بلوچستان کے مختلف علاقوں میں دانش سکول کو توسیع کرنے کا منصوبہ
بلوچستان کے مختلف علاقوں میں دانش سکول کو توسیع کرنے کا منصوبہ: رپورٹر : عروبہ شہزاد دانش سکولز کے دائرہ کار کو بڑا کرنے کے لیے بلوچستان اور آذاد جموں کشمیر کے علاقوں تک وسعت دی جا رہی ہے۔کچھ ماہ پہلے اس منصوبہ کے تحت بلوچستان کے باقی اضلاع میں چھے نئے کیمپسز کی منظوری دی گئی ہے۔ یہ کیمپسز قلعہ سیف اللہ، سبی، ڈیرہ بگٹی، موسیٰ خیل اور ژوب جیسے اضلاع میں قائم کیے جائیں گے، جبکہ ایک کیمپس تربت میں بھی بنایا جائے گا۔جس کی کل لاگت 19.25 بلین ہے۔ ان تعلیمی اداروں کا مقصد پسماندہ اور کم وسائل رکھنے والے بچوں کو مفت، معیاری اور رہائشی تعلیم فراہم کرنا ہے۔ منصوبے کی مالی معاونت وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے مشترکہ اشتراک سے کی جائے گی، جبکہ تربت میں قائم ہونے والا دانش اسکول آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل) کے تعاون سے بنایا جائے گا۔تعلیمی ماہرین کے مطابق یہ اقدام پنجاب میں کامیابی سے چلنے والے دانش اسکول ماڈل کو بلوچستان میں متعارف کرانے کی جانب ایک اہم قدم ہے، جس سے صوبے میں تعلیمی سہولیات میں بہتری اور محروم طبقات کو معیاری تعلیم تک رسائی ممکن ہو سکے گی۔ دانش اسکول مفت اور اعلیٰ معیار کی تعلیم فراہم کرنے والا پاکستان کا سب سے بڑا تعلیمی منصوبہ سمجھا جاتا ہے، جس کا بنیادی مقصد ملک میں تعلیم کے فروغ کو یقینی بنانا ہے۔ اس منصوبے کے تحت طلبا و طالبات کو نہ صرف معیاری تعلیمی ماحول فراہم کیا جاتا ہے بلکہ انہیں مفت انٹرنیٹ، جدید کمپیوٹر لیبز، کھیلوں کی سہولیات، کردار سازی اور شخصیت سازی کے پروگرامز، رہائشی ہوسٹلز، صحت کی سہولیات، درسی کتابیں، یونیفارم، آئی ٹی سہولیات اور جدید سائنسی لیبارٹریز بھی مہیا کی جاتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ بلوچستان کے طلبا و طالبات کو نہ صرف بہتر اور معیاری تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملے گا بلکہ انہیں ایک محفوظ، منظم اور جدید تعلیمی ماحول میسر آئے گا، جو ان کی گرومنگ ،ذہنی، جسمانی اور اخلاقی تربیت میں اہم کردار ادا کرے گا۔ یہ منصوبہ صوبے کے پسماندہ علاقوں کے بچوں کو بااختیار بنانے، تعلیم کی ناہمواری کو کم کرنے اور انہیں روشن مستقبل کی جانب گامزن کرنے میں سنگِ میل ثابت ہوگا۔
بلوچستان کے مختلف علاقوں میں دانش سکول کو توسیع کرنے کا منصوبہ:
رپورٹر : عروبہ شہزاد
دانش سکولز کے دائرہ کار کو بڑا کرنے کے لیے بلوچستان اور آذاد جموں کشمیر کے علاقوں تک وسعت دی جا رہی ہے۔کچھ ماہ پہلے اس منصوبہ کے تحت بلوچستان کے باقی اضلاع میں چھے نئے کیمپسز کی منظوری دی گئی ہے۔ یہ کیمپسز قلعہ سیف اللہ، سبی، ڈیرہ بگٹی، موسیٰ خیل اور ژوب جیسے اضلاع میں قائم کیے جائیں گے، جبکہ ایک کیمپس تربت میں بھی بنایا جائے گا۔جس کی کل لاگت 19.25 بلین ہے۔ ان تعلیمی اداروں کا مقصد پسماندہ اور کم وسائل رکھنے والے بچوں کو مفت، معیاری اور رہائشی تعلیم فراہم کرنا ہے۔

منصوبے کی مالی معاونت وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے مشترکہ اشتراک سے کی جائے گی، جبکہ تربت میں قائم ہونے والا دانش اسکول آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل) کے تعاون سے بنایا جائے گا۔تعلیمی ماہرین کے مطابق یہ اقدام پنجاب میں کامیابی سے چلنے والے دانش اسکول ماڈل کو بلوچستان میں متعارف کرانے کی جانب ایک اہم قدم ہے، جس سے صوبے میں تعلیمی سہولیات میں بہتری اور محروم طبقات کو معیاری تعلیم تک رسائی ممکن ہو سکے گی۔
دانش اسکول مفت اور اعلیٰ معیار کی تعلیم فراہم کرنے والا پاکستان کا سب سے بڑا تعلیمی منصوبہ سمجھا جاتا ہے، جس کا بنیادی مقصد ملک میں تعلیم کے فروغ کو یقینی بنانا ہے۔ اس منصوبے کے تحت طلبا و طالبات کو نہ صرف معیاری تعلیمی ماحول فراہم کیا جاتا ہے بلکہ انہیں مفت انٹرنیٹ، جدید کمپیوٹر لیبز، کھیلوں کی سہولیات، کردار سازی اور شخصیت سازی کے پروگرامز، رہائشی ہوسٹلز، صحت کی سہولیات، درسی کتابیں، یونیفارم، آئی ٹی سہولیات اور جدید سائنسی لیبارٹریز بھی مہیا کی جاتی ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ بلوچستان کے طلبا و طالبات کو نہ صرف بہتر اور معیاری تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملے گا بلکہ انہیں ایک محفوظ، منظم اور جدید تعلیمی ماحول میسر آئے گا، جو ان کی گرومنگ ،ذہنی، جسمانی اور اخلاقی تربیت میں اہم کردار ادا کرے گا۔ یہ منصوبہ صوبے کے پسماندہ علاقوں کے بچوں کو بااختیار بنانے، تعلیم کی ناہمواری کو کم کرنے اور انہیں روشن مستقبل کی جانب گامزن کرنے میں سنگِ میل ثابت ہوگا۔