مٹی میں کھیلنا بچوں کے مدافعتی نظام (Immunity) کے لیے بہترین ہے
حالیہ طبی تحقیقات نے یہ حیران کن انکشاف کیا ہے کہ جو بچے مٹی، مٹیالے میدانوں اور فطرت کے قریب کھیلتے ہیں، وہ ان بچوں کے مقابلے میں زیادہ صحت مند ہوتے ہیں جو ہر وقت جراثیم سے پاک (Sanitized) ماحول میں بند رہتے ہیں۔ اس خبر کے اہم اور معلوماتی پہلو: مضبوط مدافعتی نظام: مٹی میں موجود قدرتی اور بے ضرر جراثیم جب بچے کے جسم کے رابطے میں آتے ہیں، تو اس کا مدافعت کا نظام (Immune System) تربیت یافتہ ہوتا ہے۔ یہ نظام مستقبل میں الرجی، دمہ (Asthma) اور پیٹ کی بیماریوں کے خلاف لڑنے کے قابل بن جاتا ہے۔ ذہنی تناؤ میں کمی: ماہرین کے مطابق مٹی میں ایک خاص قسم کا بیکٹیریا (Mycobacterium vaccae) پایا جاتا ہے جو انسانی دماغ میں 'سیروٹونن' (خوشی کا ہارمون) پیدا کرتا ہے، جس سے بچوں کا موڈ خوشگوار رہتا ہے اور ان کی بے چینی کم ہوتی ہے۔ سیکھنے کی صلاحیت: فطرت کے قریب کھیلنے سے بچوں کے مشاہدے کی طاقت بڑھتی ہے۔ کیڑے مکوڑے، پودے اور مٹی کی مختلف ساختیں ان کے تجسس کو ابھارتی ہیں۔ والدین کے لیے پیغام: والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کو بالکل صاف ستھرا رکھنے کی دھن میں انہیں باہر کی دنیا سے دور نہ کریں۔ ہفتے میں چند بار انہیں پارک یا کسی ایسی جگہ ضرور لے جائیں جہاں وہ مٹی اور گھاس سے کھیل سکیں۔ ایک اور مختصر مگر اہم خبر: "بچوں کی نیند اور قد کا تعلق" جدید تحقیق کے مطابق بچوں کے قد بڑھنے والے ہارمونز (Growth Hormones) سب سے زیادہ اس وقت خارج ہوتے ہیں جب بچہ رات کی گہری نیند میں ہوتا ہے۔ اگر بچہ رات دیر تک جاگتا ہے، تو اس کی جسمانی نشوونما متاثر ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
مٹی میں کھیلنا بچوں کے مدافعتی نظام (Immunity) کے لیے بہترین ہے
رپورٹ: ماہ رنگ بلوچ
حالیہ طبی تحقیقات نے یہ حیران کن انکشاف کیا ہے کہ جو بچے مٹی، مٹیالے میدانوں اور فطرت کے قریب کھیلتے ہیں، وہ ان بچوں کے مقابلے میں زیادہ صحت مند ہوتے ہیں جو ہر وقت جراثیم سے پاک (Sanitized) ماحول میں بند رہتے ہیں۔
اس خبر کے اہم اور معلوماتی پہلو:
مضبوط مدافعتی نظام: مٹی میں موجود قدرتی اور بے ضرر جراثیم جب بچے کے جسم کے رابطے میں آتے ہیں، تو اس کا مدافعت کا نظام (Immune System) تربیت یافتہ ہوتا ہے۔ یہ نظام مستقبل میں الرجی، دمہ (Asthma) اور پیٹ کی بیماریوں کے خلاف لڑنے کے قابل بن جاتا ہے۔

ذہنی تناؤ میں کمی: ماہرین کے مطابق مٹی میں ایک خاص قسم کا بیکٹیریا (Mycobacterium vaccae) پایا جاتا ہے جو انسانی دماغ میں 'سیروٹونن' (خوشی کا ہارمون) پیدا کرتا ہے، جس سے بچوں کا موڈ خوشگوار رہتا ہے اور ان کی بے چینی کم ہوتی ہے۔
سیکھنے کی صلاحیت: فطرت کے قریب کھیلنے سے بچوں کے مشاہدے کی طاقت بڑھتی ہے۔ کیڑے مکوڑے، پودے اور مٹی کی مختلف ساختیں ان کے تجسس کو ابھارتی ہیں۔

والدین کے لیے پیغام:
والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کو بالکل صاف ستھرا رکھنے کی دھن میں انہیں باہر کی دنیا سے دور نہ کریں۔ ہفتے میں چند بار انہیں پارک یا کسی ایسی جگہ ضرور لے جائیں جہاں وہ مٹی اور گھاس سے کھیل سکیں۔
ایک اور مختصر مگر اہم خبر:
"بچوں کی نیند اور قد کا تعلق" جدید تحقیق کے مطابق بچوں کے قد بڑھنے والے ہارمونز (Growth Hormones) سب سے زیادہ اس وقت خارج ہوتے ہیں جب بچہ رات کی گہری نیند میں ہوتا ہے۔ اگر بچہ رات دیر تک جاگتا ہے، تو اس کی جسمانی نشوونما متاثر ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