وزیراعلیٰ بلوچستان کا ہیلتھ کارڈ کے تحت علاج کی بندش پر نوٹس، فوری رپورٹ طلب
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے بعض اسپتالوں میں ہیلتھ کارڈ کے تحت علاج متاثر ہونے پر سخت نوٹس لیتے ہوئے محکمہ صحت اور متعلقہ حکام سے فوری رپورٹ طلب کرلی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی مریض کا علاج ہرگز نہیں رکنا چاہیے اور اسپتالوں کے بقایاجات فوری ادا کرنے کی ہدایت دی ہے۔ حکام کے مطابق فنڈز کی کمی کے باعث علاج متاثر ہوا، تاہم جلد ادائیگیاں کر کے مسئلہ حل کر لیا جائے گا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان کا ہیلتھ کارڈ پر علاج کی بندش کا نوٹس، فوری رپورٹ طلب
رپورٹ : عروبہ شہزاد
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے بعض اسپتالوں میں ہیلتھ کارڈ کے تحت علاج کی سہولت متاثر ہونے کے معاملے پر سخت نوٹس لیتے ہوئے محکمہ صحت اور ہیلتھ کارڈ پروگرام کے متعلقہ حکام سے فوری رپورٹ طلب کرلی ہے۔وزیراعلیٰ نے صوبائی وزیر صحت کو ہدایت کی ہے کہ اس مسئلے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے۔
میر سرفراز بگٹی کا کہنا ہے کہ ہیلتھ کارڈ پر کسی بھی مریض کا علاج کسی صورت نہیں رکنا چاہیے۔ انہوں نے صوبے بھر کے اسپتالوں کے بقایاجات فوری طور پر ادا کرنے کے احکامات بھی جاری کیے ہیں۔ذرائع کے مطابق محکمہ صحت بلوچستان ہیلتھ کارڈ پروگرام کے تحت پانچ ارب روپے سے زائد کی رقم جاری کرنے میں ناکام رہا ہے، جس کے باعث کراچی کے بعض نجی اسپتالوں میں بلوچستان سے تعلق رکھنے والے مریضوں کا علاج متاثر ہوا۔ اطلاعات ہیں کہ نجی اسپتالوں نے ادائیگی نہ ہونے کی صورت میں علاج بند کرنے کے لیے 15 دن کی مہلت دی تھی۔ بلوچستان ہیلتھ کارڈ پروگرام اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن کا تقریباً چھ ارب روپے کا مقروض ہے، جبکہ محکمہ خزانہ بلوچستان نے اب تک صرف ایک ارب روپے جاری کیے ہیں۔ چھ ماہ گزرنے کے باوجود باقی پانچ ارب روپے کی ادائیگی نہیں ہو سکی۔
حکام کا کہنا ہے کہ جلد ہی اسٹیٹ لائف انشورنس کو مطلوبہ فنڈز فراہم کر دیے جائیں گے، جبکہ نجی اسپتالوں کی جانب سے فی الحال علاج مکمل طور پر بند نہیں کیا گیا ہے۔