجری ناگزیر تھی۔ ڈاکٹروں نے functional سرجری کی تاکہ ان کی بینائی محفوظ رہے، مگر cosmetic سرجری کا سوال بھی اٹھا۔ یہی وہ لمحہ تھا جہاں ویکٹوریہ نے ایک جرات مندانہ فیصلہ کیا:
“میں دوسروں کی سہولت کے لیے اپنا چہرہ کیوں بدلوں؟ یہ میری شناخت کا حصہ ہے۔”
یہ فیصلہ آسان نہیں تھا، مگر یہی فیصلہ ان کی طاقت بن گیا۔ Changing Faces جیسی تنظیم سے وابستگی نے انہیں یہ احساس دلایا کہ مسئلہ چہرہ نہیں، معاشرتی سوچ ہے۔ انہوں نے قانون کی تعلیم حاصل کی، مگر اصل پہچان ایک advocate، campaigner اور public relations پروفیشنل کے طور پر بنی۔ انہوں نے face equality کی تحریک میں عملی کردار ادا کیا، میڈیا میں آواز بلند کی، اور BBC، The Guardian اور BMJ جیسے معتبر اداروں میں اپنی کہانی بیان کی۔
ان کا بلاگ “Not Just a Funny Face” صرف ایک ویب سائٹ نہیں بلکہ اُن تمام لوگوں کی آواز ہے جنہیں ظاہری فرق کی بنیاد پر نظرانداز یا تضحیک کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ نایاب بیماری کا سب سے بڑا مسئلہ طبی نہیں بلکہ سماجی ہے .لاعلمی، خوف اور تعصب۔
آج ویکٹوریہ رائٹ ایک ماں ہیں، لندن میں رہتی ہیں، اور اپنی زندگی کی کہانی کے ذریعے دنیا بھر کے لوگوں کو یہ پیغام دے رہی ہیں کہ:
“چہرے بدلنے کی نہیں، سوچ بدلنے کی ضرورت ہے۔”
ان کی جدوجہد ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ خود قبولیت ایک ذاتی عمل ضرور ہے، مگر اس کے اثرات اجتماعی ہوتے ہیں۔ ایک فرد کی ہمت ہزاروں کے لیے روشنی بن سکتی ہے۔ ویکٹوریہ رائٹ نے اپنے چہرے کو نہیں بدلا . انہوں نے دنیا کی نظر بدلنے کی کوشش کی، اور یہی اصل کامیابی ہے۔