انٹرنیشنل ماؤنٹین ڈے پر بیوٹمز یونیورسٹی میں جنگلی حیات کے تحفظ پر زور

انٹرنیشنل ماؤنٹین ڈے پر بیوٹمز یونیورسٹی میں جنگلی حیات کے تحفظ پر زور

کوئٹہ کی بیوٹمز یونیورسٹی میں انٹرنیشنل ماؤنٹین ڈے کے موقع پر جنگلی حیات کے تحفظ سے متعلق تقریب منعقد ہوئی جس میں ماہرین نے پہاڑوں، جنگلات اور حیاتیاتی تنوع کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ مقررین نے جنگلات کی کٹائی، آلودگی اور غیر قانونی شکار کو بڑا خطرہ قرار دیتے ہوئے سلیمان مارخور، ڈیزرٹ اپالو تتلی اور دیگر نایاب انواع کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ آخر میں بلوچستان کے قدرتی حسن اور سیاحتی مقامات کو اجاگر کرتے ہوئے مقامی آبادی کی شمولیت کو ناگزیر قرار دیا گیا۔

رپورٹ: سیدہ نتاشا
انٹرنیشنل ماؤنٹین ڈے کے موقع پر بیوٹمز یونیورسٹی میں جنگلی حیات کے تحفظ سے متعلق ایک اہم تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں ماہرین، محققین اور طلبہ نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اس تقریب میں مقررین نے پہاڑوں، جنگلات اور ان میں بسی ہوئی انواع کی حیاتیاتی اہمیت پر جامع گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پہاڑی ماحول نہ صرف جنگلی حیات بلکہ انسانی بقا کے لیے بھی بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔
مقررین کے مطابق جنگلات کی تیزی سے کٹائی، کچرے کا پھیلاؤ اور غیر قانونی شکار حیاتیاتی تنوع کے لیے سنگین خطرات پیدا کر رہے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ تکتو کو اگرچہ قومی پہاڑ قرار دیا جاچکا ہے، تاہم عوامی سطح پر اس کی اہمیت کو اجاگر کرنے کی ابھی بھی ضرورت ہے، جس کی واضح مثال مارخور کے مسلسل غیر قانونی شکار کی صورت میں سامنے آتی ہے۔
ماہرین نے مزید بتایا کہ تورغر میں کیے گئے تازہ سروے سے معلوم ہوا ہے کہ ختم ہوتی انواع کو مناسب حکمتِ عملی اور سائنسی بنیادوں پر دوبارہ متعارف کرا کر محفوظ بنایا جاسکتا ہے۔ سلیمان مارخور کی بقا کے لیے خصوصی توجہ اور مسلسل مانیٹرنگ ناگزیر ہے۔ اس موقع پر نوشکی کی دنیا بھر میں صرف بلوچستان میں پائی جانے والی ڈیزرٹ اپالو تتلی کا بھی ذکر کیا گیا، جسے خطے کی منفرد حیاتیاتی پہچان قرار دیا گیا۔
شرکاء کا کہنا تھا کہ اگر مناسب نگرانی اور پالیسی کے تحت محدود شکار کی اجازت دی جائے تو اس سے حاصل ہونے والی آمدنی کو جنگلی حیات کے بہتر تحفظ میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔
تقریب میں بلوچستان کے قدرتی حسن، متنوع مناظر اور سیاحتی مواقع پر بھی روشنی ڈالی گئی جن میں زیارت کا جونیپر جنگل، ہنگول کی دلکش چٹانیں، ہنگول جزیرہ، ہنہ اُڑک کی سرسبز وادیاں اور نوشکی کا وسیع ریگستان قابلِ ذکر ہیں۔
آخر میں مقررین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پہاڑوں کا تحفظ، جنگلی حیات کی بقا اور مقامی آبادی کی شمولیت ہی بلوچستان کی قدرتی میراث کے تحفظ کا واحد مؤثر راستہ ہے۔ انہوں نے حکومت، تحقیقاتی اداروں اور کمیونٹیز سے مربوط کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔


Related News

معرکۂ حق پر وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کا خصوصی پیغام
معرکۂ حق پر وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کا خصوصی پیغام
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے معرکۂ حق کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں افواجِ پاکستان، قومی سیاسی قی...
پنجگور میں عالمی یومِ تھیلیسیمیا کے موقع پر آگاہی واک اور تقریب کا انعقاد
پنجگور میں عالمی یومِ تھیلیسیمیا کے موقع پر آگاہی واک اور تقریب کا انعقاد
عالمی یومِ تھیلیسیمیا کے موقع پر پنجگور میں قندیل تھیلیسیمیا کیئر سنٹر کے زیرِ اہتمام آگاہی واک اور تقریب منعق...
بلوچستان میں عوامی فلاح کے بڑے ترقیاتی منصوبوں پر تیز پیش رفت
بلوچستان میں عوامی فلاح کے بڑے ترقیاتی منصوبوں پر تیز پیش رفت
چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان کی زیر صدارت اجلاس میں صوبے کے اہم ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لیا گیا۔ پیپلز...
کوئٹہ میں ماحول دوست ٹرانسپورٹ کے فروغ کیلئے الیکٹرک بسوں کی منظوری
کوئٹہ میں ماحول دوست ٹرانسپورٹ کے فروغ کیلئے الیکٹرک بسوں کی منظوری
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت اجلاس میں کوئٹہ کی گرین اور پنک بسوں کو مرحلہ وار الیکٹرک بسوں...
حکومتِ بلوچستان کا پسنی فش ہاربر کو مکمل طور پر فعال بنانے کا فیصلہ
حکومتِ بلوچستان کا پسنی فش ہاربر کو مکمل طور پر فعال بنانے کا فیصلہ
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت پسنی فش ہاربر کی بحالی سے متعلق اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں من...
پی بی 36 قلات میں ری پولنگ: صوبائی الیکشن کمشنر کی زیر صدارت اعلیٰ سطحی اجلاس
پی بی 36 قلات میں ری پولنگ: صوبائی الیکشن کمشنر کی زیر صدارت اعلیٰ سطحی اجلاس
کوئٹہ میں صوبائی الیکشن کمشنر علی اصغر سیال کی زیر صدارت ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا جس میں پی بی 36 قلات ک...