بچوں میں ہائی بلڈ پریشر میں اضافہ، والدین کے لیے وارننگ
امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کی نئی تحقیق میں بچوں اور نوعمر نوجوانوں میں ہائی بلڈ پریشر میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، جو صحت کے لیے تشویش ناک ہے۔ تحقیق میں 21 ممالک کے 96 اسٹڈیز کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا، جس میں 400,000 سے زائد بچوں کے اعداد و شمار شامل تھے۔ رپورٹ کے مطابق پچھلے 20 سالوں میں بچوں اور نوعمر نوجوانوں میں ہائی بلڈ پریشر کی شرح تقریباً دوگنی ہو گئی ہے اور اب یہ 6.2 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ ہائی بلڈ پریشر میں اضافے کی بنیادی وجوہات بچوں میں موٹاپا، غیر صحت مند خوراک اور جسمانی سرگرمی کی کمی ہیں۔ زیادہ وزن یا موٹاپے والے بچوں میں بلڈ پریشر بڑھنے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں، اور یہ رجحان خاص طور پر 12 سال سے زائد لڑکوں میں زیادہ دیکھا گیا ہے۔ ماہرین صحت کے مطابق والدین کو چاہیے کہ بچوں کی خوراک اور روزمرہ کی سرگرمیوں پر خاص توجہ دیں تاکہ اس خطرے کو کم کیا جا سکے۔ ہائی بلڈ پریشر بچوں کے گردوں، دل اور آنکھوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ گردوں کی نالیوں اور شریانوں کو نقصان پہنچنے سے ان کی فلٹرنگ صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں ڈائلاسس یا گردے کے ٹرانسپلانٹ کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔ اسی طرح آنکھوں کی باریک شریانوں کو نقصان پہنچنے سے نظر میں کمی یا اندھا پن بھی ہو سکتا ہے۔ ماہرین والدین کو تاکید کرتے ہیں کہ بچوں میں بلڈ پریشر کی ابتدائی جانچ بہت ضروری ہے۔ ابتدائی بلڈ پریشر والے بچوں میں مکمل ہائی بلڈ پریشر تک پہنچنے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ بچوں میں ہائی بلڈ پریشر کے بڑھتے رجحان کے ساتھ دیگر مسائل جیسے ٹائپ 2 ذیابیطس، دمہ اور ذہنی صحت کے مسائل بھی بڑھ رہے ہیں، جن پر بروقت قابو پانا ضروری ہے۔
بچوں میں ہائی بلڈ پریشر میں اضافہ، والدین کے لیے وارننگ
رپورٹ: اقصی بلوچ
امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کی نئی تحقیق میں بچوں اور نوعمر نوجوانوں میں ہائی بلڈ پریشر میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، جو صحت کے لیے تشویش ناک ہے۔ تحقیق میں 21 ممالک کے 96 اسٹڈیز کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا، جس میں 400,000 سے زائد بچوں کے اعداد و شمار شامل تھے۔ رپورٹ کے مطابق پچھلے 20 سالوں میں بچوں اور نوعمر نوجوانوں میں ہائی بلڈ پریشر کی شرح تقریباً دوگنی ہو گئی ہے اور اب یہ 6.2 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔

ہائی بلڈ پریشر میں اضافے کی بنیادی وجوہات بچوں میں موٹاپا، غیر صحت مند خوراک اور جسمانی سرگرمی کی کمی ہیں۔ زیادہ وزن یا موٹاپے والے بچوں میں بلڈ پریشر بڑھنے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں، اور یہ رجحان خاص طور پر 12 سال سے زائد لڑکوں میں زیادہ دیکھا گیا ہے۔ ماہرین صحت کے مطابق والدین کو چاہیے کہ بچوں کی خوراک اور روزمرہ کی سرگرمیوں پر خاص توجہ دیں تاکہ اس خطرے کو کم کیا جا سکے۔
ہائی بلڈ پریشر بچوں کے گردوں، دل اور آنکھوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ گردوں کی نالیوں اور شریانوں کو نقصان پہنچنے سے ان کی فلٹرنگ صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں ڈائلاسس یا گردے کے ٹرانسپلانٹ کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔ اسی طرح آنکھوں کی باریک شریانوں کو نقصان پہنچنے سے نظر میں کمی یا اندھا پن بھی ہو سکتا ہے۔
ماہرین والدین کو تاکید کرتے ہیں کہ بچوں میں بلڈ پریشر کی ابتدائی جانچ بہت ضروری ہے۔ ابتدائی بلڈ پریشر والے بچوں میں مکمل ہائی بلڈ پریشر تک پہنچنے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ بچوں میں ہائی بلڈ پریشر کے بڑھتے رجحان کے ساتھ دیگر مسائل جیسے ٹائپ 2 ذیابیطس، دمہ اور ذہنی صحت کے مسائل بھی بڑھ رہے ہیں، جن پر بروقت قابو پانا ضروری ہے۔