کوئٹہ: گورنر ہاؤس کوئٹہ میں منعقدہ سادہ مگر پروقار تقریب میں رکن صوبائی اسمبلی علی مدد جتک نے صوبائی وزیر کے عہدے کا حلف اٹھایا۔ گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل نے ان سے حلف لیا۔ تقریب میں وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی، اسپیکر بلوچستان اسمبلی کیپٹن (ر) عبدالخالق اچکزئی، صوبائی وزراء، اراکین صوبائی اسمبلی، چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان، صوبائی سیکرٹریز اور دیگر معزز شخصیات نے شرکت کی۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت ریاستی دفاعی کانفرنس (ہارڈننگ آف دی اسٹیٹ کانفرنس) کا 21 واں اجلاس کوئٹہ میں منعقد ہوا۔کور کمانڈر بلوچستان لیفٹیننٹ جنرل راحت نسیم احمد خان بھی اس موقع پر موجود تھے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ کانفرنس گزشتہ ڈیڑھ سال سے باقاعدگی سے ہو رہی ہے جو صوبے میں امن و استحکام کے لیے ایک موثر پلیٹ فارم ثابت ہوئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تقریباً ہر 21 دن بعد ہونے والے اس اجلاس کا بنیادی مقصد پچھلی کانفرنس میں کیے گئے فیصلوں پر عمل درآمد کی پیشرفت کو یقینی بنانا ہے اجلاس میں وفاقی و صوبائی اداروں اور محکموں کے علاوہ سیکورٹی فورسز (پاکستان آرمی، فرنٹیئر کور، پاکستان کوسٹ گارڈ) کے نمائندگان نے شرکت کی۔ اجلاس میں صوبے میں اینٹی سمگلنگ اور اینٹی نارکوٹکس آپریشنز پر خصوصی توجہ دی گئی اور ان مضر سرگرمیوں کے خلاف کارروائیوں کو تیز کرنے پر زور دیا گیا شرکاء نے "بی ایریاز ٹو اے ایریاز کنورژن”کے حوالے سے اطمینان کا اظہار کیا۔ اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ صوبے کے تمام ڈویژنز میں اس حکمت عملی کی مؤثریت کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے گی تاکہ ترقیاتی فوائد ہر علاقے تک پہنچ سکیں اور امن و خوشحالی کی فضا کو مستحکم کیا جا سکے اجلاس میں صوبے میں مجموعی سلامتی کی صورتحال، ترقیاتی منصوبوں کی پیشرفت اور عوام کی فلاح و بہبود کے امور پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیااور اس امر کا اعادہ کیا گیا کہ بلوچستان کے درخشندہ مستقبل کیلئے اب ایسی ہی موثر حکمت عملی پر عمل پیرا ہوا جائے گا۔
کراچی/ کوئٹہ : ڈپٹی اسپیکر بلوچستان غزالہ گولہ نے زرداری ہاؤس کراچی میں قائد عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو کی 98ویں سالگرہ کی تقریب میں شرکت کی۔ پیپلز پارٹی شعبہ خواتین کی صدر ادی فریال تالپور نے کیک کاٹا۔ تقریب میں دیگر معزز اراکین اسمبلی بھی موجود تھے اور بھٹو کی جمہوری جدوجہد اور خواتین کے حقوق کے فروغ میں کردار کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔
