درمیان کی دیواریں : نسلوں کا فیصلہ اور فہم کا بحران

درمیان کی دیواریں : نسلوں کا فیصلہ اور فہم کا بحران

جنریشن  گیپ درحقیقت نسلوں کی رائے میں فرق ہے۔ آج کے دور میں نئی اور پرانی نسل کے درمیان سوچ، رویے،اقدار اور  نظریات میں بہت فرق پایا جاتا ہے۔ ہر نسل کے سوچنے کا انداز ضروریات اور طریقے، ترجیحات، زبان، لباس، ٹیکنالوجی کا استعمال اور دنیا کو دیکھنے کا نظریہ بدلتا جا رہاہے. اس  تبدیلی کی وجہ سے نئی اور پرانی نسل کے درمیان سوچ کا فرق پیدا ہوتا ہے۔   اس سوچ کے فرق کو جنریشن گیپ یا  نسلی خلیج کہا جاتا ہے۔ یہ خلیج اکثر والدین اور بچوں کے درمیان غلط فہمیاں،  اختلافات، تلخیاں اور فاصلہ پیدا کرتی ہیں۔ درحقیقت اسی کو جنریشن گیپ کہا جاتا ہے۔   20 بیسویں صدی کے بعد ماہرین سماجات نے دنیا میں ہونے والی بڑی تبدیلیوں  مثلا جنگیں، صنعتی انقلاب، ٹیکنالوجی ، میڈیا اور بدلتی ہوئی تہذیبوں کو محسسوس کیا کے یہ انسان کی سوچ پر  گہرا اثر ڈالتی ہیں۔ ان بدلتےذہنی مزاجوں کو سمجھنے کے لیے 1960 کی دہائی میں انسان کی نسلوں کو جنریشنز  میں تقسیم کیا گیا۔   جنگ کے بعد کی نسل  بے بیی بومرز اپنے والدین کے عقائد سے ہٹنا شروع ہوئے، تو سماجی ماہرین نے مشاہدہ کیا کہ یہ نوجوان کھلے عام سوال کر رہیں ہیں۔ اور اپنے والدین کی بہت اقدار کے خلاف بغاوت کر رہے ہیں۔ جس کی وجہ سے نقطہ  نظر میں ایک بحث کا موضوع بن گیا ہے۔ نسلوں کی تاریخ،کرداروں اور طرز زندگی کو مدنظر رکھتے ہوئے ہر نسل کو ایک الگ شناخت اور نام دیا گیا ہے۔                Greatest Generation (1901–1927) جنریشن گریٹسٹ   یہ وہ نسل تھی جس نے پہلی اور دسری جنگِ عظیم کے مشکل ترین حالات دیکھے۔ اس دور کے لوگ قربانی، سادگی، محنت اور خدمتِ وطن کے جذبے سے بھرپور تھے۔ انہوں نے اپنے ممالک کی حفاظت، جنگ کے بعد معیشت کی بحالی اور دنیا میں امن قائم کرنے کے لیے بھرپور کردار ادا کیا۔ معاشی بدحالی، بھوک، جنگ اور تباہی کے باوجود اس نسل نے مضبوط اعصاب کا مظاہرہ کیا اور آنے والی نسلوں کے لیے بنیادیں رکھیں۔  Silent Generation (1928–1945) خاموش جنریشن  یا روایتی جنریشن   یہ نسل جنگِ عظیم کے فوراً بعد ایک خاموش اور سنجیدہ دور میں پلی بڑھی۔ جنگوں کے اثرات، خوف اور غیر یقینی حالات نے انہیں ذمہ دار، اصول پسند اور برداشت کرنے والا بنا دیا۔ انہوں نے معیشت کی بحالی، صنعتی ترقی، اخلاقی اقدار اور خاندانی نظام کو مضبوط رکھنے میں بڑا کردار ادا کیا۔ یہ نسل روایات کی پابند سمجھی جاتی ہے۔ Baby Boomers (1946–1964) بیبی بومرز جنریشن  جنگ کے بعد دنیا میں پیدا ہونے والی یہ نسل ساتھ رہنے، خاندان بنانے اور مستقبل بہتر کرنے کی علامت بنی۔ معاشی ترقی، سائنسی ایجادات، نئی ملازمتوں اور بہتر طرزِ زندگی کے دروازے اسی دور میں کھلے۔ بیبی بومرز نے صنعت، تعلیم، سیاست اور سوشل اسٹرکچر کو نئے دور میں داخل کیا اور محنت و یقین کی طاقت سےکامیابی حاصل کرنے کے راستے بنائے۔  Generation X (1965–1980)            جنریشن ایکس   X     اس نسل نے تیزی سے بدلتی دنیا، نئے معاشی نظام اور بڑھتے ہوئے مالی خرچوں کو سمجھتے ہوئے عملی اور ذمہ دار سوچ اپنائی۔ انہوں نے ٹیکنالوجی، کمپیوٹر اور معلوماتی نظام کی بنیاد مضبوط کی۔ یہ نسل نہایت خودمختار، فیصلہ ساز اور کام میں متوازن رکھنے کی قائل ہے۔ جنرل ایکس نے آگے آنے والی ڈیجیٹل دنیا کی تیاری کی۔                                                      Millennials / Gen Y (1981–1996)             میلینیئلز یا جنریشن وائے  Y   یہ پہلی نسل تھی جس نے انٹرنیٹ کے آغاز کے ساتھ آنکھ کھولی۔ اس نسل کو جنریشن میلینیئلز یا جنریشن وائے بھی کہا جاتا ہے۔ اس نسل نے آزادیِ رائے، خودمختاری، ٹیلنٹ اور ٹیکنالوجی کو اپنایا۔ موبائل فون، لیپ ٹاپ اور سوشل میڈیا کا ابتدائی دور اسی وقت سامنے آیا۔ ملینیئلز ذہین، اور نئی سوچ رکھنے والے لوگ ہیں جنہوں نے روایتی نظام کے بجائے ڈیجیٹل لائف اسٹائل متعارف کروایا۔  Generation Z (1997–2012) جنریشن زیڈ   Z    یہ جنریشن سوشل میڈیا اور اسمارٹ فون کی پیداوار ہے۔ اس نسل کی سوچ تیز رفتار، خود اعتمادی زیادہ اور برداشت نسبتا کم سمجھی جاتی ہے۔ یہ لوگ ٹرینڈز، انفلوئنسر کلچر، میڈیا اور فوری معلومات سے متاثر ہوتے ہیں۔ ڈیجیٹل اسکلز، آن لائن بزنس، ای–لرننگ اور سوشل ایکٹو ازم ان کی نمایاں پہچان ہے۔ Generation Alpha (2013–2024) جنریشن الفا جنریشن الفا وہ بچے ہیں جو جدید ٹیکنالوجی کے دور میں پیدا ہوئے ہیں۔ یہ وہ نسل ہے جو بولنا سیکھنے سے پہلے ہی موبائل، ٹیبلٹ اور سمارٹ ڈیوائسز استعمال کرتی نظر آتی ہے۔ یہ بچے بہت تیز سیکھنے والے ہیں اور ڈیجیٹل دنیا میں خود کو جلد ڈھال لیتے ہیں۔ لیکن اسی کے ساتھ ان میں باہر کھیلنے، بات چیت کرنے اور سماجی میل جول کی عادت کم ہوتی جا رہی ہے۔ ان کے لیے ضروری ہے کہ ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ اصل زندگی کے تجربات سے بھی سیکھے Generation Beta (2025–2039 ) جنریشن بیٹا  یہ آنے والی نسل ہے، جس کے بارے میں ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ مکمل AI، روبوٹکس، اسپیس ٹیکنالوجی اور خودکار نظام کے دور میں زندگی گزارے گی۔ ان کی دنیا میں میٹا ورس، آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور اسمارٹ مشینیں مرکزی کردار نبھائیں گی ہر نسل اپنے اپنے رجحانات طے کرتی ہے۔ اور اس کا اپنا ثقافتی اثر ہے۔ جار ج  آرویل نے کہا تھا کہ ہر نسل اپنے آپ کو ذہین سمجھتی ہے۔کہ اگلی نسل سے زیادہ عقلمند ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ جنریشن گپ میں سب سے بڑا کردار ٹیکنالوجی نے ادا کیا ہے۔ ٹیکنالوجی نے نسلوں کے درمیان پیدا ہونے والے فاصلے بڑھا دیے ۔    ٹیکنالوجی نے زندگی کے ہر شعبے کو اس قدر بدل دیا ہے کہ آج کی نوجوان نسل کا طرز فکر،  طرز گفتگو اور مسائل کو حل کرنے کا طریقہ پچھلی نسلوں سے بالکل مختلف ہو چکا ہے۔ نئی نسل انٹرنیٹ ،سمارٹ فون،سوشل میڈیا اور جدید الآت کے ذریعے لمحوں میں معلومات حاصل کر لیتی ہے۔ رفتار ٹیکنالوجی کی وجہ سے فورا سیکھنے،سمجھنے اور فیصلہ کرنے کی عادی  ہو گئی ہے ۔ جب کہ پرانی نسل  نے جس دور میں زندگی گزاری  وہاں رابطے، تعلیم اور معلومات حاصل کرنے کے ذرائع محدود تھے۔ پرانے لوگ روایات،سادگی اور اصولوں پر زیادہ عمل کو اہمیت دیتے تھے۔ اور انکے نزدیک تحمل و تجربہ اور مشاہدہ سیکھنے کے بنیادی ذرائع تھے۔ جبکہ نئی نسل نے خود کو ٹیکنالوجی کے ذریعے دنیا سے جوڑ رکھا ہے۔    اسی فرق نے سوچ،رویوں اور طرز زندگی میں واضح تبدیلیاں پیدا کی ہیں۔ جس کے نتیجے میں نظریات کا ٹکراؤ اور فاصلہ بڑھ ۔ درحقیقت نسلوں میں فرق صرف عمر کا نہیں بلکہ سوچ، زبان، تہذیب اور ٹیکنالوجی کے بدلنے کا بھی ہے۔میرے خیال سے اصل مسئلہ "بات چیت" کی کمی ہے، جب والدین اور بچوں کے درمیان گفتگو کم ہو جاتی ہے تو دلوں میں فاصلے پیدا ہو جاتے ہیں۔ بچے اپنی بات چھپانے لگتے ہیں اور والدین اپنے فیصلے مسلط کرنے لگتے ہیں۔ یوں ایک چھوٹا سا "کمیونیکیشن گیپ" آہستہ آہستہ "جنریشن گیپ" میں بدل جاتا ہے۔ اگر ہم مان لیں کہ یہ فرق ختم نہیں کیا جا سکتا، تو کم از کم اسے سمجھداری سے کم ضرور کیا جا سکتا ہے۔ اس کا حل یہ ہے کہ دونوں نسلیں ایک دوسرے کی بات سننے اور سمجھنے کی کوشش کریں۔ نوجوان بڑوں کے تجربے کی قدر کریں، اور بزرگ نئی سوچ کو قبول کریں۔ ایک ساتھ وقت گزارنا، تحمل سے گفتگو کرنا اور رویوں میں نرمی لانا ان فاصلو‌ں کو کم کر سکتا ہے۔ جنریشن گیپ دراصل دشمنی نہیں، بلکہ سوچ کا فرق ہے۔ اگر نیت سمجھنے کی ہو، تو ہم آہنگی ممکن ہے اور مضبوط رشتے ہی مضبوط معاشرے کی بنیاد بنتے ہیں۔ شاید یہی وقت ہے کہ جنریشن ایکس مسکرا کر جنریشن الفا سے یہ سوال کرے: تمہارے خیال میں ہم ایک دوسرے کو سمجھنے کے کتنے قریب آ گئے ہیں؟

