سوشل میڈیا: ترقی یا تقسیم؟

سوشل میڈیا: ترقی یا تقسیم؟

سوشل میڈیا نے معلومات تک رسائی، تعلیم، کاروبار اور سیاسی شعور کو فروغ دے کر افراد کو بااختیار بنایا ہے، مگر اس کے ساتھ غلط معلومات اور بڑھتی ہوئی پولرائزیشن جیسے چیلنجز بھی سامنے آئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق سوشل میڈیا کا اثر اس بات پر منحصر ہے کہ اسے کس طرح استعمال کیا جاتا ہے، جبکہ ڈیجیٹل خواندگی اور تعمیری مکالمہ اس کے مثبت استعمال کے لیے ناگزیر ہیں۔

تحریر : اِرم سہیل

سوشل میڈیا نے معلومات تک رسائی اور اظہارِ رائے کے انداز کو یکسر بدل دیا ہے، مگر اس کے ساتھ یہ سوال بھی شدت اختیار کرتا جا رہا ہے کہ آیا یہ ہمیں بااختیار بنا رہا ہے یا معاشرے میں تقسیم کو بڑھا رہا ہے۔

سوشل میڈیا ڈیجیٹل دور میں بااختیاری کا ایک طاقتور ذریعہ بن چکا ہے۔ معلومات کو عام کرنے کے عمل نے عام شہریوں کو یہ موقع دیا ہے کہ وہ روایتی میڈیا پر انحصار کیے بغیر علم حاصل کریں اور اسے دوسروں تک پہنچائیں۔ اس نے پسماندہ طبقات کی آواز کو بھی مضبوط کیا ہے اور شہری صحافت (citizen journalism) کو فروغ دیا ہے، جس کے ذریعے لوگ واقعات کو ان کے رونما ہونے کے فوراً بعد رپورٹ کر سکتے ہیں۔ سوشل میڈیا نے تعلیمی مواقع کو بھی وسیع کیا ہے اور کاروبار کے نئے راستے کھولے ہیں، جس سے افراد اپنی مہارتوں اور کاروبار کو عالمی سطح پر متعارف کرا سکتے ہیں۔ مزید یہ کہ اس نے سیاسی آگاہی اور شہری شمولیت کو بڑھایا ہے، جس کے نتیجے میں عوامی مباحث اور جمہوری عمل میں زیادہ شرکت ممکن ہوئی ہے۔ تمام چیلنجز کے باوجود، سوشل میڈیا اب بھی بااختیاری اور سماجی شمولیت کی ایک بڑی اور تبدیلی لانے والی قوت ہے۔

ایک دور دراز گاؤں کا طالب علم اب عالمی معیار کے لیکچرز تک رسائی حاصل کر سکتا ہے، جبکہ ایک چھوٹا کاروباری شخص اپنی مصنوعات اور خدمات کو مقامی منڈیوں سے کہیں آگے لے جا سکتا ہے۔ سوشل میڈیا نے معلومات اور مواقع تک رسائی کی روایتی رکاوٹوں کو کم کر دیا ہے۔

سیاسی تحریکوں میں سوشل میڈیا کے کردار کو محض نظری طور پر ہی نہیں بلکہ عمر رابرٹ ہیملٹن کے ناول The City Always Wins میں بھی واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے، جو 2011 کے مصری انقلاب کو بیان کرتا ہے۔ یہ ناول دکھاتا ہے کہ کس طرح فیس بک اور ٹوئٹر جیسے پلیٹ فارمز احتجاج، تنظیم سازی اور مزاحمت کے ذرائع بن گئے۔

تاہم سوشل میڈیا کی یہ بااختیار بنانے والی صلاحیت ایک تاریک حقیقت کے ساتھ جڑی ہوئی ہے: بڑھتی ہوئی تقسیم اور پولرائزیشن۔ سوشل میڈیا کے الگورتھمز اکثر صارفین کو وہی مواد دکھاتے ہیں جو ان کے پہلے سے موجود خیالات سے مطابقت رکھتا ہے، جس کے نتیجے میں ایسے “ایکو چیمبرز” بنتے ہیں جہاں مختلف نقطۂ نظر شاذ و نادر ہی سامنے آتے ہیں۔ جذباتی اور متنازع مواد زیادہ توجہ حاصل کرتا ہے، جس سے غصے اور شدید ردعمل کو فروغ ملتا ہے۔ اسی طرح جعلی خبریں اور غلط معلومات تیزی سے پھیلتی ہیں، جو سیاسی اور سماجی تقسیم کو مزید گہرا کرتی ہیں۔ اس کا نتیجہ سیاسی گروہ بندی کی صورت میں نکلتا ہے، جہاں لوگ مخالف رائے رکھنے والوں کو ہم وطن کے بجائے مخالف سمجھنے لگتے ہیں۔ آن لائن ہراسانی اور سخت بحث مباحثے نے بھی مہذب مکالمے کو کمزور کیا ہے، جس سے باہمی احترام میں کمی آئی ہے۔ مثال کے طور پر انتخابات کے دوران گمراہ کن اور اشتعال انگیز مواد اکثر آن لائن گردش کرتا ہے، جو کشیدگی کو بڑھاتا ہے اور تعمیری بحث کو مشکل بنا دیتا ہے۔

