بلوچستان میں نوجوانوں کی بیروزگاری: نوکریوں کی کمی یا درست سمت کا فقدان؟

بلوچستان میں نوجوانوں کی بیروزگاری: نوکریوں کی کمی یا درست سمت کا فقدان؟

بلوچستان میں نوجوانوں کی بیروزگاری کو عموماً نوکریوں کی کمی سے جوڑا جاتا ہے، مگر زمینی حقائق ظاہر کرتے ہیں کہ اصل مسئلہ تعلیم اور لیبر مارکیٹ کے درمیان بڑھتا ہوا فرق ہے۔ ہر سال ہزاروں گریجویٹس عملی زندگی میں قدم رکھتے ہیں، لیکن زیادہ تر روایتی شعبوں کا انتخاب کرتے ہیں جہاں روزگار کے مواقع محدود ہیں، جبکہ آئی ٹی، انجینئرنگ اور ٹیکنیکل فیلڈز میں اسکلز کی کمی پائی جاتی ہے۔ مؤثر کیریئر گائیڈنس، اسکل بیسڈ ایجوکیشن اور مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق تعلیمی سمت اختیار کر کے اس مسئلے پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

تحریر: ماہ رنگ بلوچ

 
بلوچستان میں نوجوانوں کی بیروزگاری: نوکریوں کی کمی یا درست سمت کا فقدان؟


بلوچستان میں نوجوانوں کی سب سے عام اور مشترکہ شکایت آج یہ ہے کہ “نوکریاں نہیں ہیں”۔ یہ جملہ صرف عام لوگوں کی گفتگو تک محدود نہیں بلکہ تعلیمی اداروں، یونیورسٹیوں کے کیمپسز، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور عوامی مباحثوں میں بھی سنائی دیتا ہے۔ تاہم اگر ہم اس مسئلے کو صرف جذباتی نعروں کی بجائے حقائق، اعداد و شمار اور زمینی صورتحال کی روشنی میں دیکھیں تو واضح ہوتا ہے کہ اصل مسئلہ نوکریوں کی مکمل کمی نہیں بلکہ تعلیم اور روزگار کی منڈی کے درمیان بڑھتا ہوا فرق ہے۔بلوچستان میں ہر سال تقریباً 18 ہزار نوجوان کالجز اور یونیورسٹیوں سے گریجویشن مکمل کر کے عملی زندگی میں قدم رکھتے ہیں۔ یہ نوجوان نہ صرف اپنے لیے بلکہ اپنے خاندان کے لیے بھی بہتر مستقبل کی امید لے کر نکلتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں صوبے میں ہر سال اوسطاً 14 ہزار سے زائد نئی ملازمتیں پیدا ہوتی ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ مواقع مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔ اس کے باوجود بیروزگاری کی شرح کا بلند رہنا اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ مسئلہ مواقعوں کی تعداد سے زیادہ ان مواقعوں تک رسائی اور مطابقت کا ہے۔اگر ہم تعلیمی رجحانات کا جائزہ لیں تو ایک واضح عدم توازن سامنے آتا ہے۔ بلوچستان کے 58 فیصد طلبہ آرٹس، ہیومینٹیز، سوشل سائنسز اور ایجوکیشن جیسے روایتی شعبوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ یہ شعبے نسبتاً آسان سمجھے جاتے ہیں اور ماضی میں سرکاری نوکریوں کے حصول کا ذریعہ رہے ہیں۔ تاہم آج کی لیبر مارکیٹ ان شعبوں میں محدود گنجائش رکھتی ہے، جہاں مجموعی طور پر صرف 22 فیصد نوکریاں دستیاب ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہزاروں گریجویٹس ایک ہی قسم کی چند اسامیوں کے لیے مقابلہ کرتے ہیں۔