کوئٹہ: وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ ریاست کے خلاف بے بنیاد اور گمراہ کن پروپیگنڈا معاشرے میں انتشار، عدم استحکام اور تشدد کو جنم دیتا ہے، جس کا مؤثر تدارک وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ معاشرے کے تمام طبقات، بالخصوص نوجوانوں کو درست سمت دکھانا اور حقائق سے آگاہ کرنا ناگزیر ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کے روز بلوچستان سینٹر آف ایکسیلینس آن کاؤنٹر وائلنٹ ایکسٹریزم کے بورڈ آف گورننس کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ حمزہ شفقات، آئی جی پولیس بلوچستان محمد طاہر خان، پرنسپل سیکرٹری بابر خان، سیکرٹری خزانہ عمران زرکون، ڈی آئی جی سی ٹی ڈی اعتزاز گورایا، ڈی جی لیویز عبدالغفار مگسی اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ یہ سینٹر تحقیق، آگاہی اور انسدادِ تشدد کے لیے ایک مؤثر اور مضبوط پلیٹ فارم ثابت ہوگا جو انتہاپسندانہ رجحانات کے سدباب اور مثبت بیانیے کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ انتہاپسندی کے تدارک کے لیے ادارہ جاتی تعاون، مربوط حکمتِ عملی اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ اقدامات ناگزیر ہیں۔
میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ تعلیمی اداروں اور سوشل میڈیا کے ذریعے مثبت، تعمیری اور حقیقت پر مبنی بیانیے کو فروغ دیا جائے گا تاکہ نوجوان نسل کو گمراہ کن عناصر کے اثرات سے محفوظ رکھا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ پائیدار امن و امان کے قیام کے لیے نوجوانوں کی شمولیت اور شعور بیداری نہایت ضروری ہے اور صوبائی حکومت اس ضمن میں جامع اقدامات کر رہی ہے۔
اجلاس میں بلوچستان میں امن و امان کی مجموعی صورتحال، انتہاپسندی کے خلاف جاری اقدامات اور مستقبل کی حکمتِ عملی پر تفصیلی غور کیا گیا، جبکہ متعلقہ اداروں کو باہمی ہم آہنگی کے ساتھ مؤثر اقدامات کی ہدایت بھی کی گئی۔
دریں اثنا، سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ پورے صوبے میں لیویز فورس کو پولیس میں ضم کر دیا گیا ہے، جس سے یکساں قانون کے نفاذ سے متعلق ایک دیرینہ انتظامی ابہام ختم ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس فیصلے سے ریاستی ذمہ داری مزید واضح ہوئی ہے اور عوام کے تحفظ کا دائرہ مزید مضبوط ہوگا۔
کوئٹہ: عدالتِ عالیہ بلوچستان نے سال 2025 کے دوران زیرِ التواء مقدمات اور فیصلوں سے متعلق تفصیلی رپورٹ جاری کر دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، سال 2025 کے آغاز پر عدالتِ عالیہ بلوچستان میں زیرِ التواء مقدمات کی تعداد 5,272 تھی۔ سال کے دوران 6,926 نئے مقدمات درج ہوئے جبکہ اسی عرصے میں 5,813 مقدمات کے فیصلے کیے گئے۔ یوں 31 دسمبر 2025 تک عدالتِ عالیہ میں زیرِ التواء مقدمات کی مجموعی تعداد 6,385 رہ گئی۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ صوبے کی ماتحت عدالتوں میں سال 2025 کے آغاز پر زیرِ التواء مقدمات کی تعداد 18,685 تھی۔ دورانِ سال 62,393 نئے مقدمات دائر کیے گئے جبکہ 62,654 مقدمات نمٹائے گئے۔ اس طرح سال کے اختتام پر ماتحت عدالتوں میں زیرِ التواء مقدمات کی تعداد کم ہو کر 18,424 رہ گئی۔
