جنرل محمد موسیٰ پوسٹ گریجویٹ کالج میں پروفیسر علی بابا تاج کی یاد میں تعزیتی ریفرنس، اہلِ خانہ، دوستوں اور تعلیمی شخصیات کی شرکت
کوئٹہ : جنرل محمد موسیٰ پوسٹ گریجویٹ کالج میں آج معروف شاعر، استاد اور علم و ادب کی ممتاز شخصیت پروفیسر علی بابا تاج مرحوم کی یاد میں تعزیتی ریفرنس منعقد ہوا، جس میں مرحوم کے لیے فاتحہ خوانی بھی کی گئی۔ تقریب میں کالج کے پرنسپل، اساتذہ، طلبہ کے علاوہ تاج صاحب کی فیملی، دوستوں، ڈائریکٹر کالجز، بپلا کے صدر اور موسیٰ کالج کے سابق پرنسپلز نے شرکت کی۔ پروگرام کا آغاز کالج کے طالب علم قاری افتخار نے تلاوتِ کلامِ پاک اور فاتحہ سے کیا۔ تقریب کی نظامت کالج کے اسٹاف سیکرٹری پروفیسر یاسین نے کی۔ پہلے مقرر تاج صاحب کے دیرینہ دوست، شاعر اور ناول نگار مصطفیٰ شاہد تھے، جنہوں نے مرحوم کے ساتھ گزاری ہوئی یادوں، ان کے فنِ شعر و موسیقی سے لگاؤ اور مرزا بیدل کی شاعری سے ان کی خاص محبت کا ذکر کیا۔ فدا ہزارہ نے تعزیتی ریفرنس میں تجویز پیش کی کہ موسیٰ کالج کی لائبریری کو مرحوم پروفیسر علی بابا تاج کے نام سے منسوب کیا جائے، تاکہ ان کی علمی خدمات کو مستقل طور پر خراجِ عقیدت پیش کیا جا سکے۔ تقریب کے آخر میں فارسی کے پروفیسر اکبر ساسولی نے علی بابا تاج کے لیے اپنی لکھی ہوئی ایک نثری نظم پڑھ کر مرحوم کو ادبی انداز میں خراجِ تحسین پیش کیا۔
جنرل محمد موسیٰ پوسٹ گریجویٹ کالج میں پروفیسر علی بابا تاج کی یاد میں تعزیتی ریفرنس، اہلِ خانہ، دوستوں اور تعلیمی شخصیات کی شرکت
کوئٹہ : جنرل محمد موسیٰ پوسٹ گریجویٹ کالج میں آج معروف شاعر، استاد اور علم و ادب کی ممتاز شخصیت پروفیسر علی بابا تاج مرحوم کی یاد میں تعزیتی ریفرنس منعقد ہوا، جس میں مرحوم کے لیے فاتحہ خوانی بھی کی گئی۔
تقریب میں کالج کے پرنسپل، اساتذہ، طلبہ کے علاوہ تاج صاحب کی فیملی، دوستوں، ڈائریکٹر کالجز، بپلا کے صدر اور موسیٰ کالج کے سابق پرنسپلز نے شرکت کی۔
پروگرام کا آغاز کالج کے طالب علم قاری افتخار نے تلاوتِ کلامِ پاک اور فاتحہ سے کیا۔ تقریب کی نظامت کالج کے اسٹاف سیکرٹری پروفیسر یاسین نے کی۔
پہلے مقرر تاج صاحب کے دیرینہ دوست، شاعر اور ناول نگار مصطفیٰ شاہد تھے، جنہوں نے مرحوم کے ساتھ گزاری ہوئی یادوں، ان کے فنِ شعر و موسیقی سے لگاؤ اور مرزا بیدل کی شاعری سے ان کی خاص محبت کا ذکر کیا۔ فدا ہزارہ نے تعزیتی ریفرنس میں تجویز پیش کی کہ موسیٰ کالج کی لائبریری کو مرحوم پروفیسر علی بابا تاج کے نام سے منسوب کیا جائے، تاکہ ان کی علمی خدمات کو مستقل طور پر خراجِ عقیدت پیش کیا جا سکے۔
تقریب کے آخر میں فارسی کے پروفیسر اکبر ساسولی نے علی بابا تاج کے لیے اپنی لکھی ہوئی ایک نثری نظم پڑھ کر مرحوم کو ادبی انداز میں خراجِ تحسین پیش کیا۔