مکئی: ذیابیطس کے مریضوں کے لیے فائدہ مند یا نقصان دہ؟
مکئی دنیا بھر میں ایک قدیم اور مقبول اناج ہے جو اپنی غذائی خصوصیات کی وجہ سے بہت سے ممالک کی خوراک کا حصہ ہے۔ یہ فائبر، وٹامنز، منرلز اور اینٹی آکسیڈینٹس سے بھرپور ہوتا ہے، جو جسم کی قوت مدافعت بڑھانے اور بیماریوں سے لڑنے میں مدد دیتے ہیں۔ ماہرین غذائیت کے مطابق مکئی ذیابیطس کے مریضوں کے لیے مکمل طور پر نقصان دہ نہیں، بلکہ صحیح مقدار اور مناسب طریقے سے استعمال کرنے پر یہ صحت مند غذا کا حصہ بن سکتی ہے۔ ذیابیطس کے مریض مکئی کو مختلف طریقوں سے کھا سکتے ہیں، جیسے کہ گرل یا اُبال کر، سلاد یا ہلکی تلی ہوئی سبزیوں کے ساتھ، سوپ یا اسٹو میں پکاکر، یا سبزیوں کے ساتھ روسٹ کر کے۔ ذائقہ بڑھانے کے لیے لیموں کا رس، ہلکی جڑی بوٹیاں یا مصالحے بھی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ تاہم ماہرین کہتے ہیں کہ پروسس شدہ یا میٹھے مکئی کے پکوان خون میں شکر کی سطح جلد بڑھا سکتے ہیں، اس لیے ان سے پرہیز ضروری ہے۔ فائبر کی زیادہ مقدار کی وجہ سے مکئی چاول کے مقابلے میں بہتر انتخاب ہے کیونکہ یہ دیرپا توانائی فراہم کرتا ہے اور گلیسیمک لوڈ بھی کم ہوتا ہے۔ اس لیے ذیابیطس کے مریض مکئی کو اپنی روزمرہ غذا میں شامل کرنے سے پہلے مقدار اور استعمال کے طریقے پر توجہ دیں اور معالج کی ہدایت کو ترجیح دیں
مکئی: ذیابیطس کے مریضوں کے لیے فائدہ مند یا نقصان دہ؟
رپورٹ: اقصی بلوچ
مکئی دنیا بھر میں ایک قدیم اور مقبول اناج ہے جو اپنی غذائی خصوصیات کی وجہ سے بہت سے ممالک کی خوراک کا حصہ ہے۔ یہ فائبر، وٹامنز، منرلز اور اینٹی آکسیڈینٹس سے بھرپور ہوتا ہے، جو جسم کی قوت مدافعت بڑھانے اور بیماریوں سے لڑنے میں مدد دیتے ہیں۔ ماہرین غذائیت کے مطابق مکئی ذیابیطس کے مریضوں کے لیے مکمل طور پر نقصان دہ نہیں، بلکہ صحیح مقدار اور مناسب طریقے سے استعمال کرنے پر یہ صحت مند غذا کا حصہ بن سکتی ہے۔

ذیابیطس کے مریض مکئی کو مختلف طریقوں سے کھا سکتے ہیں، جیسے کہ گرل یا اُبال کر، سلاد یا ہلکی تلی ہوئی سبزیوں کے ساتھ، سوپ یا اسٹو میں پکاکر، یا سبزیوں کے ساتھ روسٹ کر کے۔ ذائقہ بڑھانے کے لیے لیموں کا رس، ہلکی جڑی بوٹیاں یا مصالحے بھی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ تاہم ماہرین کہتے ہیں کہ پروسس شدہ یا میٹھے مکئی کے پکوان خون میں شکر کی سطح جلد بڑھا سکتے ہیں، اس لیے ان سے پرہیز ضروری ہے۔ فائبر کی زیادہ مقدار کی وجہ سے مکئی چاول کے مقابلے میں بہتر انتخاب ہے کیونکہ یہ دیرپا توانائی فراہم کرتا ہے اور گلیسیمک لوڈ بھی کم ہوتا ہے۔ اس لیے ذیابیطس کے مریض مکئی کو اپنی روزمرہ غذا میں شامل کرنے سے پہلے مقدار اور استعمال کے طریقے پر توجہ دیں اور معالج کی ہدایت کو ترجیح دیں۔