بلوچستان میں نیا قومی تعلیمی نصاب 2026 سے نافذ کرنے کا فیصلہ
حکومتِ بلوچستان نے صوبے بھر میں قومی تعلیمی نصاب 2022 کو سال 2026 سے نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ گریڈ 1 سے 9 تک کی درسی کتابوں کو جدید تقاضوں کے مطابق اپ گریڈ کیا گیا ہے، جن میں کلائمٹ چینج، ماحولیات، صحت اور سوشل میڈیا آگاہی جیسے موضوعات شامل ہیں۔ نئی کتابوں کی طباعت اور بہتر معیار کے ساتھ بروقت فراہمی کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں، جبکہ آئندہ مرحلے میں آرٹیفشل انٹیلیجنس کو بھی نصاب کا حصہ بنانے پر غور کیا جا رہا ہے۔
بلوچستان میں نیا قومی تعلیمی نصاب نافذ کرنے کا فیصلہ
رپورٹ: عروبہ شہزاد
حکومتِ بلوچستان اور بلوچستان ٹیکسٹ بک بورڈ نے قومی تعلیمی نصاب 2022 کو صوبے بھر میں سال 2026 سے نافذ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس فیصلے کے تحت گریڈ 1 سے گریڈ 9 تک کی تمام درسی کتابوں کو نئے اور جدید نصاب کے مطابق اپ گریڈ کر دیا گیا ہے، تاکہ طلبہ کو ہم عصر تقاضوں کے مطابق تعلیم فراہم کی جا سکے۔
نئے نصاب میں کلائمٹ چینج، ماحولیات، صحت، واقفیتِ عامہ اور سوشل میڈیا کے مثبت و منفی اثرات سے متعلق آگاہی کو خصوصی طور پر شامل کیا گیا ہے، جس کا مقصد طلبہ میں شعور، ذمہ داری اور مثبت سوچ کو فروغ دینا ہے۔چیئرمین بلوچستان ٹیکسٹ بک بورڈ کے مطابق یہ نصاب جدید تعلیمی تقاضوں اور جامع تحقیق کی بنیاد پر تیار کیا گیا ہے تاکہ طلبہ و طالبات کی بہتر ذہن سازی ہو اور ان کی فکری صلاحیتوں میں مثبت اضافہ ممکن بنایا جا سکے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ نئی درسی کتابوں کی طباعت کا عمل تیزی سے جاری ہے تاکہ مارچ 2026 تک صوبے کے تمام اضلاع میں کتابوں کی بروقت فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔
ایڈیشنل ڈائریکٹر آف بکس ڈسٹری بیوشن فاطمہ منور کا کہنا ہے کہ ماضی کی کتابوں کے مقابلے میں نئی کتابوں میں پرنٹنگ کے معیار اور بائنڈنگ میں نمایاں بہتری لائی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک آن لائن پورٹل بھی متعارف کروایا گیا ہے، جہاں والدین، اساتذہ اور طلبہ اپنی آراء اور تجاویز دے سکتے ہیں۔ انہوں نے اس اقدام پر حکومتِ بلوچستان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے تعلیمی اصلاحات کو سنجیدگی سے لیا ہے۔بلوچستان ٹیکسٹ بک بورڈ کے مطابق آئندہ مرحلے میں آرٹیفشل انٹیلیجنس (AI) کو بھی نصاب کا حصہ بنانے پر غور کیا جا رہا ہے، تاکہ صوبے کے طلبہ کو جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ تعلیم فراہم کی جا سکے۔