عدالتِ عالیہ بلوچستان کے مطابق، یہ اعداد و شمار عدالتی نظام میں بہتری، مقدمات کی بروقت سماعت اور عوام کو انصاف کی فراہمی کے عزم کی عکاسی کرتے ہیں۔
بلوچستان کے مختلف علاقوں میں جاری بارشوں اور برفباری کے پیش نظر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے ریسکیو ٹیموں کو متحرک کر دیا ہے۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے ضلعی انتظامیہ کو پیشگی الرٹ جاری کیا گیا تھا تاکہ کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال سے بروقت نمٹا جا سکے۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق ممکنہ متاثرہ علاقوں میں ہیوی مشینری تعینات کر دی گئی ہے تاکہ برفباری یا دیگر وجوہات کے باعث سڑکوں پر ٹریفک کی روانی متاثر ہونے کی صورت میں فوری طور پر راستے کھولے جا سکیں۔ کان مہترزئی، کوژک ٹاپ اور دیگر اہم مقامات پر ریسکیو ٹیمیں اور مشینری موجود ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری کارروائی یقینی بنائی جا سکے۔ ریسکیو ٹیمیں 24 گھنٹے عوام کی خدمت کے لیے الرٹ ہیں اور صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے تاکہ شہریوں کو کسی قسم کی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
کوئٹہ: سیول سیکریٹریٹ کوئٹہ میں صوبائی وزیر خوراک اور چیئرمین فوڈ اتھارٹی حاجی نورمحمد خان دومڑ نے عوامی مسائل کے فوری حل کے لیے ایک خصوصی نشست کا انعقاد کیا۔ نشست میں مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد، سرکاری افسران، قبائلی معتبرین، سماجی شخصیات اور دور دراز علاقوں سے آئے ہوئے شہریوں نے شرکت کی۔
اس موقع پر صوبائی وزیر خوراک حاجی نورمحمد خان دومڑ نے نہایت خندہ پیشانی اور توجہ کے ساتھ تمام وفود کے مسائل سنے اور متعلقہ حکام کو فوری احکامات جاری کیے۔ انہوں نے عوام کو یقین دلایا کہ عوامی خدمت ہی ان کی سیاست کا بنیادی مقصد ہے اور عوام کے مسائل کے حل کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ حکومت عوام سے براہِ راست رابطے کو ترجیح دے رہی ہے تاکہ مسائل کو موقع پر ہی حل کیا جا سکے۔ شرکاء نے عوامی مسائل کے حل کے لیے اس اقدام کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ایسے اجلاس مستقبل میں بھی تسلسل کے ساتھ منعقد کیے جائیں گے۔
اسلام آباد: وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے وزارتِ تجارت کا پہلا پوڈکاسٹ "ہارٹیکلچر ہورائزنز" لانچ کر دیا، جو باغبانی شعبے میں ڈیجیٹل انقلاب کا پیش خیمہ ثابت ہوگا۔ اس کا مقصد کسانوں، برآمد کنندگان اور پالیسی سازوں کے لیے جدید زرعی تجربات کا تبادلہ اور عالمی ماہرین سے گفتگو فراہم کرنا ہے۔
