بچوں میں زیادہ شکر ذیابیطس اور بلڈ پریشر کا خطرہ بڑھا سکتی ہے
برطانوی تحقیق کے مطابق بچوں کی پیدائش سے لے کر دوسری سالگرہ تک شکر کی مقدار کم رکھنا ان کی صحت کے لیے بہت فائدہ مند ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ اس دوران شکر کی زیادہ مقدار نہ صرف جسمانی صحت بلکہ دماغی نشوونما پر بھی منفی اثر ڈال سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق وہ بچے جو ابتدائی 1000 دنوں کے دوران کم شکر استعمال کرتے ہیں یا جن کی مائیں حمل کے دوران کم شکر کھاتی ہیں، ان میں ٹائپ 2 ذیابیطس اور ہائی بلڈ پریشر کے خطرات میں بالترتیب 35 فیصد اور 20 فیصد کمی دیکھی گئی، اور یہ بیماریاں بھی بعد میں ظاہر ہوئیں۔ ماہرین صحت والدین کو مشورہ دیتے ہیں کہ حمل سے لے کر بچے کی دوسری سالگرہ تک شکر سے پرہیز کریں۔ اس دوران بچوں کو آئس کریم، میٹھے مشروبات اور دیگر میٹھے فارمولے دینے کی بجائے پانی، دودھ اور تازہ پھل دیں۔ تحقیق کے نتائج سے واضح ہوتا ہے کہ ابتدائی عمر میں شکر کی مقدار محدود رکھنا بچوں کی طویل المدتی صحت اور دماغی ترقی کے لیے بہت اہم ہے۔
بچوں میں زیادہ شکر ذیابیطس اور بلڈ پریشر کا خطرہ بڑھا سکتی ہے
رپورٹ: اقصی بلوچ
برطانوی تحقیق کے مطابق بچوں کی پیدائش سے لے کر دوسری سالگرہ تک شکر کی مقدار کم رکھنا ان کی صحت کے لیے بہت فائدہ مند ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ اس دوران شکر کی زیادہ مقدار نہ صرف جسمانی صحت بلکہ دماغی نشوونما پر بھی منفی اثر ڈال سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق وہ بچے جو ابتدائی 1000 دنوں کے دوران کم شکر استعمال کرتے ہیں یا جن کی مائیں حمل کے دوران کم شکر کھاتی ہیں، ان میں ٹائپ 2 ذیابیطس اور ہائی بلڈ پریشر کے خطرات میں بالترتیب 35 فیصد اور 20 فیصد کمی دیکھی گئی، اور یہ بیماریاں بھی بعد میں ظاہر ہوئیں۔
ماہرین صحت والدین کو مشورہ دیتے ہیں کہ حمل سے لے کر بچے کی دوسری سالگرہ تک شکر سے پرہیز کریں۔ اس دوران بچوں کو آئس کریم، میٹھے مشروبات اور دیگر میٹھے فارمولے دینے کی بجائے پانی، دودھ اور تازہ پھل دیں۔
تحقیق کے نتائج سے واضح ہوتا ہے کہ ابتدائی عمر میں شکر کی مقدار محدود رکھنا بچوں کی طویل المدتی صحت اور دماغی ترقی کے لیے بہت اہم ہے۔