بلوچستان کا صدیوں پرانا کاریز نظام آخر کیوں زوال کا شکار ہو رہا ہے؟

بلوچستان کا صدیوں پرانا کاریز نظام آخر کیوں زوال کا شکار ہو رہا ہے؟

کاریز نظام بلوچستان کا ایک قدیم، ماحول دوست اور اجتماعی آبپاشی کا طریقہ رہا ہے جو صدیوں تک زراعت، پینے کے پانی اور سماجی ہم آہنگی کا بنیادی ذریعہ تھا۔ تاہم مسلسل خشک سالی، زیرِ زمین پانی کی سطح میں کمی، جدید ٹیوب ویل ٹیکنالوجی کا بے تحاشا استعمال، شہری توسیع اور حکومتی عدم توجہی کے باعث یہ نظام تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔ کبھی ہزاروں کی تعداد میں موجود کاریز آج محدود ہو کر رہ گئے ہیں، جس سے نہ صرف پانی کا بحران شدت اختیار کر رہا ہے بلکہ بلوچستان کا ایک قیمتی تہذیبی اور ثقافتی ورثہ بھی خطرے میں پڑ چکا ہے۔

بلوچستان سے صدیوں پرانی کاریزات کا  نظام آخر کیوں ختم ہو رہا ہے؟

تحریر :  عروبہ شہزاد 

کاریز محض پانی کی فراہمی کا نظام نہیں بلکہ ایک تہذیبی علامت اور قیمتی ورثہ ہے۔ بلوچستان کی صحرائی سرزمین میں یہ نظام صدیوں سے انسانی زندگی، زراعت اور معاشرتی ڈھانچے کا بنیادی سہارا بنا ہوا ہے۔ یہ قدیم پانی لانے کا جال، جسے کمیونٹی کے مشترکہ تعاون سے بنایا اور سنبھالا جاتا تھا۔ بلوچستان کے باغات ، جنگلات اور کھیتوں کا مضبوط اور بہترین نظامِ آبپاشی جو کبھی سوکھی زمین کو تر و تازہ کرنے میں بہترین کردارادا کرتا تھا، بلوچستان کے صحرائی علاقوں  کو آب تر کرنے کے لیے یہ موثر نظام جو  پہلے تو بلوچستان کے  بہت سے علاقوں میں  استمعال کیا جاتا تھا لیکن اب بہت سی وجوہات کے باعث اس کی تعداد میں واضح کمی نظر آرہی ہے ۔  کبھی ان کی تعداد ہزاروں میں تھی، مگر آج بلوچستان میں موجودتقریبا  1200 کاریز ات میں سے صرف 46 فیصدہی متحرک ہیں۔ ینیسکو کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں فعال کاریز نظاموں کی کل تعداد مختلف ذرائع میں الگ سے  بیان کی جاتی ہے، اس وقت ملک میں تقریباً  1264 سے 1000    کاریز نظام کام کر رہے ہیں، جن کی اکثریت بلوچستان میں پائی جاتی ہے۔ 1970 کی دہائی میں یہ تعداد لگ بھگ 3,000 تھی، جو اب واضح طور پر کم ہو چکی ہے۔ اس نمایاں کمی کی اہم وجوہات میں مسلسل خشک سالی اور ٹیوب ویل ٹیکنالوجی کا بڑھتا ہوا استعمال شامل ہیں۔ نظامِ آبپاشی کا سب سے کارآمد نظام جو زمین کو زندگی دیتا تھا آج ، آخر کیوں زوال کا شکار ہے؟   اگر ہم تاریخی پسِ منظر میں جائے تو کاریز کا یہ نظام آبپاشی  ،بلوچستان میں کاریز کا نظام پانی کے انتظام کی ایک قدیم اور دانشمندانہ مثال ہے، جس کی ابتدا تقریباً تین ہزار سال قبل قدیم ایران میں ہوئی۔ اس نظام میں زیرِ زمین سرنگوں اور عمودی کنوؤں کے ذریعے پانی کو قدرتی ڈھلان کے سہارے آبادیوں اور زرعی زمینوں تک پہنچایا جاتا ہے، جس سے بخارات کم ہوتے ہیں اور پانی طویل عرصے تک محفوظ رہتا ہے۔ شاہراہِ ریشم کے ذریعے یہ نظامِ آبپاشی  وسطی ایشیا، چین میں ہان خاندان کے دور میں اور شمالی افریقہ تک پہنچی، جبکہ بلوچستان میں اس نے صحرائی خطے کی تقدیر بدل دی۔یہاں کاریز نہ صرف زراعت اور پینے کے پانی کا ذریعہ رہے بلکہ قبیلائی اور سماجی نظام کے تحت اجتماعی طور پر چلائے گئے، جو باہمی تعاون اور برابر تقسیم کی علامت تھے۔ صدیوں تک یہ نظام خشک سالی کے مقابل ایک مؤثر ڈھال ثابت ہوا،جس سے کھیتی باڑی اور روزمرہ کی ضروریات پوری کی جاتی ہیں۔ یہ نظام پانی کے ضیاع کو کم کرتا ہے اور ماحول دوست سمجھا جاتا ہے۔بلوچستان کی سپین کاریز  کی تاریخی اہمیت کو اگر دیکھا جائےتوکوئٹہ، بلوچستان کے دل میں واقع سپن کاریز ایک دلکش سیاحتی مقام ہے جو خطے کی بھرپور ثقافتی ورثے اور قدرتی حسن کو اجاگر کرتا ہے۔ یہ تاریخی مقام زیر زمین نہروں کا پیچیدہ جال پیش کرتا ہے جو صدیوں سے مقامی آبادی کی زندگی کی ضروریات پوری کرتا آیا ہے۔ جب آپ اس کے پیچدار راستوں اور پر سکون ماحول میں گھومیں گے، تو آپ کو اس علاقے کی روایتی انجینئرنگ کے عجائبات کا ایک منفرد تجربہ حاصل ہوگا۔ شاندار مناظر اور پرسکون فضا کے ساتھ، سپن قریز آرام، غور و فکر، اور بلوچستان کے ورثے سے جڑنے کے لیے ایک بہترین مقام ہے۔

