بچپن میں مونگ پھلی: بچوں کو الرجی سے بچانے کی اہم تحقیق

بچپن میں مونگ پھلی: بچوں کو الرجی سے بچانے کی اہم تحقیق

حال ہی میں سامنے آنے والی تحقیق سے واضح ہوا ہے کہ نوزائیدہ بچوں کو بچپن میں مونگ پھلی کھلانے سے غذائی الرجی کا خطرہ نمایاں طور پر کم ہو سکتا ہے۔ مطالعے کے مطابق، 2015 میں جاری شدہ طبی ہدایات میں تجویز دی گئی کہ بچوں کو چار ماہ کی عمر سے تھوڑی مقدار میں مونگ پھلی دی جائے۔ اس کے بعد 0 سے 3 سال کے بچوں میں مونگ پھلی الرجی کی شرح 27 فیصد کم ہوئی، اور 2017 میں سفارشات میں توسیع کے بعد یہ کمی 40 فیصد سے بھی زیادہ دیکھی گئی۔ فلاڈیلفیا کے چلڈرن ہسپتال کے ڈاکٹر ڈیوڈ ہِل نے کہا کہ اگر یہ اقدامات نہ کیے جاتے تو مونگ پھلی الرجی کے شکار بچوں کی تعداد کہیں زیادہ ہوتی۔ ان کے مطابق، اب تک تقریباً 60 ہزار بچوں کو غذائی الرجی سے بچایا جا چکا ہے، جن میں سے 40 ہزار وہ بچے ہیں جو مونگ پھلی الرجی کے شکار ہو سکتے تھے۔ مونگ پھلی الرجی اس وقت ہوتی ہے جب جسم کا مدافعتی نظام مونگ پھلی کے پروٹینز کو نقصان دہ سمجھ کر ردعمل ظاہر کرتا ہے۔ اس کے نتیجے میں خارش، سانس لینے میں دشواری یا بعض اوقات جان لیوا اینافلیکسیس جیسی علامات پیدا ہو سکتی ہیں۔ گزشتہ کئی دہائیوں تک ڈاکٹروں کا مشورہ تھا کہ بچوں کو مونگ پھلی تین سال کی عمر تک نہ دی جائے، لیکن 2015 میں لندن کے کنگز کالج کے پروفیسر گیڈون لیک کی تحقیق LEAP (Learning Early About Peanut Allergy) نے یہ نظریہ بدل دیا۔ تحقیق سے پتہ چلا کہ بچپن میں مونگ پھلی کھلانے سے مستقبل میں غذائی الرجی کا خطرہ 80 فیصد کم ہو جاتا ہے، اور یہ تحفظ تقریباً 70 فیصد بچوں میں بلوغت تک برقرار رہتا ہے۔

بچپن میں مونگ پھلی: بچوں کو الرجی سے بچانے کی اہم تحقیق

رپورٹ: اقصی بلوچ

حال ہی میں سامنے آنے والی تحقیق سے واضح ہوا ہے کہ نوزائیدہ بچوں کو بچپن میں مونگ پھلی کھلانے سے غذائی الرجی کا خطرہ نمایاں طور پر کم ہو سکتا ہے۔

مطالعے کے مطابق، 2015 میں جاری شدہ طبی ہدایات میں تجویز دی گئی کہ بچوں کو چار ماہ کی عمر سے تھوڑی مقدار میں مونگ پھلی دی جائے۔ اس کے بعد 0 سے 3 سال کے بچوں میں مونگ پھلی الرجی کی شرح 27 فیصد کم ہوئی، اور 2017 میں سفارشات میں توسیع کے بعد یہ کمی 40 فیصد سے بھی زیادہ دیکھی گئی۔

فلاڈیلفیا کے چلڈرن ہسپتال کے ڈاکٹر ڈیوڈ ہِل نے کہا کہ اگر یہ اقدامات نہ کیے جاتے تو مونگ پھلی الرجی کے شکار بچوں کی تعداد کہیں زیادہ ہوتی۔ ان کے مطابق، اب تک تقریباً 60 ہزار بچوں کو غذائی الرجی سے بچایا جا چکا ہے، جن میں سے 40 ہزار وہ بچے ہیں جو مونگ پھلی الرجی کے شکار ہو سکتے تھے۔

مونگ پھلی الرجی اس وقت ہوتی ہے جب جسم کا مدافعتی نظام مونگ پھلی کے پروٹینز کو نقصان دہ سمجھ کر ردعمل ظاہر کرتا ہے۔ اس کے نتیجے میں خارش، سانس لینے میں دشواری یا بعض اوقات جان لیوا اینافلیکسیس جیسی علامات پیدا ہو سکتی ہیں۔

گزشتہ کئی دہائیوں تک ڈاکٹروں کا مشورہ تھا کہ بچوں کو مونگ پھلی تین سال کی عمر تک نہ دی جائے، لیکن 2015 میں لندن کے کنگز کالج کے پروفیسر گیڈون لیک کی تحقیق LEAP (Learning Early About Peanut Allergy) نے یہ نظریہ بدل دیا۔ تحقیق سے پتہ چلا کہ بچپن میں مونگ پھلی کھلانے سے مستقبل میں غذائی الرجی کا خطرہ 80 فیصد کم ہو جاتا ہے، اور یہ تحفظ تقریباً 70 فیصد بچوں میں بلوغت تک برقرار رہتا ہے۔

 


Related News

Balochistan Health Card Program Driving Major Reforms in Provincial Healthcare System
Balochistan Health Card Program Driving Major Reforms in Provincial Healthcare System
World Cancer Day 2026: United by Unique – A Global Call for Awareness and Early Detection
World Cancer Day 2026: United by Unique – A Global Call for Awareness and Early Detection
Provincial Health Minister Bakhth Muhammad Kakar Chairs PPHI Review Meeting
Provincial Health Minister Bakhth Muhammad Kakar Chairs PPHI Review Meeting
Stay Fit Without the Gym: Simple Exercises for a Healthy Daily Routine
Stay Fit Without the Gym: Simple Exercises for a Healthy Daily Routine
Provincial Health Minister Visits Trauma Center, Inquires After Injured Patients
Provincial Health Minister Visits Trauma Center, Inquires After Injured Patients
Nipah Virus: A Deadly Zoonotic Threat and Current Situation in South Asia
Nipah Virus: A Deadly Zoonotic Threat and Current Situation in South Asia