اس موقع پر وزیرِ تجارت نے پاکستان کی باغبانی برآمدات کو 2 ارب ڈالر تک پہنچانے کے حکومت کے عزم کا بھی اظہار کیا۔
کوئٹہ: کمشنر کوئٹہ ڈویژن شاہزیب خان کاکڑ نے کوئٹہ ڈویلپمنٹ پیکج کے تحت شہر کے مختلف علاقوں میں جاری ترقیاتی کاموں کا معائنہ کیا۔ اس موقع پر ڈائریکٹر کوئٹہ ڈویلپمنٹ پراجیکٹ ظہور احمد اور ڈپٹی پراجیکٹ ڈائریکٹر کیو ڈی اے عابد محمود بھی موجود تھے۔
کمشنر نے پرنس روڈ، زرغون روڈ اور اسمنگلی روڈ فلائی اوور پر جاری کاموں کا جائزہ لیا اور حکام کو ہدایت کی کہ منصوبے جلد از جلد مکمل کیے جائیں تاکہ شہریوں کو سفری مشکلات سے ریلیف ملے۔ انہوں نے کہا کہ فلائی اوور کی تکمیل سے ٹریفک کے دباؤ میں واضح کمی آئے گی اور تمام متعلقہ ادارے دستیاب وسائل بروئے کار لائیں تاکہ عام شہریوں کو کسی بھی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
کوئٹہ : گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل نے کہا ہے کہ صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں سعودی عرب کے قونصل خانے کے قیام سے بلوچستان کے عوام کو حج اور عمرہ سمیت متعدد سہولیات میسر آئیں گی اور پاکستان و سعودی عرب کے تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔
گورنر بلوچستان نے یہ بات گورنر ہاؤس کوئٹہ میں مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے قائم مقام امیر ڈاکٹر علی محمد ابو تراب کی قیادت میں آنے والے وفد سے ملاقات کے دوران کہی۔
ملاقات میں وفد نے یونیورسٹی آف بلوچستان میں عربی زبان کا شعبہ قائم کرنے کا مطالبہ کیا، جس کا مقصد عرب ممالک میں کام کرنے والے بلوچستان کے شہریوں کو سہولت فراہم کرنا ہے۔
گورنر بلوچستان نے وفد کو یقین دلایا کہ اس سلسلے میں صوبائی حکومت مکمل تعاون کرے گی۔
کوئٹہ : گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل نے کہا ہے کہ جمہوریت اور آزاد صحافت کا آپس میں گہرا تعلق ہے اور صحافت ریاست کے چوتھے ستون کے طور پر حکومت اور عوام کے درمیان ایک مؤثر پُل کا کردار ادا کر رہی ہے۔
گورنر بلوچستان نے یہ بات گورنر ہاؤس کوئٹہ میں سماء ٹی وی کے بیورو چیف جلال نورزئی کی قیادت میں آنے والے وفد سے ملاقات کے دوران کہی، جس میں سینئر صحافی شہزادہ ذوالفقار اور کوئٹہ پریس کلب کے صدر عرفان سعید بھی موجود تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہر نیا دور نئی اقدار اور تقاضوں کو جنم دیتا ہے اور میڈیا و جرنلزم کی صنعت کو آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور سوشل میڈیا کی تیز رفتار ترقی کے باعث بڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔
گورنر مندوخیل کے مطابق اگر میڈیا سے وابستہ افراد جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ نہ ہوئے تو ان کے لیے مستقبل میں مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں میڈیا ہاؤسز میں ڈاؤن سائزنگ اس بات کا ثبوت ہے کہ روایتی کاروباری ماڈلز تیزی سے بدل رہے ہیں۔