درمیان کی دیواریں : نسلوں کا فیصلہ اور فہم کا بحران

جنریشن  گیپ درحقیقت نسلوں کی رائے میں فرق ہے۔ آج کے دور میں نئی اور پرانی نسل کے درمیان سوچ، رویے،اقدار اور  نظریات میں بہت فرق پایا جاتا ہے۔ ہر نسل کے سوچنے کا انداز ضروریات اور طریقے، ترجیحات، زبان، لباس، ٹیکنالوجی کا استعمال اور دنیا کو دیکھنے کا نظریہ بدلتا جا رہاہے. اس  تبدیلی کی وجہ سے نئی اور پرانی نسل کے درمیان سوچ کا فرق پیدا ہوتا ہے۔   اس سوچ کے فرق کو جنریشن گیپ یا  نسلی خلیج کہا جاتا ہے۔  یہ خلیج اکثر والدین اور بچوں کے درمیان غلط فہمیاں،  اختلافات، تلخیاں اور فاصلہ پیدا کرتی ہیں۔ درحقیقت اسی کو جنریشن گیپ کہا جاتا ہے۔   20 بیسویں صدی کے بعد ماہرین سماجات نے دنیا میں ہونے والی بڑی تبدیلیوں  مثلا جنگیں، صنعتی انقلاب، ٹیکنالوجی ، میڈیا اور بدلتی ہوئی تہذیبوں کو محسسوس کیا کے یہ انسان کی سوچ پر  گہرا اثر ڈالتی ہیں۔ ان بدلتےذہنی مزاجوں  کو سمجھنے کے لیے 1960 کی  دہائی میں انسان کی نسلوں کو جنریشنز  میں تقسیم کیا گیا۔
  جنگ کے بعد کی نسل  بے بیی بومرز اپنے والدین کے عقائد سے ہٹنا شروع ہوئے، تو سماجی ماہرین نے مشاہدہ کیا کہ یہ نوجوان کھلے عام سوال کر رہیں ہیں۔ اور اپنے والدین کی بہت  اقدار کے خلاف بغاوت کر رہے ہیں۔ جس کی وجہ سے نقطہ  نظر میں ایک بحث کا موضوع بن گیا ہے۔ نسلوں کی تاریخ،کرداروں اور طرز زندگی کو مدنظر رکھتے ہوئے ہر نسل کو ایک الگ شناخت اور نام دیا گیا ہے۔                
Greatest Generation (1901–1927)
جنریشن گریٹسٹ  
یہ وہ نسل تھی جس نے پہلی اور دسری جنگِ عظیم کے مشکل ترین حالات دیکھے۔ اس دور کے لوگ قربانی، سادگی، محنت اور خدمتِ وطن کے جذبے سے بھرپور تھے۔ انہوں نے اپنے ممالک کی حفاظت، جنگ کے بعد معیشت کی بحالی اور دنیا میں امن قائم کرنے کے لیے بھرپور کردار ادا کیا۔ معاشی بدحالی، بھوک، جنگ اور تباہی کے باوجود اس نسل نے مضبوط اعصاب کا مظاہرہ کیا اور آنے والی نسلوں کے لیے بنیادیں رکھیں۔

 Silent Generation (1928–1945)
خاموش جنریشن  یا روایتی جنریشن  
یہ نسل جنگِ عظیم کے فوراً بعد ایک خاموش اور سنجیدہ دور میں پلی بڑھی۔ جنگوں کے اثرات، خوف اور غیر یقینی حالات نے انہیں ذمہ دار، اصول پسند اور برداشت کرنے والا بنا دیا۔ انہوں نے معیشت کی بحالی، صنعتی ترقی، اخلاقی اقدار اور خاندانی نظام کو مضبوط رکھنے میں بڑا کردار ادا کیا۔ یہ نسل روایات کی پابند سمجھی جاتی ہے۔

