ملک میں ہر دوسری خاتون خون کی کمی کا شکار، علامات اور بچاؤ کیا ہے؟
پاکستان میں خون کی کمی (انیمیا) ایک سنگین مگر خاموش مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق ملک میں ہر دوسری خاتون آئرن کی کمی کا شکار ہے، خاص طور پر 15 سے 49 سال کی خواتین میں یہ مسئلہ زیادہ پایا جاتا ہے۔ اندازوں کے مطابق 41 فیصد خواتین انیمیا میں مبتلا ہیں جبکہ ہر سال لاکھوں حاملہ خواتین اس بیماری کا شکار ہو جاتی ہیں۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ خون کی کمی کی عام علامات میں مسلسل تھکاوٹ، کمزوری، سانس پھولنا، چکر آنا اور جسم میں توانائی کی کمی شامل ہیں۔ حمل کے دوران انیمیا ماں اور بچے دونوں کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ بار بار حمل، بچوں میں کم وقفہ اور مناسب غذا کی کمی خواتین کے جسم میں آئرن کے ذخائر ختم کر دیتی ہے۔ ماہرین کے مطابق غربت اور بڑھتی آبادی بھی اس مسئلے کی بڑی وجہ ہے۔ گھروں میں وسائل محدود ہوتے ہیں، ماں سب کو کھلاتی ہے مگر خود مناسب خوراک نہیں لے پاتی۔ یہی وجہ ہے کہ بچوں میں بھی خون کی کمی تیزی سے بڑھ رہی ہے اور ہر سال لاکھوں بچوں میں انیمیا کی تشخیص ہو رہی ہے، جس سے ان کی جسمانی اور ذہنی نشوونما متاثر ہوتی ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اس مسئلے سے بچاؤ کے لیے آئرن والی غذا، سبز پتوں والی سبزیاں، دالیں، گوشت اور آئرن سپلیمنٹس کا استعمال ضروری ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ فیملی پلاننگ اور صحت سے متعلق آگاہی کو فروغ دینا بھی بے حد اہم ہے۔ ماہرین کے مطابق آبادی پر قابو پا کر ہی صحت مند مائیں، مضبوط بچے اور بہتر مستقبل ممکن بنایا جا سکتا ہے۔
ملک میں ہر دوسری خاتون خون کی کمی کا شکار، علامات اور بچاؤ کیا ہے؟
رپورٹ:اقصی بلوچ
پاکستان میں خون کی کمی (انیمیا) ایک سنگین مگر خاموش مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق ملک میں ہر دوسری خاتون آئرن کی کمی کا شکار ہے، خاص طور پر 15 سے 49 سال کی خواتین میں یہ مسئلہ زیادہ پایا جاتا ہے۔ اندازوں کے مطابق 41 فیصد خواتین انیمیا میں مبتلا ہیں جبکہ ہر سال لاکھوں حاملہ خواتین اس بیماری کا شکار ہو جاتی ہیں۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ خون کی کمی کی عام علامات میں مسلسل تھکاوٹ، کمزوری، سانس پھولنا، چکر آنا اور جسم میں توانائی کی کمی شامل ہیں۔ حمل کے دوران انیمیا ماں اور بچے دونوں کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ بار بار حمل، بچوں میں کم وقفہ اور مناسب غذا کی کمی خواتین کے جسم میں آئرن کے ذخائر ختم کر دیتی ہے۔
ماہرین کے مطابق غربت اور بڑھتی آبادی بھی اس مسئلے کی بڑی وجہ ہے۔ گھروں میں وسائل محدود ہوتے ہیں، ماں سب کو کھلاتی ہے مگر خود مناسب خوراک نہیں لے پاتی۔ یہی وجہ ہے کہ بچوں میں بھی خون کی کمی تیزی سے بڑھ رہی ہے اور ہر سال لاکھوں بچوں میں انیمیا کی تشخیص ہو رہی ہے، جس سے ان کی جسمانی اور ذہنی نشوونما متاثر ہوتی ہے۔
ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اس مسئلے سے بچاؤ کے لیے آئرن والی غذا، سبز پتوں والی سبزیاں، دالیں، گوشت اور آئرن سپلیمنٹس کا استعمال ضروری ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ فیملی پلاننگ اور صحت سے متعلق آگاہی کو فروغ دینا بھی بے حد اہم ہے۔ ماہرین کے مطابق آبادی پر قابو پا کر ہی صحت مند مائیں، مضبوط بچے اور بہتر مستقبل ممکن بنایا جا سکتا ہے۔