آئرن کی کمی ہمیشہ کے لیے ختم، لیکن کیسے؟
جسم میں وٹامنز اور منرلز کی موجودگی اچھی صحت کے لیے نہایت ضروری ہے، انہی میں سے ایک اہم عنصر آئرن بھی ہے۔ آئرن کی کمی اور زیادتی دونوں نقصان دہ ہوسکتی ہیں، لیکن اگر جسم میں آئرن کم ہوجائے تو مختلف بیماریوں اور کمزوری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ آئرن ایک ایسا منرل ہے جو خون میں ہیموگلوبن بنانے، جسم میں آکسیجن پہنچانے، پٹھوں کی مضبوطی، توانائی پیدا کرنے اور مدافعتی نظام کو بہتر رکھنے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ آئرن کی کمی جسمانی اور ذہنی دونوں طرح کے مسائل پیدا کرتی ہے۔ آئرن کی کمی کی بڑی وجوہات ایسی غذا کھانا جس میں آئرن کم ہو، صرف سبزیوں پر زیادہ انحصار کرنا، خون کی کمی، مسلسل تھکاوٹ، بڑھتی عمر، ہاضمے کے مسائل، جسم سے خون کا ضائع ہونا، خواتین میں ماہواری، حمل، دودھ پلانا، الکحل کا استعمال اور کچھ ادویات بھی آئرن کی کمی کا باعث بنتی ہیں۔ کمزور مدافعت بھی ایک اہم وجہ ہے۔ آئرن کی کمی کی علامات آئرن کی کمی سے سانس پھولنا، تھکاوٹ، چکر آنا، جلد کا پیلا نظر آنا، دل کی دھڑکن تیز ہونا، سرد ہاتھ پاؤں، بال جھڑنا، کیل مہاسے، توجہ میں کمی، نید کا خراب ہونا جیسی علامات عام پائی جاتی ہیں۔ طبی ماہرین کے مطابق مناسب آئرن جسم میں خون بڑھانے، مدافعت مضبوط بنانے، پٹھے اور ہڈیاں مضبوط کرنے اور ذہنی کمزوری دور کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ آئرن حاصل کرنے کے قدرتی ذرائع آئرن کے بہترین قدرتی ذرائع میں لال گوشت، کلیجی، مرغی، مچھلی، پالک، میتھی، لوبیا، دالیں، چنے، کھجور، کشمش، چقندر، انڈہ، خشک میوہ جات اور گڑ شامل ہیں۔ وٹامن سی والی غذائیں جیسے لیموں، مالٹا، کینو آئرن کے جذب ہونے کو مزید بہتر بناتی ہیں۔ روزانہ آئرن کتنا لینا چاہیے؟ عام مردوں کو روزانہ 8–10 ملی گرام جبکہ خواتین کو 15–18 ملی گرام آئرن لینا ضروری ہے۔ حاملہ خواتین کی ضرورت اس سے بھی زیادہ ہوتی ہے کیونکہ انہیں بچے کی نشوونما کے لیے اضافی آئرن درکار ہوتا ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق بلا ضرورت آئرن سپلیمنٹ لینا درست نہیں، کیونکہ زیادہ مقدار جسم کو نقصان بھی پہنچا سکتی ہے۔ آئرن کی مناسب اور متوازن مقدار توانائی، صحت مند خون، مضبوط مدافعت اور فعال جسمانی نظام کے لیے نہایت ضروری ہے۔
آئرن کی کمی ہمیشہ کے لیے ختم، لیکن کیسے؟
رپورٹ : اقصی بلوچ
جسم میں وٹامنز اور منرلز کی موجودگی اچھی صحت کے لیے نہایت ضروری ہے، انہی میں سے ایک اہم عنصر آئرن بھی ہے۔ آئرن کی کمی اور زیادتی دونوں نقصان دہ ہوسکتی ہیں، لیکن اگر جسم میں آئرن کم ہوجائے تو مختلف بیماریوں اور کمزوری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
آئرن ایک ایسا منرل ہے جو خون میں ہیموگلوبن بنانے، جسم میں آکسیجن پہنچانے، پٹھوں کی مضبوطی، توانائی پیدا کرنے اور مدافعتی نظام کو بہتر رکھنے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ آئرن کی کمی جسمانی اور ذہنی دونوں طرح کے مسائل پیدا کرتی ہے۔
آئرن کی کمی کی بڑی وجوہات
ایسی غذا کھانا جس میں آئرن کم ہو، صرف سبزیوں پر زیادہ انحصار کرنا، خون کی کمی، مسلسل تھکاوٹ، بڑھتی عمر، ہاضمے کے مسائل، جسم سے خون کا ضائع ہونا، خواتین میں ماہواری، حمل، دودھ پلانا، الکحل کا استعمال اور کچھ ادویات بھی آئرن کی کمی کا باعث بنتی ہیں۔ کمزور مدافعت بھی ایک اہم وجہ ہے۔
آئرن کی کمی کی علامات
آئرن کی کمی سے سانس پھولنا، تھکاوٹ، چکر آنا، جلد کا پیلا نظر آنا، دل کی دھڑکن تیز ہونا، سرد ہاتھ پاؤں، بال جھڑنا، کیل مہاسے، توجہ میں کمی، نید کا خراب ہونا جیسی علامات عام پائی جاتی ہیں۔
طبی ماہرین کے مطابق مناسب آئرن جسم میں خون بڑھانے، مدافعت مضبوط بنانے، پٹھے اور ہڈیاں مضبوط کرنے اور ذہنی کمزوری دور کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
آئرن حاصل کرنے کے قدرتی ذرائع
آئرن کے بہترین قدرتی ذرائع میں لال گوشت، کلیجی، مرغی، مچھلی، پالک، میتھی، لوبیا، دالیں، چنے، کھجور، کشمش، چقندر، انڈہ، خشک میوہ جات اور گڑ شامل ہیں۔
وٹامن سی والی غذائیں جیسے لیموں، مالٹا، کینو آئرن کے جذب ہونے کو مزید بہتر بناتی ہیں۔
روزانہ آئرن کتنا لینا چاہیے؟
عام مردوں کو روزانہ 8–10 ملی گرام جبکہ خواتین کو 15–18 ملی گرام آئرن لینا ضروری ہے۔
حاملہ خواتین کی ضرورت اس سے بھی زیادہ ہوتی ہے کیونکہ انہیں بچے کی نشوونما کے لیے اضافی آئرن درکار ہوتا ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق بلا ضرورت آئرن سپلیمنٹ لینا درست نہیں، کیونکہ زیادہ مقدار جسم کو نقصان بھی پہنچا سکتی ہے۔
آئرن کی مناسب اور متوازن مقدار توانائی، صحت مند خون، مضبوط مدافعت اور فعال جسمانی نظام کے لیے نہایت ضروری ہے۔