Baby Boomers (1946–1964)
بیبی بومرز جنریشن 
جنگ کے بعد دنیا میں پیدا ہونے والی یہ نسل ساتھ رہنے، خاندان بنانے اور مستقبل بہتر کرنے کی علامت بنی۔ معاشی ترقی، سائنسی ایجادات، نئی ملازمتوں اور بہتر طرزِ زندگی کے دروازے اسی دور میں کھلے۔ بیبی بومرز نے صنعت، تعلیم، سیاست اور سوشل اسٹرکچر کو نئے دور میں داخل کیا اور محنت و یقین کی طاقت سےکامیابی حاصل کرنے کے راستے بنائے۔

 Generation X (1965–1980)

           جنریشن ایکس   X    
اس نسل نے تیزی سے بدلتی دنیا، نئے معاشی نظام اور بڑھتے ہوئے مالی خرچوں  کو سمجھتے ہوئے عملی اور ذمہ دار سوچ اپنائی۔ انہوں نے ٹیکنالوجی، کمپیوٹر اور معلوماتی نظام کی بنیاد مضبوط کی۔ یہ نسل نہایت خودمختار، فیصلہ ساز اور  کام میں متوازن رکھنے کی قائل ہے۔ جنرل ایکس نے آگے آنے والی ڈیجیٹل دنیا کی تیاری کی۔
                                                    
Millennials / Gen Y (1981–1996)
            میلینیئلز یا جنریشن وائے  Y  
یہ پہلی نسل تھی جس نے انٹرنیٹ کے آغاز کے ساتھ آنکھ کھولی۔ اس نسل کو جنریشن میلینیئلز یا جنریشن وائے بھی کہا جاتا ہے۔ اس نسل نے آزادیِ رائے، خودمختاری، ٹیلنٹ اور ٹیکنالوجی کو اپنایا۔ موبائل فون، لیپ ٹاپ اور سوشل میڈیا کا ابتدائی دور اسی وقت سامنے آیا۔ ملینیئلز  ذہین، اور نئی سوچ رکھنے والے لوگ ہیں جنہوں نے روایتی نظام کے بجائے ڈیجیٹل لائف اسٹائل متعارف کروایا۔

 Generation Z (1997–2012)
جنریشن زیڈ   Z   
یہ جنریشن سوشل میڈیا اور اسمارٹ فون کی پیداوار ہے۔ اس نسل کی سوچ تیز رفتار، خود اعتمادی زیادہ اور برداشت نسبتا کم سمجھی جاتی ہے۔ یہ لوگ ٹرینڈز، انفلوئنسر کلچر، میڈیا اور فوری معلومات سے متاثر ہوتے ہیں۔ ڈیجیٹل اسکلز، آن لائن بزنس، ای–لرننگ اور سوشل ایکٹو ازم ان کی نمایاں پہچان ہے۔

Generation Alpha (2013–2024)
جنریشن الفا
جنریشن الفا وہ بچے ہیں جو جدید ٹیکنالوجی کے دور میں پیدا ہوئے ہیں۔ یہ وہ نسل ہے جو بولنا سیکھنے سے پہلے ہی موبائل، ٹیبلٹ اور سمارٹ ڈیوائسز استعمال کرتی نظر آتی ہے۔ یہ بچے بہت تیز سیکھنے والے ہیں اور ڈیجیٹل دنیا میں خود کو جلد ڈھال لیتے ہیں۔ لیکن اسی کے ساتھ ان میں باہر کھیلنے، بات چیت کرنے اور سماجی میل جول کی عادت کم ہوتی جا رہی ہے۔ ان کے لیے ضروری ہے کہ ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ اصل زندگی کے تجربات سے بھی سیکھے