گورنر بلوچستان نے اس بات پر زور دیا کہ بدلتے ہوئے حالات کو سمجھتے ہوئے جامع حکمت عملی اپنانا ناگزیر ہے، کیونکہ میڈیا کا مستقبل اس کی موافقت اور ارتقائی صلاحیت سے جڑا ہوا ہے۔
کوئٹہ: پولیس ٹریننگ کالج (پی ٹی سی) کوئٹہ میں 104ویں بیج کی پاسنگ آؤٹ پریڈ منعقد ہوئی، جس میں 747 پولیس اہلکاروں نے کامیابی کے ساتھ اپنی تربیت مکمل کی۔
پاس آؤٹ ہونے والوں میں 571 ہیڈ کانسٹیبلز شامل تھے جنہوں نے لوئر کورس مکمل کیا، جبکہ 135 ریکروٹ کانسٹیبلز اور 41 ریکروٹ لیڈی کانسٹیبلز نے بھی اپنی تربیت مکمل کی۔
تقریب کے مہمانِ خصوصی وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد خان بگٹی تھے۔ اس موقع پر آئی جی بلوچستان محمد طاہر، پولیس کے اعلیٰ افسران اور سول اداروں کے نمائندگان بھی موجود تھے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد خان بگٹی نے کہا کہ آج پاس آؤٹ ہونے والے تمام پولیس اہلکار ہمارے بیٹے اور بیٹیاں ہیں، جنہیں دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ پولیس ٹریننگ کالج پر دہشت گرد حملے کی رات وہ سب سے پہلے موقع پر پہنچے تھے اور آج بھی ان عظیم شہداء کی یاد دل کو رنجیدہ کر دیتی ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ دہشت گردوں کا پولیس ٹریننگ کالج بند کرنے کا خواب چکنا چور ہو چکا ہے۔ آج یہاں نہ صرف ہمارے نوجوان بلکہ ہماری بیٹیاں بھی جدید اور پیشہ ورانہ تربیت حاصل کر رہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کچھ عناصر بلوچ نوجوانوں کو لاحاصل جنگ کی طرف دھکیلنا چاہتے ہیں، مگر بلوچستان پولیس دہشت گردی کے خلاف سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ریاستِ پاکستان تاقیامت ایک مضبوط چٹان کی طرح قائم و دائم رہے گی۔
تقریب کے دوران تربیت میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے اہلکاروں میں انعامات تقسیم کیے گئے۔ آئی جی بلوچستان محمد طاہر نے وزیر اعلیٰ بلوچستان کو یادگاری شیلڈ اور سووینئر پیش کیا، جبکہ کمانڈنٹ پی ٹی سی شہزاد اکبر نے آئی جی بلوچستان کو اعزازی شیلڈ اور سووینئر پیش کیا۔
تقریب کے اختتام پر وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد خان بگٹی نے پولیس ٹریننگ کالج کوئٹہ میں نئی تعمیر شدہ پولیس میس، والی بال گراؤنڈ اور کرکٹ گراؤنڈ کا افتتاح بھی کیا۔
کوئٹہ : گورنر بلوچستان شیخ جعفر مندوخیل نے کوئٹہ انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر زاہدان-کوئٹہ افتتاحی فلائٹ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انٹرنیشنل فلائٹس کا ایک نیا دور شروع ہو گیا ہے، جس کے ذریعے کوئٹہ اور زاہدان براہ راست منسلک ہو گئے ہیں۔