ڈارک چاکلیٹ کیسے بڑھاتی ہے دماغ کی کارکردگی اور وقتی یادداشت؟
جاپان میں ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق ڈارک چاکلیٹ دماغ کے لیے فائدہ مند ہو سکتی ہے اور وقتی طور پر یادداشت کو بہتر بنا سکتی ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا کہ ڈارک چاکلیٹ میں موجود خاص مرکبات، جنہیں فلیوینولز کہا جاتا ہے، دماغ کے انتباہی نظام کو متحرک کرتے ہیں۔ یہی مرکبات ڈارک چاکلیٹ کے کڑوے ذائقے کا سبب بھی بنتے ہیں۔ تحقیق کے مطابق فلیوینولز دماغ کے ایک حصے لوکس کوریولیس کو سرگرم کرتے ہیں، جو دماغ کے الارم سسٹم کی طرح کام کرتا ہے۔ اس کے بعد دماغ میں نورایڈرینالین نامی کیمیکل خارج ہوتا ہے، جو توجہ بڑھانے اور وقتی یادداشت کو مضبوط کرنے میں مدد دیتا ہے۔ یہ اثر تقریباً ایک گھنٹے تک برقرار رہتا ہے۔ ماہرین نے بتایا کہ یہ فائدہ عارضی ہے اور زیادہ دیر تک یادداشت بہتر کرنے کے لیے کافی نہیں۔ مزید یہ کہ تحقیق میں جو مقدار استعمال ہوئی وہ عام ڈارک چاکلیٹ میں موجود مقدار سے زیادہ تھی، اس لیے یہ اثر ہر کسی پر مکمل طور پر لاگو نہیں ہوتا۔ اس کے باوجود، پڑھائی یا ذہنی کام کے دوران تھوڑی مقدار میں ڈارک چاکلیٹ کھانا مفید ہو سکتا ہے، کیونکہ یہ دماغ کو چوکنا رکھتا ہے اور توجہ بڑھاتا ہے۔ ڈارک چاکلیٹ وقتی یادداشت اور دماغ کی چوکسیت بڑھانے میں مددگار ہے، مگر طویل مدتی یادداشت کے لیے اس پر مکمل انحصار نہیں کیا جا سکتا۔
ڈارک چاکلیٹ کیسے بڑھاتی ہے دماغ کی کارکردگی اور وقتی یادداشت؟
رپورٹ: اقصی بلوچ
جاپان میں ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق ڈارک چاکلیٹ دماغ کے لیے فائدہ مند ہو سکتی ہے اور وقتی طور پر یادداشت کو بہتر بنا سکتی ہے۔
تحقیق میں بتایا گیا کہ ڈارک چاکلیٹ میں موجود خاص مرکبات، جنہیں فلیوینولز کہا جاتا ہے، دماغ کے انتباہی نظام کو متحرک کرتے ہیں۔ یہی مرکبات ڈارک چاکلیٹ کے کڑوے ذائقے کا سبب بھی بنتے ہیں۔

تحقیق کے مطابق فلیوینولز دماغ کے ایک حصے لوکس کوریولیس کو سرگرم کرتے ہیں، جو دماغ کے الارم سسٹم کی طرح کام کرتا ہے۔ اس کے بعد دماغ میں نورایڈرینالین نامی کیمیکل خارج ہوتا ہے، جو توجہ بڑھانے اور وقتی یادداشت کو مضبوط کرنے میں مدد دیتا ہے۔ یہ اثر تقریباً ایک گھنٹے تک برقرار رہتا ہے۔
ماہرین نے بتایا کہ یہ فائدہ عارضی ہے اور زیادہ دیر تک یادداشت بہتر کرنے کے لیے کافی نہیں۔ مزید یہ کہ تحقیق میں جو مقدار استعمال ہوئی وہ عام ڈارک چاکلیٹ میں موجود مقدار سے زیادہ تھی، اس لیے یہ اثر ہر کسی پر مکمل طور پر لاگو نہیں ہوتا۔
اس کے باوجود، پڑھائی یا ذہنی کام کے دوران تھوڑی مقدار میں ڈارک چاکلیٹ کھانا مفید ہو سکتا ہے، کیونکہ یہ دماغ کو چوکنا رکھتا ہے اور توجہ بڑھاتا ہے۔
ڈارک چاکلیٹ وقتی یادداشت اور دماغ کی چوکسیت بڑھانے میں مددگار ہے، مگر طویل مدتی یادداشت کے لیے اس پر مکمل انحصار نہیں کیا جا سکتا۔