کان صاف کرنے کے لیے ایئر بڈز استعمال کرنا کتنا خطرناک ہے؟

کان صاف کرنے کے لیے ایئر بڈز استعمال کرنا کتنا خطرناک ہے؟

اکثر لوگ کان صاف کرنے کے لیے ایئر بڈز یا روئی کا استعمال کرتے ہیں، لیکن ماہرین صحت کے مطابق یہ عادت فائدے کے بجائے نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔ ای این ٹی (کان، ناک، گلا) کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ایئر بڈز یا روئی کان میں ڈالنے سے میل صاف نہیں ہوتا بلکہ الٹا وہ مزید اندر کی طرف چلا جاتا ہے۔ اس سے کان میں درد، انفیکشن اور بعض اوقات کان کے پردے کو نقصان پہنچنے کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق کان میں موجود  ایئر ویکس (کان کا میل) دراصل قدرتی حفاظتی نظام کا حصہ ہوتا ہے، جو کان کو دھول، مٹی اور جراثیم سے محفوظ رکھتا ہے۔ یہ میل عام طور پر خود بخود باہر آ جاتا ہے اور اسے زبردستی نکالنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ تحقیقی رپورٹس کے مطابق 70 فیصد سے زیادہ کان کے مسائل کی وجہ غلط طریقے سے کان صاف کرنا ہے، خاص طور پر ایئر بڈز یا روئی کا استعمال۔ اگر کسی شخص کو یہ محسوس ہو کہ کان میں میل زیادہ جمع ہو گیا ہے، یا سننے میں دقت، درد یا جلن ہو رہی ہے تو ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ خود سے کان صاف کرنے کے بجائے کسی مستند ڈاکٹر سے رجوع کیا جائے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ کانوں کی صفائی میں لاپرواہی سنگین مسائل کا سبب بن سکتی ہے، اس لیے احتیاط نہایت ضروری ہے۔

کان صاف کرنے کے لیے ایئر بڈز استعمال کرنا کتنا خطرناک ہے؟


رپورٹ : اقصی بلوچ

اکثر لوگ کان صاف کرنے کے لیے ایئر بڈز یا روئی کا استعمال کرتے ہیں، لیکن ماہرین صحت کے مطابق یہ عادت فائدے کے بجائے نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔
ای این ٹی (کان، ناک، گلا) کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ایئر بڈز یا روئی کان میں ڈالنے سے میل صاف نہیں ہوتا بلکہ الٹا وہ مزید اندر کی طرف چلا جاتا ہے۔ اس سے کان میں درد، انفیکشن اور بعض اوقات کان کے پردے کو نقصان پہنچنے کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق کان میں موجود  ایئر ویکس (کان کا میل) دراصل قدرتی حفاظتی نظام کا حصہ ہوتا ہے، جو کان کو دھول، مٹی اور جراثیم سے محفوظ رکھتا ہے۔ یہ میل عام طور پر خود بخود باہر آ جاتا ہے اور اسے زبردستی نکالنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔
تحقیقی رپورٹس کے مطابق 70 فیصد سے زیادہ کان کے مسائل کی وجہ غلط طریقے سے کان صاف کرنا ہے، خاص طور پر ایئر بڈز یا روئی کا استعمال۔
اگر کسی شخص کو یہ محسوس ہو کہ کان میں میل زیادہ جمع ہو گیا ہے، یا سننے میں دقت، درد یا جلن ہو رہی ہے تو ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ خود سے کان صاف کرنے کے بجائے کسی مستند ڈاکٹر سے رجوع کیا جائے۔
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ کانوں کی صفائی میں لاپرواہی سنگین مسائل کا سبب بن سکتی ہے، اس لیے احتیاط نہایت ضروری ہے۔


Related News

Balochistan Health Card Program Driving Major Reforms in Provincial Healthcare System
Balochistan Health Card Program Driving Major Reforms in Provincial Healthcare System
World Cancer Day 2026: United by Unique – A Global Call for Awareness and Early Detection
World Cancer Day 2026: United by Unique – A Global Call for Awareness and Early Detection
Provincial Health Minister Bakhth Muhammad Kakar Chairs PPHI Review Meeting
Provincial Health Minister Bakhth Muhammad Kakar Chairs PPHI Review Meeting
Stay Fit Without the Gym: Simple Exercises for a Healthy Daily Routine
Stay Fit Without the Gym: Simple Exercises for a Healthy Daily Routine
Provincial Health Minister Visits Trauma Center, Inquires After Injured Patients
Provincial Health Minister Visits Trauma Center, Inquires After Injured Patients
Nipah Virus: A Deadly Zoonotic Threat and Current Situation in South Asia
Nipah Virus: A Deadly Zoonotic Threat and Current Situation in South Asia