کوئٹہ کی بدلتی سردیاں

کوئٹہ کی بدلتی سردیاں

گذشتہ دہائیوں کے مقابلے میں کوئٹہ کی سردیاں اب اتنی شدید نہیں رہیں۔ برفباری اور سردی کی شدت میں کمی کا سبب ماحولیاتی تبدیلی، درختوں کی کٹائی، بڑھتی ہوئی آبادی، فضائی آلودگی اور بے ہنگم تعمیرات ہیں۔ سالانہ بارش اور برفباری میں کمی نے سردیوں کی شدت مزید کم کر دی ہے۔ ماہرین کے مطابق شجرکاری، فضائی آلودگی میں کمی، بہتر پبلک ٹرانسپورٹ اور عوامی ماحول دوست رویوں سے موسمی اثرات کو 25 سے 30 فیصد تک کم کیا جا سکتا ہے، اور کوئٹہ کی پرانی سردیوں کو بچایا جا سکتا ہے۔

تحریر:ماہ رنگ بلوچ

 

کوئٹہ کی بدلتی سردیاں

 
ایک وقت تھا جب دسمبر آتے ہی کوئٹہ سفید چادر اوڑھ لیا کرتا تھا۔ سرد ہوا کے ساتھ برف کے گرتے ہوئے گالے، چھتوں پر جمتی برف اور صبح آنکھ کھلتے ہی ہر منظر یخ بستہ محسوس ہوتا تھا۔ بوڑھے لوگ کہتے ہیں کہ نوّے کی دہائی اور دو ہزار کے ابتدائی برسوں میں کوئٹہ کی سردی اپنی مثال آپ تھی۔ شہر کے کئی علاقوں میں کئی کئی انچ برف پڑا کرتی تھی، سڑکیں بند ہو جاتیں، اسکول بند ہو جاتے اور ہر طرف صرف برف ہی برف نظر آتی تھی۔ ماہرین کے مطابق 1990ء کے مقابلے میں آج کوئٹہ میں شدید سرد دنوں کی تعداد میں تقریباً 30 سے 35 فیصد کمی آ چکی ہے۔لیکن آج دسمبر آتا ہے، مگر وہ شدت نہیں آتی۔ سردی تو ہوتی ہے، مگر وہ کپکپاہٹ محسوس نہیں ہوتی۔ برف کبھی کبھار دکھائی دیتی ہے اور اکثر پہاڑوں تک ہی محدود رہ جاتی ہے۔ ماہرینِ موسمیات کے مطابق گزشتہ تین دہائیوں میں پاکستان کے سرد علاقوں میں اوسط درجۂ حرارت میں تقریباً 10 سے 15 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کا براہِ راست اثر سردیوں کی شدت پر پڑا ہے۔


سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے؟ ماہرین کے مطابق یہ سب ماحولیاتی تبدیلی کا نتیجہ ہے۔ عالمی سطح پر زمین کا اوسط درجۂ حرارت صنعتی دور کے مقابلے میں تقریباً 1 ڈگری سینٹی گریڈ بڑھ چکا ہے، جسے ماہرین موسمی شدت میں تقریباً 20 فیصد تبدیلی کی بڑی وجہ قرار دیتے ہیں۔کوئٹہ اور اس کے گرد و نواح میں درختوں کی تیزی سے کٹائی نے قدرتی توازن کو شدید متاثر کیا ہے۔ بلوچستان میں جنگلات ملک کے کل رقبے کا صرف 2 سے 3 فیصد ہیں، جبکہ گزشتہ چند دہائیوں میں ان میں مزید 15 سے 20 فیصد کمی دیکھی گئی ہے، جس کے باعث درجۂ حرارت میں اضافہ ہوا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ بڑھتی ہوئی آبادی، بے ہنگم تعمیرات، گاڑیوں اور فیکٹریوں سے نکلنے والا دھواں فضا کو آلودہ کر رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق شہری علاقوں میں گاڑیوں کی تعداد میں گزشتہ 20 سالوں کے دوران تقریباً 40 فیصد اضافہ ہوا ہے، جو فضائی آلودگی اور موسم میں تبدیلی کی ایک بڑی وجہ بن رہا ہے۔اس کے علاوہ بارش اور برفباری کا نظام بھی بے ترتیب ہو چکا ہے۔ بلوچستان میں سالانہ بارش اور برفباری کی مقدار میں اوسطاً 20 سے 25 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس کے باعث سرد موسم کی شدت مزید کم ہو گئی ہے۔کوئٹہ جو کبھی برفانی ہواؤں کا شہر تھا، آج آہستہ آہستہ اپنی پہچان کھوتا جا رہا ہے۔ یہ صرف موسم کی تبدیلی نہیں، بلکہ ایک یاد کا مٹ جانا ہے—وہ سرد دسمبر، وہ برفانی صبحیں اور وہ بچپن کی خوشیاں جو اب صرف قصوں میں رہ گئی ہیں۔ تاہم ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ اگر بروقت اور سنجیدہ اقدامات کیے جائیں تو اس صورتحال پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ماہرین کے مطابق شجرکاری کو فروغ دے کر، غیر قانونی درختوں کی کٹائی روک کر، فضائی آلودگی کم کر کے، پبلک ٹرانسپورٹ کے استعمال کو گھٹا کر اور پانی کے وسائل کے مؤثر انتظام کے ذریعے موسمی تبدیلی کے منفی اثرات کو 25 سے 30 فیصد تک کم کیا جا سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ عوام میں ماحولیاتی شعور پیدا کرنا اور ماحول دوست طرزِ زندگی اپنانا بھی اس مسئلے پر قابو پانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔اگر آج ہم نے فطرت کی قدر کر لی تو شاید آنے والی نسلوں کے لیے کوئٹہ کی وہ سردیاں بچائی جا سکیں جو کبھی اس شہر کی شان ہوا کرتی تھیں۔


Related News

معرکۂ حق ،   اتحاد، قربانی اور قومی عزم کی روشن مثال
معرکۂ حق ، اتحاد، قربانی اور قومی عزم کی روشن مثال
معرکۂ حق قومی اتحاد، قربانی اور بہادری کی علامت ہے، جس نے پاکستانی قوم کے حوصلے اور حب الوطنی کے جذبے کو مزید...
قدرت کا شاہکار: پریگرین فالکن کی رفتار اور جدید ہوابازی کی تحریک
قدرت کا شاہکار: پریگرین فالکن کی رفتار اور جدید ہوابازی کی تحریک
پریگرین فالکن دنیا کی تیز ترین پرندہ ہے جو شکار کے دوران حیرت انگیز رفتار حاصل کرتا ہے۔ اس کے جسم کی منفرد ساخ...
وائیکنگ تہذیب: حقیقت، افسانہ اور تاریخی پس منظر
وائیکنگ تہذیب: حقیقت، افسانہ اور تاریخی پس منظر
یہ تحریر وائیکنگز کے بارے میں پائے جانے والے عام تصورات اور تاریخی حقائق کے درمیان فرق کو واضح کرتی ہے۔ آٹھویں...
زمین پر درخت کہکشاں کے ستاروں سے زیادہ: ایک حیران کن سائنسی انکشاف
زمین پر درخت کہکشاں کے ستاروں سے زیادہ: ایک حیران کن سائنسی انکشاف
سائنسی تحقیق کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً 3 کھرب درخت موجود ہیں، جو کہکشاں Milky Way کے اندازاً ستاروں سے بھی...
اسٹیویا: صحت مند زندگی کے لیے قدرتی مٹھاس
اسٹیویا: صحت مند زندگی کے لیے قدرتی مٹھاس
اسٹیویا ایک قدرتی پودا ہے جو عام چینی کے مقابلے میں زیادہ میٹھا مگر تقریباً بغیر کیلوریز کے ہوتا ہے۔ یہ خصوصیت...
چنگ شیہ — تاریخ کی سب سے طاقتور خاتون سمندری ڈاکو
چنگ شیہ — تاریخ کی سب سے طاقتور خاتون سمندری ڈاکو
چنگ شیہ، جنہیں Ching Shih اور Zheng Yi Sao کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، تاریخ کی سب سے کامیاب اور بااثر خاتون س...