Generation Beta (2025–2039 )
جنریشن بیٹا 
یہ آنے والی  نسل ہے، جس کے بارے میں ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ مکمل AI، روبوٹکس، اسپیس ٹیکنالوجی اور خودکار نظام کے دور میں زندگی گزارے گی۔ ان کی دنیا میں میٹا ورس، آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور اسمارٹ مشینیں مرکزی کردار نبھائیں گی ہر نسل اپنے اپنے رجحانات طے کرتی ہے۔ اور اس کا اپنا ثقافتی اثر ہے۔ جار ج  آرویل نے کہا تھا کہ ہر نسل اپنے آپ کو ذہین سمجھتی ہے۔کہ اگلی نسل سے زیادہ عقلمند ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ جنریشن گپ میں سب سے بڑا کردار ٹیکنالوجی نے ادا کیا ہے۔ ٹیکنالوجی نے نسلوں کے درمیان پیدا ہونے والے فاصلے  بڑھا دیے ۔    ٹیکنالوجی نے زندگی کے ہر شعبے کو اس قدر بدل دیا ہے کہ آج کی نوجوان نسل کا طرز فکر،  طرز گفتگو اور مسائل کو حل کرنے کا طریقہ پچھلی نسلوں سے بالکل مختلف ہو چکا ہے۔ نئی نسل انٹرنیٹ ،سمارٹ فون،سوشل میڈیا اور جدید الآت کے ذریعے لمحوں میں معلومات حاصل کر لیتی ہے۔  رفتار ٹیکنالوجی کی وجہ سے فورا سیکھنے،سمجھنے اور فیصلہ کرنے کی عادی  ہو گئی ہے ۔ جب کہ پرانی نسل  نے جس دور میں زندگی گزاری  وہاں رابطے، تعلیم اور معلومات حاصل کرنے کے ذرائع محدود تھے۔ پرانے لوگ روایات،سادگی اور اصولوں پر زیادہ عمل کو اہمیت دیتے تھے۔ اور انکے نزدیک تحمل و تجربہ اور مشاہدہ سیکھنے کے بنیادی ذرائع تھے۔ جبکہ نئی نسل نے خود کو  ٹیکنالوجی کے ذریعے دنیا سے جوڑ رکھا ہے۔    اسی فرق نے سوچ،رویوں اور طرز زندگی میں واضح تبدیلیاں پیدا کی ہیں۔ جس کے نتیجے میں نظریات کا ٹکراؤ اور فاصلہ بڑھ ۔
درحقیقت نسلوں میں فرق صرف عمر کا نہیں بلکہ سوچ، زبان، تہذیب اور ٹیکنالوجی کے بدلنے کا بھی ہے۔میرے خیال سے  اصل مسئلہ "بات چیت" کی کمی ہے، جب والدین اور بچوں کے درمیان گفتگو کم ہو جاتی ہے تو دلوں میں فاصلے پیدا ہو جاتے ہیں۔ بچے اپنی بات چھپانے لگتے ہیں اور والدین اپنے فیصلے مسلط کرنے لگتے ہیں۔ یوں ایک چھوٹا سا "کمیونیکیشن گیپ" آہستہ آہستہ "جنریشن گیپ" میں بدل جاتا ہے۔
اگر ہم مان لیں کہ یہ فرق ختم نہیں کیا جا سکتا، تو کم از کم اسے سمجھداری سے کم ضرور کیا جا سکتا ہے۔ اس کا حل یہ ہے کہ دونوں نسلیں ایک دوسرے کی بات سننے اور سمجھنے کی کوشش کریں۔ نوجوان بڑوں کے تجربے کی قدر کریں، اور بزرگ نئی سوچ کو قبول کریں۔ ایک ساتھ وقت گزارنا، تحمل سے گفتگو کرنا اور رویوں میں نرمی لانا ان فاصلو‌ں کو کم کر سکتا ہے۔
جنریشن گیپ دراصل دشمنی نہیں، بلکہ سوچ کا فرق ہے۔ اگر نیت سمجھنے کی ہو، تو ہم آہنگی ممکن ہے اور مضبوط رشتے ہی مضبوط معاشرے کی بنیاد بنتے ہیں۔

