خاران : نصیر کبدانی لبزانکی دیوان کے زیر اہتمام چار اہم کتابوں کی تقریبِ رونمائی گورنمنٹ بوائز ڈگری کالج خاران کے ہال میں منعقد ہوئی۔ رونمائی کی گئی کتابوں میں تین بلوچی زبان جبکہ ایک کتاب اردو زبان میں تحریر کی گئی ہے۔
تقریب میں خاران کی پہلی خاتون مصنفہ سمیرہ بلوچ کی کتاب "بندہ واب خدا آگاہ"بھی شامل تھی، جس پر معروف قلمکار مسرور شاد نے جامع ادبی و تنقیدی جائزہ پیش کیا۔ دوسری کتاب جلال فراق کا افسانوی مجموعہ "سیدھا موڑ" تھا، جس پر سفر خان راسکوئی اور شازیہ لکی نے تفصیلی ادبی و تنقیدی گفتگو کی۔
تیسری کتاب زبیر شاد کی بلوچی تصنیف "سینگ ھلکے آبادیں" تھی، جس پر احمد مہر نے مدلل اور جامع تبصرہ پیش کیا، جبکہ چوتھی کتاب نورالحق شاہ کی "بام سنج شامل" تھی، جس پر شاہ جی شمیم نے اپنے خیالات اور تنقیدی آرا سے سامعین کو آگاہ کیا۔
تقریب کے مقررین نے کہا کہ نصیر کبدانی لبزانکی دیوان خاران کی جانب سے کتابوں کی رونمائی کے انعقاد کا بنیادی مقصد ادب، زبان اور مقامی تخلیقی سرگرمیوں کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی تقریبات نہ صرف خاران میں زبان و ادب کے فروغ کی خوبصورت مثال ہیں بلکہ مقامی تخلیق کاروں کی حوصلہ افزائی اور ادبی روایت کو آگے بڑھانے کی ایک مضبوط کوشش بھی ثابت ہوں گی۔
مغلیہ دور میں دہلی کے باسی اپنی زبان، طرزِ گفتار اور ثقافت میں دیگر شہروں سے منفرد تھے۔ نہ صرف ان کی نشست و برخاست خاص تھی بلکہ دہلی کے کھانے اور ذائقے بھی مشہور تھے۔ دہلی والے چٹخورے اور خوش خوراک کے لیے جانے جاتے تھے، اور شہر کی ہر گلی میں کھانے کی خوشبو پھیلتی تھی۔
وقت کے ساتھ ساتھ گھروں میں مصالحے پیسنے اور محفوظ رکھنے کا رواج کم ہوا، اور ملاوٹ عام ہونے لگی، جس کی وجہ سے دہلی کے ذائقے رفتہ رفتہ کمزور پڑ گئے۔ اس زمانے میں خواتین کے علاوہ شہر کے ماہر باورچی اور طبّاخ بھی خصوصی تقریبات کے لیے پکوان تیار کرتے تھے۔
دہلی والے کھانے میں سخاوت پسند کرتے تھے اور کنجوس افراد سے دور رہتے۔ مشہور کہاوت تھی کہ زیادہ کھانا بیماری کا سبب نہیں بلکہ صحت کے لیے ضروری ہے۔ اوسط درجے کے گھروں میں سالن اور دیگر پکوان خواتین خود تیار کرتی تھیں، جبکہ روٹی ڈالنے کے لیے عورت رکھی جاتی تھی۔ غریب گھروں میں بھی دال یا سبزی پر کھڑا گھی لگانا لازمی تھا۔
اس زمانے میں دہلی میں ہوٹل اور چائے خانوں کا رواج نہیں تھا۔ شام کے وقت چوکوں میں رونق بڑھ جاتی، جامع مسجد کے مشرقی رخ کی سیڑھیوں اور آس پاس کے علاقوں میں ہر قسم کا سودا دستیاب ہوتا۔ سستے اور آسان کھانے ایک پیسے میں مل جاتے۔ لوگ کام یا کارخانے سے واپس آ کر میلے کپڑے اتارتے، نہا دھو کر صاف کپڑے پہن کر بازار میں نکلتے اور گھر کے لیے خریداری کرتے۔
یوں دہلی کی کھانے پینے اور سماجی روایات اس شہر کی پہچان اور ثقافت کا حصہ تھیں، جو وقت کے ساتھ بدلیں لیکن آج بھی دلچسپی سے دیکھی جاتی ہیں۔
ادب کسی بھی معاشرے کی تہذیب، سوچ اور احساسات کا آئینہ ہوتا ہے۔ یہ انسان کے جذبات، تجربات اور زندگی کے مختلف پہلوؤں کو الفاظ کے ذریعے ایسا رنگ دیتا ہے جو دل پر دیر پا اثر چھوڑتا ہے۔ شاعری، کہانی، ناول یا ڈرامہ—ادب کے ہر روپ میں انسانیت، محبت، جدوجہد اور حقیقت کی جھلک ملتی ہے۔ ادب نہ صرف تفریح فراہم کرتا ہے بلکہ سوچ کو وسعت دیتا ہے، کردار سنوارتا ہے اور قاری کو اچھے برے کی پہچان سکھاتا ہے۔ ایک اچھا ادبی شاہکار وقت کی قید سے آزاد ہو کر نسلوں تک اپنی اثر انگیزی برقرار رکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ ادب کو قوموں کی اصل طاقت اور ثقافتی ورثہ کہا جاتا ہے۔