تقریب میں ایرانی قونصل جنرل محمد کریمی تودشکی، صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ، پارلیمانی سیکرٹری حاجی برکت رند، رابعہ خواجہ خیل اور کوئٹہ چیمبر آف کامرس کے نمائندے بھی موجود تھے۔گورنر بلوچستان نے کہا کہ کچھ عرصہ قبل انہوں نے کوئٹہ انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے سعودی عرب کے لیے خصوصی عمرہ فلائٹ کا افتتاح کیا تھا اور آج زاہدان-کوئٹہ ایران ائیر فلائٹ کے آغاز میں بطور مہمان خصوصی شرکت کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انٹرنیشنل فلائٹس کے آغاز سے پورے خطے میں رابطوں کو فروغ ملے گا شیخ جعفر مندوخیل نے مزید کہا کہ ان کی کوشش ہے کہ کوئٹہ کے بین الاقوامی پروازوں کے نیٹ ورک کو خطے کے دیگر ممالک تک بڑھایا جائے تاکہ بلوچستان کے عوام آسان اور قابل رسائی ہوائی سفر سے فائدہ اٹھا سکیں، اور کوئٹہ کو ایک اہم تجارتی اور سیاحتی مرکز بنایا جا سکے۔گورنر کے مطابق، زاہدان-کوئٹہ خصوصی فلائٹ کا آغاز ایک "لائق تحسین اقدام" ہے، کیونکہ اس سے قبل مسافر اور زائرین ایران اور عراق جانے کے لیے زمینی راستے استعمال کرنے پر مجبور تھے۔ اب ہوائی سفر کی سہولت سے یہ مسئلہ حل ہو جائے گا اور ایران میں مقیم پاکستانیوں کے لیے بھی سہولت میسر آئے گی۔
جنریشن گیپ درحقیقت نسلوں کی رائے میں فرق ہے۔ آج کے دور میں نئی اور پرانی نسل کے درمیان سوچ، رویے،اقدار اور نظریات میں بہت فرق پایا جاتا ہے۔ ہر نسل کے سوچنے کا انداز ضروریات اور طریقے، ترجیحات، زبان، لباس، ٹیکنالوجی کا استعمال اور دنیا کو دیکھنے کا نظریہ بدلتا جا رہاہے. اس تبدیلی کی وجہ سے نئی اور پرانی نسل کے درمیان سوچ کا فرق پیدا ہوتا ہے۔ اس سوچ کے فرق کو جنریشن گیپ یا نسلی خلیج کہا جاتا ہے۔ یہ خلیج اکثر والدین اور بچوں کے درمیان غلط فہمیاں، اختلافات، تلخیاں اور فاصلہ پیدا کرتی ہیں۔ درحقیقت اسی کو جنریشن گیپ کہا جاتا ہے۔ 20 بیسویں صدی کے بعد ماہرین سماجات نے دنیا میں ہونے والی بڑی تبدیلیوں مثلا جنگیں، صنعتی انقلاب، ٹیکنالوجی ، میڈیا اور بدلتی ہوئی تہذیبوں کو محسسوس کیا کے یہ انسان کی سوچ پر گہرا اثر ڈالتی ہیں۔ ان بدلتےذہنی مزاجوں کو سمجھنے کے لیے 1960 کی دہائی میں انسان کی نسلوں کو جنریشنز میں تقسیم کیا گیا۔
جنگ کے بعد کی نسل بے بیی بومرز اپنے والدین کے عقائد سے ہٹنا شروع ہوئے، تو سماجی ماہرین نے مشاہدہ کیا کہ یہ نوجوان کھلے عام سوال کر رہیں ہیں۔ اور اپنے والدین کی بہت اقدار کے خلاف بغاوت کر رہے ہیں۔ جس کی وجہ سے نقطہ نظر میں ایک بحث کا موضوع بن گیا ہے۔ نسلوں کی تاریخ،کرداروں اور طرز زندگی کو مدنظر رکھتے ہوئے ہر نسل کو ایک الگ شناخت اور نام دیا گیا ہے۔
Greatest Generation (1901–1927)
جنریشن گریٹسٹ
یہ وہ نسل تھی جس نے پہلی اور دسری جنگِ عظیم کے مشکل ترین حالات دیکھے۔ اس دور کے لوگ قربانی، سادگی، محنت اور خدمتِ وطن کے جذبے سے بھرپور تھے۔ انہوں نے اپنے ممالک کی حفاظت، جنگ کے بعد معیشت کی بحالی اور دنیا میں امن قائم کرنے کے لیے بھرپور کردار ادا کیا۔ معاشی بدحالی، بھوک، جنگ اور تباہی کے باوجود اس نسل نے مضبوط اعصاب کا مظاہرہ کیا اور آنے والی نسلوں کے لیے بنیادیں رکھیں۔