دوسری طرف آئی ٹی، کمپیوٹر سائنس، انجینئرنگ، زراعت اور ویٹرنری جیسے شعبے جدید معیشت کی ریڑھ کی ہڈی بن چکے ہیں۔ ان فیلڈز میں صنعت، نجی شعبہ اور ٹیکنالوجی سے جڑے ادارے مسلسل ہنر مند افرادی قوت کی تلاش میں رہتے ہیں۔ ان شعبوں میں روزگار کے مواقع تقریباً 31 فیصد ہیں، لیکن ان میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ صرف 22 فیصد ہیں۔ یوں ایک طرف کمپنیوں کو موزوں اسکلز رکھنے والے افراد نہیں ملتے اور دوسری طرف نوجوان بیروزگاری کا شکار رہتے ہیں۔شعبہ وار تجزیہ اس مسئلے کو مزید نمایاں کرتا ہے۔ آرٹس اور ہیومینٹیز میں 25 فیصد طلبہ زیرِ تعلیم ہیں مگر ان کے لیے نوکریوں کی شرح صرف 6 فیصد ہے۔ سوشل سائنسز میں بھی صورتحال مختلف نہیں، جہاں 15 فیصد طلبہ کے مقابلے میں نوکریاں بھی صرف 6 فیصد ہیں۔ اس کے برعکس انجینئرنگ میں طلبہ 12 فیصد ہیں جبکہ نوکریاں 15 فیصد تک موجود ہیں۔ اسی طرح آئی ٹی اور کمپیوٹر سائنس میں مواقع طلبہ کی تعداد سے کہیں زیادہ ہیں، مگر ان شعبوں میں داخلے کا رجحان کم ہے۔یہ اکثر اچانک پیدا نہیں ہوا بلکہ اس کے پیچھے کئی عوامل کارفرما ہیں۔ ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ نوجوان اور ان کے والدین اب بھی سرکاری نوکری کو کامیابی کا واحد معیار سمجھتے ہیں۔ اس کے علاوہ اسکول اور کالج کی سطح پر مؤثر کیریئر گائیڈنس کا فقدان ہے، جس کے باعث طلبہ اپنی دلچسپی اور مارکیٹ کی طلب کے درمیان ربط قائم نہیں کر پاتے۔  پرائیویٹ سیکٹر اور تعلیمی اداروں کے درمیان روابط کمزور ہیں، جس کی وجہ سے نصاب جدید تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں ہو پاتا۔یونیورسٹی آف بلوچستان کے فال 2024 کے اعداد و شمار اس رجحان کی واضح مثال ہیں، جہاں 50 فیصد سے زائد گریجویٹس آرٹس، ہیومینٹیز اور ایجوکیشن سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اکثریت کا ہدف تدریسی شعبے تک محدود ہے، جبکہ انجینئرنگ، آئی ٹی اور بزنس جیسے شعبوں میں داخلے کم ہیں، حالانکہ روزگار کے بہتر مواقع انہی فیلڈز میں موجود ہیں۔
اس صورتحال کا سب سے مؤثر حل اسکل بیسڈ ایجوکیشن ہے۔ آج کی دنیا میں صرف ڈگری حاصل کرنا کافی نہیں رہا بلکہ عملی مہارت، مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت اور ٹیکنالوجی سے واقفیت فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہے۔ NAVTTC، BTEVTA، بلوچستان اسکل ڈیولپمنٹ پروگرام اور یوتھ اسکلز جیسے اقدامات نوجوانوں کو آئی ٹی، فری لانسنگ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، ٹیکنیکل اور ووکیشنل اسکلز فراہم کر رہے ہیں، جو انہیں خود روزگار اور نجی شعبے کے مواقع تک رسائی دیتے ہیں۔
آخر میں یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ بیروزگاری ہمیشہ نوکریوں کی کمی کا نتیجہ نہیں ہوتی بلکہ اکثر یہ غلط تعلیمی سمت اور مہارتوں کے فقدان کا انجام ہوتی ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ نوجوان، والدین اور تعلیمی ادارے مل کر اپنی ترجیحات پر نظرِ ثانی کریں، مارکیٹ کی ضرورت کو سمجھیں اور مستقبل کے مطابق فیصلے کریں۔ بلوچستان کے نوجوانوں میں صلاحیت، جذبہ اور توانائی کی کوئی کمی نہیں، ضرورت صرف درست رہنمائی، عملی اسکلز اور بروقت درست فیصلوں کی ہے۔


Related News

Battle of Truth — A Glorious Symbol of Unity, Sacrifice, and National Resolve
Battle of Truth — A Glorious Symbol of Unity, Sacrifice, and National Resolve
Nature’s Speed Master: How the Peregrine Falcon Inspired Modern Aviation
Nature’s Speed Master: How the Peregrine Falcon Inspired Modern Aviation
Viking Civilization: Between Myth, Reality, and Historical Narrati
Viking Civilization: Between Myth, Reality, and Historical Narrati
More Trees on Earth Than Stars in the Milky Way: A Surprising Scientific Discovery
More Trees on Earth Than Stars in the Milky Way: A Surprising Scientific Discovery
Stevia: A Natural Sweetness for Better Health
Stevia: A Natural Sweetness for Better Health
Ching Shih – The Most Powerful Female Pirate in History
Ching Shih – The Most Powerful Female Pirate in History