ضلع گوادر کے تمام سرکاری اسکول فعال، تعلیمی اصلاحات میں بڑی کامیابی
حکومتِ بلوچستان کی تعلیمی اصلاحات کے تحت ضلع گوادر کے تمام 313 سرکاری اسکول مکمل طور پر فعال کر دیے گئے ہیں۔ فیز فور اصلاحات پروگرام کے نتیجے میں نان فنکشنل اسکولوں کی بحالی اور اساتذہ کی بھرتی مکمل ہوئی، جس سے داخلوں میں اضافے اور تعلیمی معیار میں بہتری کی توقع ہے۔ ضلع گوادر فیز فور کے تحت تمام تعلیمی ادارے فعال کرنے والا بلوچستان کا پہلا ضلع بن گیا
ضلع گوادر کے تمام سرکاری اسکول فعال، تعلیمی اصلاحات میں اہم پیش رفت
رپورٹ: عروبہ شہزاد
گوادر میں حکومتِ بلوچستان کی جانب سے جاری تعلیمی اصلاحات کے تحت نان فنکشنل اسکولوں کی بحالی اور اساتذہ کی بھرتی کے عمل میں نمایاں پیش رفت سامنے آئی ہے۔ حکام کے مطابق فیز فور اصلاحات پروگرام کے تحت ضلع گوادر کے تمام 313 سرکاری اسکول مکمل طور پر فعال کر دیے گئے ہیں، جس کے بعد ضلع میں کوئی بھی سرکاری اسکول غیر فعال نہیں رہا۔
یہ پیش رفت وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی کی قیادت اور صوبائی وزیرِ تعلیم راحیلہ حمید خان درانی کی نگرانی میں جاری اصلاحاتی اقدامات کا حصہ ہے۔ محکمہ تعلیم کے مطابق صوبے بھر میں اساتذہ کی بھرتی کا عمل مرحلہ وار جاری ہے، جبکہ بند یا غیر فعال تعلیمی اداروں کو دوبارہ کھولنے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ بچوں کو اسکول لایا جا سکے۔
محکمہ اسکول ایجوکیشن کے مطابق ضلع گوادر بلوچستان کا پہلا ضلع بن گیا ہے جہاں فیز فور کے تحت اساتذہ کی بھرتی مکمل ہونے کے بعد تمام پرائمری، مڈل، ہائی اور ہائر سیکنڈری اسکولز فعال ہو چکے ہیں۔ ان اسکولوں میں بوائز اور گرلز دونوں ادارے شامل ہیں۔اس اقدام سے علاقے میں داخلوں کی شرح بڑھنے اور تدریسی سرگرمیوں میں بہتری کی توقع ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مقامی سطح پر تعلیمی سہولیات کی دستیابی سے والدین کا اعتماد بھی بحال ہوگا۔
محکمہ تعلیم نے اس کامیابی پر ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر زاہد حسین، ڈی ای او فیمیل زرراتون اور ضلعی تعلیمی ٹیم کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ حکام نے امید ظاہر کی ہے کہ دیگر اضلاع بھی اسی طرز پر اقدامات کرتے ہوئے تعلیمی اہداف حاصل کریں گے۔