Silent Generation (1928–1945)
خاموش جنریشن یا روایتی جنریشن
یہ نسل جنگِ عظیم کے فوراً بعد ایک خاموش اور سنجیدہ دور میں پلی بڑھی۔ جنگوں کے اثرات، خوف اور غیر یقینی حالات نے انہیں ذمہ دار، اصول پسند اور برداشت کرنے والا بنا دیا۔ انہوں نے معیشت کی بحالی، صنعتی ترقی، اخلاقی اقدار اور خاندانی نظام کو مضبوط رکھنے میں بڑا کردار ادا کیا۔ یہ نسل روایات کی پابند سمجھی جاتی ہے۔
Baby Boomers (1946–1964)
بیبی بومرز جنریشن
جنگ کے بعد دنیا میں پیدا ہونے والی یہ نسل ساتھ رہنے، خاندان بنانے اور مستقبل بہتر کرنے کی علامت بنی۔ معاشی ترقی، سائنسی ایجادات، نئی ملازمتوں اور بہتر طرزِ زندگی کے دروازے اسی دور میں کھلے۔ بیبی بومرز نے صنعت، تعلیم، سیاست اور سوشل اسٹرکچر کو نئے دور میں داخل کیا اور محنت و یقین کی طاقت سےکامیابی حاصل کرنے کے راستے بنائے۔
Generation X (1965–1980)
جنریشن ایکس X
اس نسل نے تیزی سے بدلتی دنیا، نئے معاشی نظام اور بڑھتے ہوئے مالی خرچوں کو سمجھتے ہوئے عملی اور ذمہ دار سوچ اپنائی۔ انہوں نے ٹیکنالوجی، کمپیوٹر اور معلوماتی نظام کی بنیاد مضبوط کی۔ یہ نسل نہایت خودمختار، فیصلہ ساز اور کام میں متوازن رکھنے کی قائل ہے۔ جنرل ایکس نے آگے آنے والی ڈیجیٹل دنیا کی تیاری کی۔
Millennials / Gen Y (1981–1996)
میلینیئلز یا جنریشن وائے Y
یہ پہلی نسل تھی جس نے انٹرنیٹ کے آغاز کے ساتھ آنکھ کھولی۔ اس نسل کو جنریشن میلینیئلز یا جنریشن وائے بھی کہا جاتا ہے۔ اس نسل نے آزادیِ رائے، خودمختاری، ٹیلنٹ اور ٹیکنالوجی کو اپنایا۔ موبائل فون، لیپ ٹاپ اور سوشل میڈیا کا ابتدائی دور اسی وقت سامنے آیا۔ ملینیئلز ذہین، اور نئی سوچ رکھنے والے لوگ ہیں جنہوں نے روایتی نظام کے بجائے ڈیجیٹل لائف اسٹائل متعارف کروایا۔
Generation Z (1997–2012)
جنریشن زیڈ Z
یہ جنریشن سوشل میڈیا اور اسمارٹ فون کی پیداوار ہے۔ اس نسل کی سوچ تیز رفتار، خود اعتمادی زیادہ اور برداشت نسبتا کم سمجھی جاتی ہے۔ یہ لوگ ٹرینڈز، انفلوئنسر کلچر، میڈیا اور فوری معلومات سے متاثر ہوتے ہیں۔ ڈیجیٹل اسکلز، آن لائن بزنس، ای–لرننگ اور سوشل ایکٹو ازم ان کی نمایاں پہچان ہے۔
Generation Alpha (2013–2024)
جنریشن الفا
جنریشن الفا وہ بچے ہیں جو جدید ٹیکنالوجی کے دور میں پیدا ہوئے ہیں۔ یہ وہ نسل ہے جو بولنا سیکھنے سے پہلے ہی موبائل، ٹیبلٹ اور سمارٹ ڈیوائسز استعمال کرتی نظر آتی ہے۔ یہ بچے بہت تیز سیکھنے والے ہیں اور ڈیجیٹل دنیا میں خود کو جلد ڈھال لیتے ہیں۔ لیکن اسی کے ساتھ ان میں باہر کھیلنے، بات چیت کرنے اور سماجی میل جول کی عادت کم ہوتی جا رہی ہے۔ ان کے لیے ضروری ہے کہ ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ اصل زندگی کے تجربات سے بھی سیکھے
