ہر نمک صحت کے لیے فائدہ مند نہیں، ماہرین نے بتایا کون سا نمک بہتر ہے
روزانہ کے کھانوں میں استعمال ہونے والا نمک صرف ذائقہ بڑھانے کے لیے نہیں بلکہ صحت پر بھی اثر ڈالتا ہے، لیکن تمام نمک یکساں نہیں ہوتے۔ ماہرین کے مطابق مختلف نمکوں کے فوائد اور نقصانات مختلف ہوتے ہیں، اس لیے درست انتخاب بہت ضروری ہے۔ ٹیبل نمک: عام ٹیبل نمک سب سے زیادہ پروسیس شدہ ہوتا ہے۔ اس میں آیوڈین شامل ہوتی ہے جو تھائرائیڈ کے لیے ضروری ہے، لیکن اس میں قدرتی معدنیات کم ہوتی ہیں اور بعض کیمیائی اجزا بھی شامل ہو سکتے ہیں۔ ہمالیائی گلابی نمک: یہ نمک قدرتی معدنیات جیسے کیلشیم، میگنیشیم اور پوٹاشیم پر مشتمل ہوتا ہے اور ذائقے میں بھی بہتر سمجھا جاتا ہے۔ لیکن اس میں آیوڈین موجود نہیں ہوتی، اس لیے اسے واحد نمک کے طور پر استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ کالا نمک: ہاضمے کے لیے مفید سمجھا جاتا ہے اور چٹپٹے کھانوں میں ذائقہ بڑھاتا ہے، تاہم اس کی خوشبو اور ذائقے کی وجہ سے اسے محدود مقدار میں استعمال کرنا بہتر ہے۔ سمندری نمک: قدرتی معدنیات برقرار رکھتا ہے، لیکن بعض غیر معیاری اقسام میں مائیکرو پلاسٹک کے ذرات بھی شامل ہو سکتے ہیں۔ ماہرین معیاری اور مستند برانڈز کے نمک استعمال کرنے کی تاکید کرتے ہیں۔ نمک کے استعمال کا اصول: ماہرین صحت کہتے ہیں کہ روزانہ نمک کی مقدار 5 گرام سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے۔ زیادہ نمک کا استعمال ہائی بلڈ پریشر اور دل کے امراض کے خطرے کو بڑھا سکتا ہے۔ مختصر یہ کہ صحت مند طرزِ زندگی کے لیے نمک کا محتاط اور متوازن استعمال ضروری ہے، اور ہر قسم کے نمک کے فوائد اور نقصانات کو جان کر انتخاب کرنا چاہیے۔
ہر نمک صحت کے لیے فائدہ مند نہیں، ماہرین نے بتایا کون سا نمک بہتر ہے
رپورٹ : اقصی بلوچ
روزانہ کے کھانوں میں استعمال ہونے والا نمک صرف ذائقہ بڑھانے کے لیے نہیں بلکہ صحت پر بھی اثر ڈالتا ہے، لیکن تمام نمک یکساں نہیں ہوتے۔ ماہرین کے مطابق مختلف نمکوں کے فوائد اور نقصانات مختلف ہوتے ہیں، اس لیے درست انتخاب بہت ضروری ہے۔

ٹیبل نمک: عام ٹیبل نمک سب سے زیادہ پروسیس شدہ ہوتا ہے۔ اس میں آیوڈین شامل ہوتی ہے جو تھائرائیڈ کے لیے ضروری ہے، لیکن اس میں قدرتی معدنیات کم ہوتی ہیں اور بعض کیمیائی اجزا بھی شامل ہو سکتے ہیں۔
ہمالیائی گلابی نمک: یہ نمک قدرتی معدنیات جیسے کیلشیم، میگنیشیم اور پوٹاشیم پر مشتمل ہوتا ہے اور ذائقے میں بھی بہتر سمجھا جاتا ہے۔ لیکن اس میں آیوڈین موجود نہیں ہوتی، اس لیے اسے واحد نمک کے طور پر استعمال نہیں کرنا چاہیے۔
کالا نمک: ہاضمے کے لیے مفید سمجھا جاتا ہے اور چٹپٹے کھانوں میں ذائقہ بڑھاتا ہے، تاہم اس کی خوشبو اور ذائقے کی وجہ سے اسے محدود مقدار میں استعمال کرنا بہتر ہے۔
سمندری نمک: قدرتی معدنیات برقرار رکھتا ہے، لیکن بعض غیر معیاری اقسام میں مائیکرو پلاسٹک کے ذرات بھی شامل ہو سکتے ہیں۔ ماہرین معیاری اور مستند برانڈز کے نمک استعمال کرنے کی تاکید کرتے ہیں۔

نمک کے استعمال کا اصول: ماہرین صحت کہتے ہیں کہ روزانہ نمک کی مقدار 5 گرام سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے۔ زیادہ نمک کا استعمال ہائی بلڈ پریشر اور دل کے امراض کے خطرے کو بڑھا سکتا ہے۔
مختصر یہ کہ صحت مند طرزِ زندگی کے لیے نمک کا محتاط اور متوازن استعمال ضروری ہے، اور ہر قسم کے نمک کے فوائد اور نقصانات کو جان کر انتخاب کرنا چاہیے۔