پاکستان میں سوشل میڈیا اور سیاسی پولرائزیشن پر ایک حالیہ تحقیق کے مطابق 2017 سے 2025 کے دوران ملک میں سوشل میڈیا صارفین کی تعداد 31 ملین سے بڑھ کر 66.9 ملین ہو گئی ہے۔ اگرچہ اس اضافہ نے سیاسی شمولیت کو بڑھایا ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس نے ایکو چیمبرز، غلط معلومات اور بڑھتی ہوئی سیاسی تقسیم کو بھی فروغ دیا ہے۔ تحقیق کے مطابق سوشل میڈیا بذاتِ خود تقسیم پیدا نہیں کرتا بلکہ موجودہ سیاسی اختلافات کو مزید بڑھا دیتا ہے۔

آخرکار، سوشل میڈیا کا مستقبل ٹیکنالوجی سے زیادہ اس بات پر منحصر ہوگا کہ ہم اسے کتنی ذمہ داری سے استعمال کرتے ہیں۔ ڈیجیٹل خواندگی کو فروغ دینا اور تعمیری مکالمے کی حوصلہ افزائی کرنا ضروری ہے تاکہ یہ طاقتور ذریعہ معاشرتی تقسیم کے بجائے بااختیاری اور رابطے کا ذریعہ بن سکے۔

Keywords : Social media, Digital Empowerment, Political Polarization, Digital Literacy


Related News

ایتھیکل ڈائلیما: اصول، مفاد اور انتخاب
ایتھیکل ڈائلیما: اصول، مفاد اور انتخاب
ایتھیکل ڈائلیماز زندگی کے وہ مشکل موڑ ہیں جہاں ہر انتخاب کسی نہ کسی نقصان یا ناانصافی سے جڑا ہوتا ہے۔ درست فی...
سنجاوی میں بلیک امبر کی کاشت میں اضافہ، کاشتکاروں کے لیے نئی معاشی امید
سنجاوی میں بلیک امبر کی کاشت میں اضافہ، کاشتکاروں کے لیے نئی معاشی امید
سنجاوی میں بلیک امبر کی کاشت تیزی سے فروغ پا رہی ہے اور اس کی بڑھتی ہوئی طلب و بہتر قیمت نے اسے منافع بخش فصل...
اچھی عادات کیسے اپنائیں اور انہیں مستقل کیسے بنائیں؟
اچھی عادات کیسے اپنائیں اور انہیں مستقل کیسے بنائیں؟
اچھی عادات اپنانا محض ارادوں کا نہیں بلکہ ایک مؤثر نظام، چھوٹے اقدامات اور مسلسل کوشش کا نام ہے۔ ماہرین کے مط...
منشیات کے استعمال اور غیر قانونی اسمگلنگ کے خلاف عالمی دن: آگاہی، روک تھام اور اجتماعی ذمہ داری
منشیات کے استعمال اور غیر قانونی اسمگلنگ کے خلاف عالمی دن: آگاہی، روک تھام اور اجتماعی ذمہ داری
منشیات کے استعمال اور غیر قانونی اسمگلنگ کے خلاف عالمی دن اس عزم کی تجدید کا موقع فراہم کرتا ہے کہ نوجوانوں کو...
جھل مگسی کے امام بخش سوشل میڈیا پر کامیابی کی نئی مثال بن گئے
جھل مگسی کے امام بخش سوشل میڈیا پر کامیابی کی نئی مثال بن گئے
جھل مگسی سے تعلق رکھنے والے نوجوان کانٹینٹ کریئیٹر امام بخش نے محدود وسائل کے باوجود تخلیقی صلاحیتوں اور محنت...
جب  غذائی سپلیمنٹس نقصان دہ بن جائیں
جب غذائی سپلیمنٹس نقصان دہ بن جائیں
غذائی سپلیمنٹس کا غیر ضروری اور زیادہ استعمال صحت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے اور مختلف جسمانی پیچیدگیوں کا...