Generation Beta (2025–2039 )
جنریشن بیٹا
یہ آنے والی نسل ہے، جس کے بارے میں ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ مکمل AI، روبوٹکس، اسپیس ٹیکنالوجی اور خودکار نظام کے دور میں زندگی گزارے گی۔ ان کی دنیا میں میٹا ورس، آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور اسمارٹ مشینیں مرکزی کردار نبھائیں گی ہر نسل اپنے اپنے رجحانات طے کرتی ہے۔ اور اس کا اپنا ثقافتی اثر ہے۔ جار ج آرویل نے کہا تھا کہ ہر نسل اپنے آپ کو ذہین سمجھتی ہے۔کہ اگلی نسل سے زیادہ عقلمند ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ جنریشن گپ میں سب سے بڑا کردار ٹیکنالوجی نے ادا کیا ہے۔ ٹیکنالوجی نے نسلوں کے درمیان پیدا ہونے والے فاصلے بڑھا دیے ۔ ٹیکنالوجی نے زندگی کے ہر شعبے کو اس قدر بدل دیا ہے کہ آج کی نوجوان نسل کا طرز فکر، طرز گفتگو اور مسائل کو حل کرنے کا طریقہ پچھلی نسلوں سے بالکل مختلف ہو چکا ہے۔ نئی نسل انٹرنیٹ ،سمارٹ فون،سوشل میڈیا اور جدید الآت کے ذریعے لمحوں میں معلومات حاصل کر لیتی ہے۔ رفتار ٹیکنالوجی کی وجہ سے فورا سیکھنے،سمجھنے اور فیصلہ کرنے کی عادی ہو گئی ہے ۔ جب کہ پرانی نسل نے جس دور میں زندگی گزاری وہاں رابطے، تعلیم اور معلومات حاصل کرنے کے ذرائع محدود تھے۔ پرانے لوگ روایات،سادگی اور اصولوں پر زیادہ عمل کو اہمیت دیتے تھے۔ اور انکے نزدیک تحمل و تجربہ اور مشاہدہ سیکھنے کے بنیادی ذرائع تھے۔ جبکہ نئی نسل نے خود کو ٹیکنالوجی کے ذریعے دنیا سے جوڑ رکھا ہے۔ اسی فرق نے سوچ،رویوں اور طرز زندگی میں واضح تبدیلیاں پیدا کی ہیں۔ جس کے نتیجے میں نظریات کا ٹکراؤ اور فاصلہ بڑھ ۔
درحقیقت نسلوں میں فرق صرف عمر کا نہیں بلکہ سوچ، زبان، تہذیب اور ٹیکنالوجی کے بدلنے کا بھی ہے۔میرے خیال سے اصل مسئلہ "بات چیت" کی کمی ہے، جب والدین اور بچوں کے درمیان گفتگو کم ہو جاتی ہے تو دلوں میں فاصلے پیدا ہو جاتے ہیں۔ بچے اپنی بات چھپانے لگتے ہیں اور والدین اپنے فیصلے مسلط کرنے لگتے ہیں۔ یوں ایک چھوٹا سا "کمیونیکیشن گیپ" آہستہ آہستہ "جنریشن گیپ" میں بدل جاتا ہے۔
اگر ہم مان لیں کہ یہ فرق ختم نہیں کیا جا سکتا، تو کم از کم اسے سمجھداری سے کم ضرور کیا جا سکتا ہے۔ اس کا حل یہ ہے کہ دونوں نسلیں ایک دوسرے کی بات سننے اور سمجھنے کی کوشش کریں۔ نوجوان بڑوں کے تجربے کی قدر کریں، اور بزرگ نئی سوچ کو قبول کریں۔ ایک ساتھ وقت گزارنا، تحمل سے گفتگو کرنا اور رویوں میں نرمی لانا ان فاصلوں کو کم کر سکتا ہے۔
جنریشن گیپ دراصل دشمنی نہیں، بلکہ سوچ کا فرق ہے۔ اگر نیت سمجھنے کی ہو، تو ہم آہنگی ممکن ہے اور مضبوط رشتے ہی مضبوط معاشرے کی بنیاد بنتے ہیں۔
شاید یہی وقت ہے کہ جنریشن ایکس مسکرا کر جنریشن الفا سے یہ سوال کرے:
تمہارے خیال میں ہم ایک دوسرے کو سمجھنے کے کتنے قریب آ گئے ہیں؟