پالتو جانوروں کو بوسہ دینا کتنا خطرناک ہو سکتا ہے؟
پالتو جانوروں سے محبت کرنا، ان کی دیکھ بھال کرنا اور ان کے ساتھ نرمی سے پیش آنا ایک فطری بات ہے، لیکن ماہرین صحت خبردار کرتے ہیں کہ انہیں بوسہ دینا یا اپنا منہ ان کے قریب لے جانا صحت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق کتے اور بلیاں اپنے منہ میں ایسے جراثیم رکھتے ہیں جو انسانوں میں بیماری پھیلا سکتے ہیں۔ بعض لوگ اپنے پالتو جانوروں سے اتنی محبت کرتے ہیں کہ انہیں چومنا معمول بن جاتا ہے، مگر یہ عادت مختلف انفیکشنز کا سبب بن سکتی ہے۔ امریکی ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ اگر کسی شخص کے منہ میں زخم ہو یا اس کا مدافعتی نظام کمزور ہو تو پالتو جانوروں کو چومنے سے بیماری لگنے کا خطرہ مزید بڑھ جاتا ہے۔ سی این این کی ایک رپورٹ کے مطابق ماہرین نے بتایا ہے کہ جانوروں کے منہ میں موجود بیکٹیریا بعض اوقات انسانوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں، جو سنگین انفیکشن کا باعث بھی بن سکتے ہیں۔ ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ پالتو جانوروں کے ساتھ وقت گزاریں، انہیں پیار کریں، گود میں اٹھائیں، لیکن منہ سے چومنے یا بہت زیادہ قربت سے پرہیز کریں۔ صحت مند رہنے کے لیے ضروری ہے کہ محبت کے ساتھ احتیاط کو بھی اپنایا جائے۔
پالتو جانوروں کو بوسہ دینا کتنا خطرناک ہو سکتا ہے؟
رپورٹ : اقصی بلوچ
پالتو جانوروں سے محبت کرنا، ان کی دیکھ بھال کرنا اور ان کے ساتھ نرمی سے پیش آنا ایک فطری بات ہے، لیکن ماہرین صحت خبردار کرتے ہیں کہ انہیں بوسہ دینا یا اپنا منہ ان کے قریب لے جانا صحت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق کتے اور بلیاں اپنے منہ میں ایسے جراثیم رکھتے ہیں جو انسانوں میں بیماری پھیلا سکتے ہیں۔ بعض لوگ اپنے پالتو جانوروں سے اتنی محبت کرتے ہیں کہ انہیں چومنا معمول بن جاتا ہے، مگر یہ عادت مختلف انفیکشنز کا سبب بن سکتی ہے۔

امریکی ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ اگر کسی شخص کے منہ میں زخم ہو یا اس کا مدافعتی نظام کمزور ہو تو پالتو جانوروں کو چومنے سے بیماری لگنے کا خطرہ مزید بڑھ جاتا ہے۔
سی این این کی ایک رپورٹ کے مطابق ماہرین نے بتایا ہے کہ جانوروں کے منہ میں موجود بیکٹیریا بعض اوقات انسانوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں، جو سنگین انفیکشن کا باعث بھی بن سکتے ہیں۔
ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ پالتو جانوروں کے ساتھ وقت گزاریں، انہیں پیار کریں، گود میں اٹھائیں، لیکن منہ سے چومنے یا بہت زیادہ قربت سے پرہیز کریں۔
صحت مند رہنے کے لیے ضروری ہے کہ محبت کے ساتھ احتیاط کو بھی اپنایا جائے۔