ڈاکٹرز بیماری میں چاول اور بڑا گوشت کیوں منع کرتے ہیں؟ اصل وجہ جانیں
بیماری کے دوران اکثر ڈاکٹرز چاول اور بڑے گوشت کھانے سے منع کرتے ہیں، اور اس کی وجوہات صرف گھریلو ٹوٹکے نہیں بلکہ سائنسی اور میڈیکل بنیادوں پر ہوتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق بیماری میں جسم کمزور ہو جاتا ہے، ہاضمہ سست پڑ جاتا ہے اور جسم کو ایسی غذاؤں کی ضرورت ہوتی ہے جو آسانی سے ہضم ہوں اور جسم پر بوجھ نہ ڈالیں۔ چاول کیوں منع کیے جاتے ہیں؟ ماہرین کا کہنا ہے کہ چاول اگرچہ جلد ہضم ہو جاتے ہیں، مگر ان میں فائبر کی کمی ہوتی ہے، جس کے باعث خون میں شوگر تیزی سے بڑھ سکتی ہے۔ خاص طور پر شوگر کے مریض یا کمزوری کے شکار افراد کے لیے یہ مسئلہ پیدا کر سکتی ہے۔ اس کے علاوہ چاول جسم میں نمی بڑھاتے ہیں۔ اسی لیے بخار، نزلہ، کھانسی یا انفیکشن کے دوران اکثر ڈاکٹر چاول نہ کھانے کا مشورہ دیتے ہیں، کیونکہ یہ علامات کو بڑھا سکتے ہیں۔ کچھ ماہرین کے مطابق چاول وزن بڑھانے یا جسم کو سست بنانے کا باعث بھی بنتے ہیں، جو بیماری میں مناسب نہیں ہوتا۔ بڑے گوشت (بیف) سے پرہیز کیوں؟ ڈاکٹرز کے مطابق بڑا گوشت ہضم ہونے میں زیادہ وقت لیتا ہے اور کمزور جسم پر اضافی بوجھ ڈال دیتا ہے۔ بیف میں چکنائی کی مقدار بھی زیادہ ہوتی ہے، جو خون میں کولیسٹرول بڑھا سکتی ہے اور دل کے لیے دباؤ کا باعث بنتی ہے۔ چونکہ بیمار جسم پہلے ہی انفیکشن اور سوزش سے لڑ رہا ہوتا ہے، اس لیے بھاری اور دیر سے ہضم ہونے والی غذا مزید سوزش پیدا کر سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بخار، جوڑوں کے درد، تھکن یا کسی بھی انفیکشن میں بیف سے دور رہنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ حتمی بات چاول اور بیف نقصان دہ غذا نہیں ہیں، لیکن بیماری کے دوران جسم کی حالت کے مطابق ان سے پرہیز بہتر ثابت ہوتا ہے۔ جیسے ہی صحت بہتر ہو، ڈاکٹر کے مشورے سے انہیں آہستہ آہستہ دوبارہ غذا میں شامل کیا جا سکتا ہے۔
ڈاکٹرز بیماری میں چاول اور بڑا گوشت کیوں منع کرتے ہیں؟ اصل وجہ جانیں
رپورٹ : اقصی بلوچ
بیماری کے دوران اکثر ڈاکٹرز چاول اور بڑے گوشت کھانے سے منع کرتے ہیں، اور اس کی وجوہات صرف گھریلو ٹوٹکے نہیں بلکہ سائنسی اور میڈیکل بنیادوں پر ہوتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق بیماری میں جسم کمزور ہو جاتا ہے، ہاضمہ سست پڑ جاتا ہے اور جسم کو ایسی غذاؤں کی ضرورت ہوتی ہے جو آسانی سے ہضم ہوں اور جسم پر بوجھ نہ ڈالیں۔
چاول کیوں منع کیے جاتے ہیں؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ چاول اگرچہ جلد ہضم ہو جاتے ہیں، مگر ان میں فائبر کی کمی ہوتی ہے، جس کے باعث خون میں شوگر تیزی سے بڑھ سکتی ہے۔ خاص طور پر شوگر کے مریض یا کمزوری کے شکار افراد کے لیے یہ مسئلہ پیدا کر سکتی ہے۔
اس کے علاوہ چاول جسم میں نمی بڑھاتے ہیں۔ اسی لیے بخار، نزلہ، کھانسی یا انفیکشن کے دوران اکثر ڈاکٹر چاول نہ کھانے کا مشورہ دیتے ہیں، کیونکہ یہ علامات کو بڑھا سکتے ہیں۔ کچھ ماہرین کے مطابق چاول وزن بڑھانے یا جسم کو سست بنانے کا باعث بھی بنتے ہیں، جو بیماری میں مناسب نہیں ہوتا۔
بڑے گوشت (بیف) سے پرہیز کیوں؟
ڈاکٹرز کے مطابق بڑا گوشت ہضم ہونے میں زیادہ وقت لیتا ہے اور کمزور جسم پر اضافی بوجھ ڈال دیتا ہے۔ بیف میں چکنائی کی مقدار بھی زیادہ ہوتی ہے، جو خون میں کولیسٹرول بڑھا سکتی ہے اور دل کے لیے دباؤ کا باعث بنتی ہے۔
چونکہ بیمار جسم پہلے ہی انفیکشن اور سوزش سے لڑ رہا ہوتا ہے، اس لیے بھاری اور دیر سے ہضم ہونے والی غذا مزید سوزش پیدا کر سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بخار، جوڑوں کے درد، تھکن یا کسی بھی انفیکشن میں بیف سے دور رہنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔
حتمی بات
چاول اور بیف نقصان دہ غذا نہیں ہیں، لیکن بیماری کے دوران جسم کی حالت کے مطابق ان سے پرہیز بہتر ثابت ہوتا ہے۔ جیسے ہی صحت بہتر ہو، ڈاکٹر کے مشورے سے انہیں آہستہ آہستہ دوبارہ غذا میں شامل کیا جا سکتا ہے۔