شاید یہی وقت ہے کہ جنریشن ایکس مسکرا کر  جنریشن الفا سے یہ سوال کرے:
تمہارے خیال میں ہم ایک دوسرے کو سمجھنے کے کتنے قریب آ گئے ہیں؟

 

 

 


Related News

گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل نے علی مدد جتک سے صوبائی وزیر کے عہدے کا حلف لے لیا
گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل نے علی مدد جتک سے صوبائی وزیر کے عہدے کا حلف لے لیا
کوئٹہ: گورنر ہاؤس کوئٹہ میں منعقدہ سادہ مگر پروقار تقریب میں رکن صوبائی اسمبلی علی مدد جتک نے صوبائی وزیر کے ع...
ہارڈیننگ  آف دی سٹیٹ کانفرنس کے 21 ویں اجلاس میں صوبائی و وفاقی اداروں کی مشترکہ کوششوں پر  غور اور بلوچستان کے روشن مستقبل  کیلئے عزم مصمم کا اظہار
ہارڈیننگ  آف دی سٹیٹ کانفرنس کے 21 ویں اجلاس میں صوبائی و وفاقی اداروں کی مشترکہ کوششوں پر  غور اور بلوچستان کے روشن مستقبل  کیلئے عزم مصمم کا اظہار
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت ریاستی دفاعی کانفرنس (ہارڈننگ آف دی اسٹیٹ کانفرنس) کا 21 واں...
ڈپٹی اسپیکر بلوچستان نے ذوالفقار علی بھٹو کی 98ویں سالگرہ کی تقریب میں شرکت کی
ڈپٹی اسپیکر بلوچستان نے ذوالفقار علی بھٹو کی 98ویں سالگرہ کی تقریب میں شرکت کی
کراچی/ کوئٹہ :    ڈپٹی اسپیکر بلوچستان غزالہ گولہ نے زرداری ہاؤس کراچی میں قائد عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو کی...
ریاست مخالف گمراہ کن پروپیگنڈا انتشار اور تشدد کو جنم دیتا ہے، مؤثر تدارک ناگزیر ہے: وزیر اعلیٰ بلوچستان
ریاست مخالف گمراہ کن پروپیگنڈا انتشار اور تشدد کو جنم دیتا ہے، مؤثر تدارک ناگزیر ہے: وزیر اعلیٰ بلوچستان
کوئٹہ: وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ ریاست کے خلاف بے بنیاد اور گمراہ کن پروپیگنڈا معاشرے م...
عدالتِ عالیہ بلوچستان: 2025 کے دوران ہزاروں مقدمات کے فیصلے، رپورٹ جاری
عدالتِ عالیہ بلوچستان: 2025 کے دوران ہزاروں مقدمات کے فیصلے، رپورٹ جاری
کوئٹہ: عدالتِ عالیہ بلوچستان نے سال 2025 کے دوران زیرِ التواء مقدمات اور فیصلوں سے متعلق تفصیلی رپورٹ جاری کر...
بلوچستان میں بارشوں اور برفباری کے باعث پی ڈی ایم اے اور ریسکیو ٹیمیں ہائی الرٹ، ہیوی مشینری تعینات
بلوچستان میں بارشوں اور برفباری کے باعث پی ڈی ایم اے اور ریسکیو ٹیمیں ہائی الرٹ، ہیوی مشینری تعینات
بلوچستان کے مختلف علاقوں میں جاری بارشوں اور برفباری کے پیش نظر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے)...