مغلیہ دہلی کے کھانے اور ثقافتی روایات کی جھلک

مغلیہ دہلی کے کھانے اور ثقافتی روایات کی جھلک

مغلیہ دور میں دہلی کے باسی اپنی زبان، طرزِ گفتار اور ثقافت میں دیگر شہروں سے منفرد تھے۔ نہ صرف ان کی نشست و برخاست خاص تھی بلکہ دہلی کے کھانے اور ذائقے بھی مشہور تھے۔ دہلی والے چٹخورے اور خوش خوراک کے لیے جانے جاتے تھے، اور شہر کی ہر گلی میں کھانے کی خوشبو پھیلتی تھی۔ وقت کے ساتھ ساتھ گھروں میں مصالحے پیسنے اور محفوظ رکھنے کا رواج کم ہوا، اور ملاوٹ عام ہونے لگی، جس کی وجہ سے دہلی کے ذائقے رفتہ رفتہ کمزور پڑ گئے۔ اس زمانے میں خواتین کے علاوہ شہر کے ماہر باورچی اور طبّاخ بھی خصوصی تقریبات کے لیے پکوان تیار کرتے تھے۔ دہلی والے کھانے میں سخاوت پسند کرتے تھے اور کنجوس افراد سے دور رہتے۔ مشہور کہاوت تھی کہ زیادہ کھانا بیماری کا سبب نہیں بلکہ صحت کے لیے ضروری ہے۔ اوسط درجے کے گھروں میں سالن اور دیگر پکوان خواتین خود تیار کرتی تھیں، جبکہ روٹی ڈالنے کے لیے عورت  رکھی جاتی تھی۔ غریب گھروں میں بھی دال یا سبزی پر کھڑا گھی لگانا لازمی تھا۔ اس زمانے میں دہلی میں ہوٹل اور چائے خانوں کا رواج نہیں تھا۔ شام کے وقت چوکوں میں رونق بڑھ جاتی، جامع مسجد کے مشرقی رخ کی سیڑھیوں اور آس پاس کے علاقوں میں ہر قسم کا سودا دستیاب ہوتا۔ سستے اور آسان کھانے ایک پیسے میں مل جاتے۔ لوگ کام یا کارخانے سے واپس آ کر میلے کپڑے اتارتے، نہا دھو کر صاف کپڑے پہن کر بازار میں نکلتے اور گھر کے لیے خریداری کرتے۔ یوں دہلی کی کھانے پینے اور سماجی روایات اس شہر کی پہچان اور ثقافت کا حصہ تھیں، جو وقت کے ساتھ بدلیں لیکن آج بھی دلچسپی سے دیکھی جاتی ہیں۔

مغلیہ دہلی کے کھانے اور ثقافتی روایات کی جھلک

اقصی بلوچ 
07 دسمبر 2025

مغلیہ دور میں دہلی کے باسی اپنی زبان، طرزِ گفتار اور ثقافت میں دیگر شہروں سے منفرد تھے۔ نہ صرف ان کی نشست و برخاست خاص تھی بلکہ دہلی کے کھانے اور ذائقے بھی مشہور تھے۔ دہلی والے چٹخورے اور خوش خوراک کے لیے جانے جاتے تھے، اور شہر کی ہر گلی میں کھانے کی خوشبو پھیلتی تھی۔
وقت کے ساتھ ساتھ گھروں میں مصالحے پیسنے اور محفوظ رکھنے کا رواج کم ہوا، اور ملاوٹ عام ہونے لگی، جس کی وجہ سے دہلی کے ذائقے رفتہ رفتہ کمزور پڑ گئے۔ اس زمانے میں خواتین کے علاوہ شہر کے ماہر باورچی اور طبّاخ بھی خصوصی تقریبات کے لیے پکوان تیار کرتے تھے۔
دہلی والے کھانے میں سخاوت پسند کرتے تھے اور کنجوس افراد سے دور رہتے۔ مشہور کہاوت تھی کہ زیادہ کھانا بیماری کا سبب نہیں بلکہ صحت کے لیے ضروری ہے۔ اوسط درجے کے گھروں میں سالن اور دیگر پکوان خواتین خود تیار کرتی تھیں، جبکہ روٹی ڈالنے کے لیے عورت  رکھی جاتی تھی۔ غریب گھروں میں بھی دال یا سبزی پر کھڑا گھی لگانا لازمی تھا۔
اس زمانے میں دہلی میں ہوٹل اور چائے خانوں کا رواج نہیں تھا۔ شام کے وقت چوکوں میں رونق بڑھ جاتی، جامع مسجد کے مشرقی رخ کی سیڑھیوں اور آس پاس کے علاقوں میں ہر قسم کا سودا دستیاب ہوتا۔ سستے اور آسان کھانے ایک پیسے میں مل جاتے۔ لوگ کام یا کارخانے سے واپس آ کر میلے کپڑے اتارتے، نہا دھو کر صاف کپڑے پہن کر بازار میں نکلتے اور گھر کے لیے خریداری کرتے۔
یوں دہلی کی کھانے پینے اور سماجی روایات اس شہر کی پہچان اور ثقافت کا حصہ تھیں، جو وقت کے ساتھ بدلیں لیکن آج بھی دلچسپی سے دیکھی جاتی ہیں۔

 


Related News

زبان و ادب کی خدمت، خاران میں چار تصانیف کی بیک وقت رونمائی
زبان و ادب کی خدمت، خاران میں چار تصانیف کی بیک وقت رونمائی
خاران :  نصیر کبدانی لبزانکی دیوان کے زیر اہتمام چار اہم کتابوں کی تقریبِ رونمائی گورنمنٹ بوائز ڈگری کالج خارا...
ادب
ادب
ادب کسی بھی معاشرے کی تہذیب، سوچ اور احساسات کا آئینہ ہوتا ہے۔ یہ انسان کے جذبات، تجربات اور زندگی کے مختلف پہ...