 
 کاریز کوئی معمولی ایریگیشن  کا طریقہ نہیں تھایہ زمین میں بنی وہ زیرِ زمین سرنگیں تھیں جن کے ذریعے پانی بغیر بجلی، بغیر ایندھن اور بغیر کسی مشینی زور کے، محض قدرتی ڈھلوان پر بہتا ہوا کھیتوں تک پہنچتا تھا۔ اگر اس کی  ساخت کی بات کی جائے تو   زیرِ زمین پانی تک پہنچنے کے لیے عمودی راستے اور ہلکی ڈھلوان والی سرنگیں بنائی جاتی ہیں۔ یہ سرنگیں پانی کو قدرتی بہاؤ کے ذریعے، بغیر کسی مشینی عمل کے، زمین کی سطح تک لے آتی ہیں اور یوں توانائی کے استعمال کے بغیر پانی کی فراہمی ممکن بناتی ہیں۔کاریز میں سب سے اہم مقام وہ کنواں ہوتا ہے جہاں سے پہلی مرتبہ پانی حاصل کیا جاتا ہے، جسے بنیادی کنواں اور mother well بھی  کہا جا سکتا ہے۔ mother wellسے نکلتا پانی تنگ مگر حیرت انگیز طور پر لمبی سرنگوں میں سفر کرتا، اور ایک کاریز اکثر 30 کلومیٹر تک پھیلی ہوتی تھی۔ بلوچستان میں کاریز کا نظام نہ صرف پانی کا ذریعہ ہے بلکہ کمیونٹی کی اجتماعی پہچان بھی ہے۔ لوگ ہر کاریز میں پانی کے حصے خریدتے ہیں  جنہیں "شبانہ "کہا جاتا ہے،  جن کے حقوق چند دنوں سے لے کر ایک ہفتے تک ہو سکتے ہیں۔حصے دار یا "شریک" کو مقامی سماجی میں معزز حیثیت حاصل ہوتی ہے اور وہ جرگے میں بیٹھ کر فیصلوں میں حصہ لے سکتا ہے۔ اس طرح پانی کی رسائی، تقسیم اور استعمال سماجی ڈھانچے کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ اگرچہ کاریز کی تعمیر پر ابتدائی طور پر زیادہ لاگت آتی ہے، لیکن طویل مدت میں یہ نظام کمیونٹی کے لیے بے حد مؤثر  ثابت ہوتا ہے۔
 لیکن بدقسمتی سے  آج جدید ٹیوب ویلوں ، جدید کنویں اور پمپنگ سسٹم کی آمد ، زیرِ زمین پانی کی حد سے کم ہونا، خشک سالی اور زمین کا بنجر ہونا، بلوچستان میں پانی کی سطح کم ہونا اس نظام کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن رہا ہے جو کہ  ایک سنگین ماحولیاتی مسئلہ ہے جس کی وجہ سے پینے کے صاف پانی کی قلت، بیماریوں میں اضافہ اور خشک سالی بڑھتی ہے،جس سے شہری آبادی شدید متاثر ہوتی ہے ، بارشوں کا کم ہونا ، شہری ترقی اور متعلقہ انفراسٹرکچر نے بعض علاقوں میں ان نظاموں کی بحالی کو بھی مشکل بنا دیا ہے،  عدم توجہی کے باعث یہ تاریخی اور ثقافتی ورثہ تیزی  سے ختم ہوتا جا رہا ہے۔صدیوں تک زندگی کا سہارا رہنے والا یہ ورثہ، آج وقت کی بے توجہی کی وجہ سے آہستہ آہستہ ختم ہوتا جا رہا ہے۔


Related News

Battle of Truth — A Glorious Symbol of Unity, Sacrifice, and National Resolve
Battle of Truth — A Glorious Symbol of Unity, Sacrifice, and National Resolve
Nature’s Speed Master: How the Peregrine Falcon Inspired Modern Aviation
Nature’s Speed Master: How the Peregrine Falcon Inspired Modern Aviation
Viking Civilization: Between Myth, Reality, and Historical Narrati
Viking Civilization: Between Myth, Reality, and Historical Narrati
More Trees on Earth Than Stars in the Milky Way: A Surprising Scientific Discovery
More Trees on Earth Than Stars in the Milky Way: A Surprising Scientific Discovery
Stevia: A Natural Sweetness for Better Health
Stevia: A Natural Sweetness for Better Health
Ching Shih – The Most Powerful Female Pirate in History
Ching Shih – The Most Powerful Female Pirate in History